امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت علی علیه السلام کے عظمت کے بارے میں عمر کا اعتراف

حضرت علی علیه السلام کے عظمت کے بارے میں عمر کا اعتراف

شریح قاضی کا  بیان ہے : جب میں عمر بن خطاب کی طرف سے قاضی مقرر تھا تو  ایک دن ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا: ایک شخص نے امانت کے طور پر میرے پاس دو عورتیں چھوڑیں جن میں سے ایک  آزاد اور دوسری کنیز تھی ۔ میں ان دونوں کو ایک ہی گھر میں رکھتا تھا۔ آج صبح جب میں ان کے پاس گیا تو دیکھا کہ دونوں نے بچوں کو جنم دیا ہے،  ایک نے بیٹا اور دوسری نے بیٹی کو جنم دیا ، لیکن دونوں عورتیں بیٹے کی دعویدار ہیں۔ اب آپ فیصلہ کریں۔

شریح کہتا ہے : مجھے اس کا حکم معلوم نہیں تھا ، اس لئے میں عمر بن خطاب کے پاس گیا اور یہ واقعہ اس سے  بیان کیا۔

عمر نے کہا: تم نے کیا فیصلہ کیا ہے ؟

شریح نے جواب دیا: کچھ نہیں؛ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں تمہارے  پاس نہ آتا۔

پھر عمر نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے اصحاب کو جمع کیا اور میں نے اس کے حکم سے یہ واقعہ ان کے سامنے بیان کیا۔ عمر نے اس مسئلے پر ان سے مشورہ کیا، لیکن سب نے اس کا فیصلہ مجھ پر اور عمر  پر چھوڑ دیا۔

عمر بن خطاب نے کہا:میں جانتا ہوں کہ  اس مشکل کا حل کیا ہے اور کس کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔

حاضرین نے کہا:تمہاری مراد علی بن ابی طالب علیہما السلام ہیں؟

عمر نے کہا:ہاں۔

حاضرین نے کہا:کسی کو بھیج دیں کہ وہ انہیں بلا لائے۔

عمر نے کہا:میں ایسا نہیں کروں گا۔ وہ ایک بڑے عالم ہیں اور بنو ہاشم کی طرف سے بھی بلند مقام رکھتے ہیں۔ اٹھو! ہم خود ان کے گھر چلتے ہیں۔

شریح قاضی کہتا ہے:ہم سب علی بن ابی طالب  علیہما السلام کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے باغ میں بیلچہ چلا رہے تھے اور کھیتی باڑی میں مشغول تھے، اور اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے :

أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى.[1]

کیا انسان یہ خیال کرتا ہےکہ اسے بیهوده اور مقصد کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے ؟!

اور وہ مسلسل اشک بہا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد جب سکون ہوا تو عمر بن خطاب اور اس کے ہمراہ دیگر افراد نے علی بن ابی طالب علیہا السلام سے حاضری کی اجازت طلب کی۔

علی بن ابی طالب علیہما السلام خود ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ایک قمیص پہن رکھی تھی جس کی آستین کے نچلا حصہ پھٹا ہوا تھا۔ پھر آپ نے عمر کی طرف دیکھ کر فرمایا: کس کام سے آئے ہو؟

عمر نے کہا:ایک مشکل پیش آئی ہے۔پھر شریح قاضی نے سارا واقعہ بیان کیا۔

پھر علی بن ابی طالب علیہا السلام نے شریح سے فرمایا: تم نے کیا فیصلہ کیا؟

شریح نے عرض کیا: میں اس کا حکم نہیں جانتا۔

حضرت امام علی علیہ السلام  نے اپنے دست مبارک سے کچھ مٹی اٹھائی اور فرمایا:اس مشکل کا حل تو اس مٹی کو اٹھانے سے بھی زیادہ آسان ہے۔ پس آپ نے ان دونوں عورتوں کو بلایا اور ایک برتن بھی منگوایا۔ پھر وہ برتن ان میں سے ایک کو دیا اور فرمایا: اس میں اپنا اپنا دودھ ڈالو۔

جب ان میں سے ایک عورت نے اس برتن میں کچھ مقدار میں اپنا دودھ ڈالا تو حضرت نے اس کا وزن کیا۔ پھر وہ برتن دوسری عورت کو دیا، اس نے بھی اسی مقدار میں اس میں اپنا دودھ  ڈالا  اور حضرت نے اسے بھی وزن کیا۔

پھر جس عورت کا دودھ ہلکا نکلا، اس سے فرمایا: اپنی بیٹی لے جاؤ! اور دوسری سے فرمایا: تم اپنا بیٹا لے جاؤ!

اس موقع پر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے عمر کی طرف رخ کر کے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ خدا نے عورت کو جسمانی اور فکری لحاظ سے مرد سے کم تر پیدا کیا ہے، اور اس کی میراث بھی کم رکھی ہے، اور اسی طرح اس کا دودھ بھی لڑکے کے دودھ سے ہلکا ہوتا ہے؟

عمر نے کہا:اے علی! خلافت آپ کا حق تھا، وہ آپ  تک پہنچنا چاہتی تھی، لیکن تمہاری قوم نے اس سے انکار کیا۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ!’’ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا‘‘[2]بیشک فیصلہ کا دن (یعنی قیامت کا دن) مقررہ وقت ہے۔

ابن شہر آشوب نے اس واقعہ کو حضرت کے ان فیصلوں میں ذکر کیا ہے جو عمر کی خلافت کے زمانے میں پیش آئے۔ پھر وہ کہتے ہیں:اطباء (حکماء/ڈاکٹر) نے اس طریقے کو لڑکے اور لڑکی کی تشخیص کا معیار قرار دیا ہے۔[3]

 


[1] ۔ سورۂ قیامۃ ، آیت :۳۶.

[2] ۔ سورۂ نباء ، آیت :۱۷.

[3] ۔ شرح نهج البلاغه ، ابن ابی الحدید:۳/ ۲۶۰.

بازدید : 4