امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۱) اميرالمؤمنين‏ حضرت علی عليه السلام کے کچھ فضائل

(۱)

اميرالمؤمنين‏ حضرت علی عليه السلام کے کچھ فضائل

   اس بات پر مورّخین کا اجماع ہے کہ حضرت على‏ عليه السلام نے دونوں قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی، ہجرت کی اور جنگ تبوك کے سوا ہر جنگ میں پیغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کے ہمراہ رہے اور جنگ تبوك میں بھی رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم نے اپنے خاندان کا خیال رکھنے کے آپ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور فرمایا:

تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

   اسے اصحاب کے ایک گروہ نے روایت کیا ہے(2165).

   نیز روایت ہوئی ہے کہ: جب رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان عقد اخوت قائم کیا اور دو افراد کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تو آپ نے على‏ عليه السلام سے فرمایا:

آپ دنیا و آخرت میں مییرے بھائی ہیں۔

   اور آپ نے اپنے اور على ‏عليه السلام کے درمیان عقد اخوت قائم کیا اور اسی لئے على‏ عليه السلام نے شوریٰ کے اراکین سے فرمایا تھا:

میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا میرے سوا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جسے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم‏ نے مسلمانوں میں عقد اخوت قائم کرتے وقت اپنا بھائی قرار دیا ہو۔

   سب نے کہا: ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ آپ کے سواکوئی دوسرا نہیں ہے اور علی علیہ السلام مسلسل فرما رہے تھے:

میں خدا کا بندہ اور رسول خدا کا بھائی ہوں۔

   آپ کے علاوہ کوئی اور یہ دعویٰ نہیں کر سکتا مگر یہ کہ وہ جھوٹا ہو۔

   بُرَيْدة ، ابوہريرة، جابر، براء بن عازب اور زيد بن ارقم میں سے ہر ایک رسول‏ خدا صلى الله عليه و آله و سلم سے روايت کرتے ہیں کہ غدير خم(2166) کے دن آپ نے فرمایا:

جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں۔

   رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کچھ دوسری احادیث میں  وارد ہوا ہے کہ پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا:

   خدايا!؛ جو علی کو دوست رکھے تو اسے دوست رکھ اور جو علی کو دشمن رکھے تو اسے دشمن رکھ۔

   ہم نے اس سے پہلے جنگ خيبر کے متعلق ابحاث میں(2167) ذکر کیا کہ پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا:

کل میں یہ علم اس شخص کو دوں کا کہ جو خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور خدا اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ جنگ سے فرار نہیں کرتا اور خداوند متعال اس کے ہاتھ سے فتح نصیب فرمائے گا۔

   اور پھر آپ نے حضرت على‏ عليه السلام کو علم عطا کیا اور خداوند متعال نے آپ کے دست مبارک سے فتح نصیب فرمائی۔

   پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے امیر المؤمین علی علیہ السلام کو جوانی کے عالم میں قضاوت کے فرائض انجام دینے کے لئے یمن کی طرف بھیجا۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم سے عرض كیا:

اے رسول خدا! میں نہیں جانتا کہ قضاوت کیا ہے؟

پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے آپ کے سینہ پر اپنا ہاتھ مارا اور کہا: پروردگارا! ان کے قلب کی ہدایت اور ان کی زبان کو بیانِ حقیقت کے لئے استوار فرما۔

اور حضرت على ‏عليه السلام نے فرمایا: اس خدا کی قسم! اس کے بعد میں دو افراد میں کی جانے والی کسی بھی قضاوت میں شک و تردید میں مبتلا نہیں ہوا۔

   اور جب یہ آيه نازل ہوئی کہ جس میں خداوند متعال فرماتا ہے: «بیشک اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیہم السلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے»(2168)، پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے فاطمه، على، حسن اور حسين‏عليہم السلام کو  امّ سلمه کے گھر بلایا اور فرمایا:

خدايا! یہ میری اہلبیت ہیں۔ خدایا! ان سے گناہ کو دور فرما اور انہیں اس طرح پاکیزہ کر دے جس طرح پاکیزہ ہونے کا حق ہے۔

   ابن عبدالبر کہتے ہیں: رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کے اصحاب میں سے ایک گروہ نے روايت كی ہے کہ‏ پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے على‏ عليه السلام سے فرمایا:

مؤمن کے سوا تجھے کوئی دوست نہیں رکھے گا اور منافق کے سوا کوئی تجھ سے دشمنی نہیں کرے گا۔

   نیز رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے فرمایا:

آپ کے سلسلہ میں دو گروہ نابود ہوں گے: جو آپ کی دوستی میں غلو اور مبالغہ کریں گے اور جو لوگ آپ کی دشمنی میں آپ کو جھٹلائیں گے»(2169).

