***********************************
28 رجب؛ امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہونا (سنہ۶٠ ہجری)
***********************************
یزید کی بیعت
یزید اپنے باپ کی تدفین کے بعد واپس لوٹا اور شہر کی بڑی مسجد میں جا کر لوگوں کو اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی۔ جب لوگوں نے اس کی بیعت کی تو وہ اپنے گھر واپس چلا گیا۔
جب معاويه ہلاک ہوا تو اس وقت مدینہ کا حاکم وليد بن عتبه بن ابوسفيان تھا اور مكه کا حاکم يحيى بن حكيم بن صفوان بن اميّه تھا، جب کہ کوفہ میں نعمان بن بشير انصارى اور بصره میں عبيداللَّه بن زياد کی حکومت تھی۔
يزيد کو چاروں لوگوں کے سوا کسی سے بیعت لینے میں کوئی مشکل نہیں تھی لہذا اس نے وليد کو خط لکھا کہ وہ ان چاروں افراد سے بیعت لینے میں سکٹی سے کام لے اور انہیں بیعت نہ کرنے کے سلسلہ میں کسی ٹال مٹول کی اجازت نہ دے۔
جب وليد کو یہ خط ملا تو وہ خوفزدہ ہو گیا کہ کہیں بغاوت نہ ہو جائے اور اس نے پہلے اس خط کو مخفی رکھا اگرچہ اس کے اور مروان کے درمیان اختلاف تھا لیکن اس کے باوجود اس نے کسی کو بھیجا تا کہ اس بلا کر لائے۔ مروان اس کے پاس آیا اور ولید نے اسے یزید کا خط پڑھ کر سنایا اور اس سے اس بارے میں مشورہ کیا۔
مروان نے کہا: عبداللَّه بن عمر اور عبدالرحمن بن ابوبكر کی وجہ سے نہ ڈرو کیونکہ یہ دونوں خلافت کے دعویدار نہیں ہیں (954) لیکن حسين عليه السلام اور عبداللَّه بن زبير سے خبردار رہو۔ اور اب کسی کو ان کے پاس بھیجو اور اگر انہوں نے بیعت کر لی تو بہت بہتر اور اگر بیعت نہ کی تو اس صورت میں یہ خبر پھیلنے اور ان کی مخالفت کے آشکار ہونے سے پہلے ہی ان دونوں کی گردن کاٹ دو۔
وليد نے عبداللَّه بن عمر اور بن عثمان (وہاں موجود دو سنّ بلوغ تک پہنچنے والے دو نوجوان) نے کہا: یٹا! جاؤ اور حسين بن على عليہما السلام اور عبداللَّه بن زبير کو بلا کر لاؤ۔
اس کا بیٹا مسجد مں گیا اور اس نے دونوں کو مسجد میں دیکھا تو کہا: امیر کی دعوت کو قبول کریں اور اس کے پاس آئیں۔
انہوں نے کہا: تم جاؤ، ہم تمہارے پیچھے پیچھے آتے ہیں۔ جب اس کا بیٹا چلا گیا تو ابن زبير نے حسين عليه السلام سے کہا:آپ کا کیا خيال ہے کہ اس نے اس وقت ہمیں بلانے کے لئے کسی کو کیوں بھیجا ہے ؟
آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ معاویہ مر چکا ہے اور اس نے ہم سے بیعت لینے کے لئے اسے ہمارے پاس بھیجا ہے۔
ابن زبير نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے اور پھر دونوں اپنے گھر چلے گئے۔
امام حسين عليه السلام نے اپنے کچھ ساتھیوں اور غلاموں کو اکٹھا کیا اور دارالإماره کی طرف روانہ ہو گئے اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دروازہ پر کھڑے رہیں اور جب ان کی آواز سنیں تو گھر پر حملہ کر دیں۔
حسين عليه السلام وليد کے پاس گئے اور اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے، جب کہ مروان بھی وہیں موجود تھا۔ وليد نے وہ خط حسين عليه السلام کو پڑھ کر سنایا۔
امام حسین علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: مجھ جیسا مخفیانہ طور پر بیعت نہیں کرتا اور میں تمہاری دسترس میں ہوں، تم جب بھی لوگوں کو اس کام کے لئے جمع کرو گے تو میں آ جاؤں گا اور میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔
وليد عافیت پسند شخص تھا لہذا اس نے امام حسین علیہ السلام سے کہا: آپ جائیں اور آپ لوگوں کے ساتھ میرے پاس آئیں اور یوں امام حسین علیہ السلام وہاں سے واپس لوٹے۔
مروان نے وليد سے کہا: میری رائے کی مخالفت نہ کرو۔ خدا کی قسم! پھر تمہیں ایسا موقع میسر نہیں آئے گا۔
