(2)
اميرالمؤمنين حضرت علی عليه السلام کی بيعت كرنے والے
مہاجروں میں سے اميرالمؤمنين حضرت علی عليه السلام کی بيعت كرنے والوں میں سے ایک جناب عمّار بن ياسر ہیں، جو پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کے خاص اصحاب اور آپ کے خاص دوستوں میں سے ہیں۔ اور آپ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت سے پہلے بھی قابل اعتماد تھے اور آنحضرت کی بعثت کے بعد آپ سب سے زیادہ نصرت کرنے والے افراد میں سے ہیں کہ جو ہمیشہ پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کے احکام و فرامین کی اطاعت میں کوشاں رہے۔ اسلام کے آغاز میں ان کے ماں باپ کو سخت تکالیف پہنچائی گئیں اور اس بارے میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی ان کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا، کسی اور کو اس قدر تکالیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ جس قدر انہوں نے تکالیف کا سامنا کیا لیکن انہوں نے اسلام کے لئے صبر سے کام لیا اور اور راہ خدا میں سرزنش کرنے والوں کی مذمت اور سرزنش کو کوئی اہمیت نہ دی اور وہ آپ ان تمام تر تکالیف اور سختیوں کے باوجود اپنے ایمان پر قائم اور استوار رہے۔ آپ سے پہلے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے کسی صحابی کو اس طرح سے نہیں سراہا اور نہ ہی کسی صحابی کی اس طرح مدح و ستائش کی تھی کہ جس طرح آنحضرت نے انہیں سراہا اور ان کی مدح و ستائش کی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں بہشت کی بشارت دی اور قطعی طور پر آپ کے قاتل کو خبردار کیا اور فرمایا:
عمار کے قاتل کو آتش (جہنم) کی خوشخبری دیتا ہوں۔(2315)
نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل ہونے والی کچھ دوسری روایات (جن پر اہل حدیث و تاریخ متفق ہیں) میں بھی آنحضرت نے جناب عمار کی ستائش میں فرمایا:
بیشک جنت عمار کی مشتاق ہے اور عمار بہشت کے مشتاق ہیں لیکن خود بہشت عمار کی ان سے زیادہ مشتاق ہے۔
نیز رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی یہ حدیث کہ جس میں آپ نے فرمایا:
عمار کے قاتل اور ان کی پوشاک کو اتارنے والے کے لئے آتش (جہنم) کی بشارت دیتا ہوں۔
اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دوسری حدیث کہ جس میں آپ نے فرمایا:
عمّار میرے لئے آنکھ اور ناک کے درمیان جلد کی مانند ہے۔
اور پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا کہ:
مجھے عمّار کے بارے میں کوئی اذیت و نکلیف نہ دو۔
نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حدیث کہ:
عمّار؛ ايمان اور علم و عمل کا سراپا ہیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے ایسی مدح و ثناء اور تعریف و تمجید صرف جناب عمار سے ہی مخصوص تھی۔
اميرالمؤمنين حضرت على عليه السلام کی بیعت کرنے والوں میں سے کچھ افراد یہ تھے:حصين بن حرث بن عبدالمطلب اور طفيل بن حرث اور یہ دونوں حضرات جنگ بدر میں شریک ہونے والے مہاجرین میں سے تھے۔ مسطح بن اثاثه، حجار بن سعد غفارى، عبدالرحمن بن جميل جمحى، عبداللَّه اور محمّد بن بديل خزاعى، حرث بن عوف، ابوعابد ليثى، براء بن عازب، زيد بن صوحان، يزيد بن نويره کہ جن کے لئے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے بہشت کی بشارت دی تھی (2316). هاشم بن عتبة بن مرقال، بريده اسلمى، عمرو بن حمق خزاعى كه جن کی ہجرت خدا اور رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی راہ میں مشہور اور پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم میں جن کا مرتبہ و مقام معروف ہے(2317) اور جن کے بارے میں پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کی تعریف و تمجید نقل ہوئی ہے۔
حرث بن سراق، ابواسيد بن ربيعه، مسعود بن ابى عمرو، عبداللَّه بن عقيل، عمربن محصن، عدى بن حاتم، عقبة بن عامر اور ان کے علاوہ دوسرے افراد کہ جو ان کے ہم ردیف ہیں اور جنہوں نے پيامبر صلى الله عليه وآله وسلم کے زمانے کو درك كیا ہے؛ جیسے حجر بن عدى كندى، شداد بن اوس اور ان کی مانند دوسرے حضرات کہ جو سب کے سب تقوا اور دينداراى کے لحاظ سے بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور اگر ہم ان سب کے بارے میں مطالب بیان کرنا چاہئیں تو بحث طولانی ہو جائے گی۔
2315) جناب عمار یاسر کے کے بلند مرتبہ و مقام اور پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کی ان سے مخصوص عنایات کو جاننے کے لئے اہلسنّت کی کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں اور اس بارے میں مفصل بحث کے لئے رجوع فرمائیں: محمّد بن سعد، طبقات: ج 3 بخش اوّل ص 176 - 189 ، نیز اسی کتاب کے ترجمہ داکٹر محمود مہدوى دامغانى، اور اسی طرح رجوع فرمائیں ابن عبدالبر، استيعاب: 476 – 2/481 (حاشيه اصابة) كہ جس میں انہوں نے جناب عمار کے بارے میں چند آیات کے شأن نزول کو بھی بیان کیا ہے۔
2316) ابن حجر در الإصابة: 3/664 میں لکھتے ہیں کہ پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دو مرتبہ يزيد بن نويره کو جنت کی بشارت دی ہے۔
2317) عمرو بن حمق کے بارے میں مزید تفصیلات کے لئے اہلسنت کی کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں؛ ابن اثير، اسد الغابة في معرفة الصحابة: 4/100.
منبع: معاویه ج ... ص ...