   اور پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا:

آپ کے سلسلہ میں میری امت گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی کہ جس طرح بنی اسرائيل عيسىٰ کے سلسلہ میں گروہوں میں تقسیم ہو گئے.

   اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:

میں شہرِ علم ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں، جو کوئی بھی علم کا طالب ہے وہ درِ علم سے داخل ہو »(2170).

   اور علی علیہ السلام نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا:

على ‏عليه السلام ان میں سب سے بڑے قاضی ہیں (2171).

   عمر بن خطاب کو ہمشیہ ایسے دشوار مسائل کے لئے خدا سے پناہ مانگتا تھا کہ جن کے حل کے لئے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام موجود نہ ہوں۔

   حضرت على ‏عليه السلام نے اس خاتون کے بارے میں فرمایا کہ جس نے شادی کے چھ ماہ بعد بچہ کو جنم دیا تھا اور عمر نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا:

خداوند تبارك و تعالى کا ارشاد ہے: «حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس ماہ ہے»(2172).

اور  دوسرے مقام پر خداوند متعال فرماتا ہے: «اور اس کی دودھ بڑھائی دو سال میں ہوئی»(2173).

   اور یوں اس عورت پر حکم جاری نہ ہو سکا۔

   امیر المؤمنین علی علیہ السلام علم مواریث کے سب سے بڑے عالم تھے اور اس بارے میں آپ سے روایات بھی نقل ہوئی ہیں۔ منجملہ؛ ابن عبدالبر نے اپنی سند سے زِر بن حُبيشْ سے نقل کیا ہے کہ: دو شخص ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے جن میں سے ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس تین روٹیاں تھیں  اور جب انہوں نے دسترخوان بچھایا تو وہاں سے ایک اور شخص گذرا، جس نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے اس سے کہا: بیٹھو اور کھانا کھاؤ۔ وہ ان کے ساتھ کھانے کے لئے بیٹھ گیا اور انہوں نے ساری روٹیاں کھا لیں ۔ جب وہ شخص کھانا کھانے  کے بعد اٹھا تو اس نے انہیں آٹھ درہم دیئے اور کہا: یہ تمہارا کھانا کھانے کے سلسلہ میں ہیں۔

   ان دونوں میں اختلاف ہو گیا کہ ان پیسوں کو کیسے تقسیم کیا جائے۔ جس شخص کی پانچ روٹیاں تھیں؛ اس نے کہا کہ پانچ درہم میرے ہیں اور تین درہم تمہارے ہیں۔ لیکن جس کی تین روٹیان تھیں اس نے کہا کہ میں اس پر راضی نہیں ہوں مگر یہ کہ آدھے درہم مجھے دو۔  وہ لوگ حضرت علی علیہ السلام کے پاس گئے اور ان کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا۔

   اميرالمؤمنين على‏ عليه السلام نے تین روٹیوں والے شخص سے فرمایا:

تمہارے دوست کی روٹیاں تم سے زیادہ تھیں؛ وہ تمہیں جتنے درہم دے رہا ہے اس پر راضی ہو جاؤ۔

اس شخص نے کہا: خدا کی قسم! میں راضی نہیں ہوں گا مگر یہ کہ مجھے حق ملے۔

حضرت على‏ عليه السلام نے فرمایا: اگر حق کی بات ہے تو تمہیں صرف ایک درہم ملے اور سات درہم اسے ملیں گے۔

   اس شخص نے کہا: سبحان اللَّه؛ اے امير المؤمنین! بہت عجیب اور حیرت انگیز ہے، وہ شخص مجھے خود تین درہم دے رہا ہےاور آپ نے بھی اشارہ فرمایا کہ اس سے تین درہم لے لوں لیکن میں اس پر راضی نہیں ہوا اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ میرا حصہ صرف ایک درہم ہے؟!