وليد نے کہا: افسوس ہے تم پر! میں میری رہنمائی کر رہے ہو کہ میں فاطمہ علیہا سلام کے بیٹے حسین علیہ السلام کو قتل کر دوں۔ خدا کی قسم! قیامت کے دن جس سے حسين عليه السلام کے قتل کا مؤاخذہ اور حساب و کتاب کیا جائے گا؛ خدا کی بارگاہ میں اس شخص کے عمل کا پلڑا بہت پلکا ہو گا۔
عبداللَّه بن زبير نے اپنے گھر میں ہی پناہ لے لی اور خانہ نشین ہو گیا اور ولید کو غافل کر دیا اور جب رات ہوئی تو مكه کی طرف بھاگ گیا جب کہ اس نے اصل راستہ اختیار کرنے کے بجائے ویرانہ کا راستہ اختیار کیا۔
اگلی دن ولید کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے حبيب بن كُدَين کو تیس سواروں کے ساتھ اس کا پیچھا کرنے کے لئے بھیجا لیکن انہیں اس کا کچھ پتہ نہ چلا اور وہ لوگ پورا دن ابن زبیر کو تلاش کرتے رہے۔
جب رات ہوئی اور تاریکی چھا گئی تو امام حسين عليه السلام بھی مكه کے لئے روانہ ہو گئے جب کہ آپ کے ساتھ آپ کی دو بہنیں زينب و امّ كلثوم عليهما السلام، آپ کے بھائی اور بھتیجے ابوبكر جعفر ، عبّاس اور محمد بن حنفیہ کے سوا آپ کے خاندان کے دوسرے افراد ( کہ جو مدینہ میں تھے) آپ کے ساتھ روانہ ہو گئےلیکن محمّد بن حنفيّه مدينه میں ہی رہے جب کہ ابن عبّاس اس سے کچھ دن پہلے ہی مكه چلے گئے تھے۔
امام حسين عليه السلام مدينه اور مكه کے درمیان منازل طے کرتے ہو جا رہے تھے اسی طرح عبداللَّه بن مطيع مكه سے مدينه کی طرف آ رہے تھے۔ راستہ میں ان کی آنحضرت سے ملاقات ہوئی تو عبداللَّه نے پوچھا: آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
فرمایا: اب مكه جاؤں گا۔
عبداللَّه نے کہا: خداوند آپ کو خیر و خیریت لائے لین میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اپنی رائے بیان کرو۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: تمہاری رائے کیا ہے؟
انہوں نے کہا: اگر آپ نے مكه پہنچنے کے بعد کسی دوسرے شہر جانے کا ارادہ کیا تو کوفہ جانے سے گریز فرمائیں کیونکہ وہ ناسازگار اور شوم شہر ہے، آپ کے بابا وہیں قتل ہوئے اور انہوں نے آپ کے بھائی کی نصرت نہیں کی اور ان پر ایسا وار کیاکہ جس کی وجہ سے نزدیک تھا کہ ان کا پاؤں کٹ جاتا۔ آپ حرم مكه میں ہی رہیں کیونکہ حجاز کے لوگ کسی کو آپ کے برابر نہیں سمجھتے پس آپ اپنے تمام شیعوں کو وہاں آنے کی دعوت دیں کہ سب لوگ آپ کے پاس آ جائیں گے۔
امام حسين عليه السلام نے اس سے فرمایا: خداوند جسے پسند کرتا ہے اسے مقدر فرما دیتا ہے۔
اور پھر آپ نے اپنی سواری کی لگام چھوڑ دی اور وہاں سے روانہ ہو گئے اور مكه پہنچ کر محلّه شعب على(955) میں گئے۔ لوگوں کی آپ کے پاس رفت و آمد ہونے لگی۔ لوگ گروہ در گروہ آپ کے پاس آتے اور انہوں نے ابن زبير کو چھوڑ دیا جب کہ وہ لوگ امام حسین علیہ السلام کے آنے سے پہلے ابن زبیر کے پاس جایا کرتے تھے۔ عبداللَّه بن زبير کو یہ بات پسند نہ آئی اور وہ یہ بات سمجھ گیا کہ جب تک امام حسين عليه السلام مكه میں ہیں؛ لوگ اس کے پاس نہیں آئیں گے اور وہ مجبوراً ہر صبح اور عصر کے وقت امام حسين عليه السلام کے پاس آتا اور اسی دوران يزيد نے يحيى بن حكم کو مكه کی حکومت اور فرمانروائی سے معزول کر دیا۔ (956)
954) اس بات پر توجہ کرنی چاہئے کہ مورّخین کے ایک گروہ اور علم رجال کے دانشوروں کے درمیان عبدالرحمن بن ابوبكر کی موت کے سال میں سنہ ۵۳ سے ۵۶ تک کے درمیان اختلاف ہے اور انہوں نے ان کی موت معاویہ کی ہلاکت سے پہلے بیان کی ہے۔ اس بارے میں مزید تفصیلات کے لئے رجوع فرمائیں: ابن حجر، اصابه 5143 کے ذیل میں،و ابن اثير اسدالغابة ص 306 ج 3.
955) مكّه کے محلوں میں سے ایک مشہور محلہ۔ ابو الوليد ازرقى نے مكّه کے واقعات میں بطور مقرر اس کا نام ذکر کیا ہے۔ صفحات 175 - 186 ج 2 اشاعت مكّه 1978 عیسوی.
956) اخبار الطوال: 275.
منبع: معاویه ج ... ص ...








