(۱)
حضرت خدیجه علیہا السلام کی مدد کے لئے بہشتی عورتوں کی آمد کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کی بشارت
کتاب « فضائل اهلبیت علیهم السلام کے بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ» یوں وارد ہوا ہے:
كتاب «الثاقب في الناقب» میں لکھتے ہیں:
ابن عبّاس کہتے ہیں:
جب سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمه زہراء عليہا السلام کی ولادت ہوئی تو ان کے وجود سے زمین اس طرح سے منور ہو گئی کہ آپ کے وجود مبارک کے نور سے بیابان، صحراء اور پہاڑ سب کے سب روشن ہو گئے۔ فرشتے زمین پر نازل ہوئے اور انہوں نے دنیا کے مشرق و مغرب تک اپنے پر پھیلا دیئے، ان پر خیمہ اور قیمتی پردہ لگا دیئے گئے، اور آسمانی سائے بانوں سے سایہ کر دیا گیا، جب کہ اہل مکہ کو آپ کے نور نے مدہوش کر دیا۔
اسی دن رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم حضرت خديجه عليہا السلام کے حجرہ میں داخل ہوئے اور فرمایا:
يا خديجة! لا تحزني، إن كان قد هجرك نسوان مكّة ولن يدخلن عليك، فلينزلن عندك اليوم نسوان نسرات بهجات عطرات عنجات ينقدح في أعلاهنّ نور يستقبل إستقبالاً ويلتهب إلتهاباً، وتفوح منهنّ رائحة تسرّ أهل مكّة جميعاً، فسلّمت الجواري، فأحسنّ وحيّين فأبلغن.
اے خدیجہ! اس چیز سے بالکل نہ ڈرو کہ مکہ کی عورتوں نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور اس مشکل وقت میں آپ کی مدد کے لئے نہیں آئی ہیں۔ آج ہی آپ کے پاس خوبصورت بہشتی عورتیں آئیں گی کہ جن کے چہرے شاد ہوں گے اور انہوں نے دل نشین عطر لگایا ہو گا، ان کی بلوری آنکھیں ہوں گی، اور ان کے آگے آگے ایسا نور چمکے گا اور ایسی معطر ہوا چلے گی کہ جو تمام اہل مکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ پس اس دوران وہ عورتیں آئیں اور انہوں نے بہترین انداز میں جناب خدیجہ علیہا السلام پر درود و سلام بھیجا۔
... یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک نے ولادت کے مشکل وقت میں جناب خدیجہ علیہا السلام کی مدد کی، انہوں نے اپنے ساتھ لائے گئے تشت میں مولود نازنین کو نہلایا، بہشتی تولئے سے انہیں خشک کیا، اور بہترین خوشبو سے معطر کیا، اور پھر اس راز ہستی اور سر کائنات کو ایک کپڑے میں لپیٹا (اور ان کی مہربان ماں کی آغوش میں دے دیا) اور آخر میں ثناء گو واپس آسمان پر چلے گئے۔
منبع: فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: 2 / 418 ح 902