   اميرالمؤمنين حضرت على‏ عليه السلام نے فرمایا: بالکل ایسے ہیں ہے۔

   اس شخص نے کہا: اس کی وضاحت فرمائیں۔

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:اگر آٹھ روٹیوں کو تین تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو کیا چوبیش حصہ نہیں بنتے؟  تم میں سے ہر ایک نے مساوی طور پر کھانا کھایا اور یہ نہیں جانتے کہ کس نے زیادہ اور کس نے کم کھانا کھایا ہے؟

اس شخص نے کہا: جی ہاں! بالکل ایسا ہی ہے۔

آپ نے فرمایا: تم نے آٹھ حصہ کھائے اور مجموعا نو حصہ تھے اور تمہارے دوست نے بھی آٹھ حصہ کھائے حالانکہ پندرہ حصہ تھے۔ اس بناء پر مہمان نے سات حصہ کھائے اور تمہاری روٹیوں کے حصہ میں سے ایک درہم تمہیں ملے گا اور سات درہم اسے ملیں گے۔

   اس شخص نے کہا: اب میں راضی ہوں۔

   ایک دن حضرت على‏ عليه السلام منبر پر تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا: میرے بھائی نے چھ سو دینار ارث میں باقی چھوڑے ہیں اور مجھے صرف ایک دینار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں اس نے شکایت کی۔

   اميرالمؤمنين حضرت على ‏عليه السلام نے فرمایا:

شايد تمہارے بھائی کی لواحقین میں ایک بیوی، ایک ماں، دو بیٹیاں، بارہ بھائی اور تم ہو؟ 

اس نے کہا: جی ہاں۔

فرمایا: تمہارا حق بطور کامل ادا ہو گیا ہے۔ (2174)

   یہ مسئلہ ’’ مسئلہ ديناريّه و منبريّه‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔(2175)


2165) صحيح مسلم: 175/15، رياض النضرة: 162/2.

2166) خُم، ایک شخص کا نام ہے کہ جس نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا کہ جو جُحفه اور مكّه و مدينه کے درمیان ہے۔ اور «رياض النضرة: 169/2» میں براء بن عازب سے منقول ہے کہ ایک سفر کے دوران ہم رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کے ساتھ تھے اور جب ہم غدير خم کے مقام پر پہنچے تو حکم دیا گیا کہ سب لوگ جمع ہو جائیں اور رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کے لئے ایک دخت کے نیچے سجّاده رکھا گیا اور جب رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم نے ‏نماز ظہر ادا کی تو علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: «کيا تم جانتے ہیں کہ میں مؤمنین پر ان سے زیادہ ولایت رکھتا ہوں؟»

   سب نے کہا: جی ہاں۔

   فرمایا: خدايا! جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔ خدایا! اسے دوست رکھ جو علی کو دوست رکھتا ہو اور اسے دشمن رکھ جو علی سے دشمنی رکھتا ہو»

2167) نهاية الارب: 252/17 و 253، صحيح بخارى: احاديث نمبر 3465 اور  3466، صحيح مسلم کی شرح نووى: 176/15 .

2168) سوره احزاب، آيه 33، و ر.ك: سنن ترمذى کی شرح نووى: 194/15.

2169) استيعاب: 37/3.

2170) اس حدیث کے منابع کے بارے میں مزید جاننے کے لئے اہلسنت کی کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں۔ فضايل الخمسة: 248 - 252/2 استاد دانشور جناب سيّد مرتضى حسينى فيروزآبادى، اشاعت سوم 1393 قمرى بيروت.

2171) صفحات 264 - 262، اسی کتاب کی وہی جلد۔

2172) سوره احقاف، آيه 14.

2173) سوره لقمان، آيه 14. طبرى اور ابن كثير اپنی تفسير میں لکھتے ہیں: قبيلۂ جُهَينه کی ایک عورت نے شادی کی اور چھ مہینہ میں بچہ کو جنم دیا اور عثمان نے اسے سنگسار کرنا چاہا۔

2174) شوہر کا حصہ پچہتر دينار جو پورے مال کا آٹھواں حصہ ہے، ماں کا حصہ صد دينار جو کل مال کا چھٹا حصہ ہے، دونوں بیٹیوں کا حصہ چار سو دينار يعنى کل مال کا دوسرا حصہ۔ اور پچیس دینا باقی بچتے ہیں کہ جن میں سے ہر بھائی کے حصہ میں دو دو دینار اور بہن کے حصہ میں ایک دینار آتا ہے۔

2175) نهاية الأرب: 100/5.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

 

بازدید : 779