(۲)
حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی ولادت کے وقت بہشتی
عورتوں کا حضرت خدیجه علیہا السلام سے ہمکلام ہونا
کتاب « فضائل اهلبیت علیهم السلام کے بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ» یوں وارد ہوا ہے:
ایک اور روایت میں یوں ذکر ہوا ہے:
وہ خاتون جو حضرت خديجه عليہا السلام کے پاس موجود تھی، اس نے مولود نازنين آب كوثر سے نہلایا، اور پھر دو سفید کپڑے نکالے کہ جو دودھ سے زیادہ سفید اور مشك و عنبر سے زیادہ خوشبودار تھے، ایک کپڑے میں مولود کو لپیٹا اور دوسرے کا مقنعہ بنایا اور پھر اس مولود نازنین سے گفتگو کرنے کا تقاضا کیا، اس نے اپنے خوبصورت لبوں کو جنبش دی اور کہا:
أشهد أن لا إله إلّا اللَّه، وأشهد أنّ أبي محمّداً رسول اللَّه، وأنّ بعلي سيّد الأوصياء، وولدي سادة الأسباط.
میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ میرے والد گرامی محمّد صلى الله عليه وآله وسلم خدا کے رسول ہیں، اور بیشک میرے شوہر (علی علیہ السلام) سید الأوصیاء ہیں، اور میرے دو فرزند پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسہ ہیں۔
پھر آپ نے ان خواتین کی طرف رخ کیا اور ان پر سلام بھیجا اور ان سب کو ان کے ناموں سے پکارا اور ان سب نے مسکراتے ہوئے اس مولود کی طرف دیکھا۔
جی ہاں! سیدۃ النساء العالمین کی ولادت کے وقت حورالعين نے ایک دوسرے کو خوشخبری سنائی اور اہل آسمان نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی، اور آسمان پر ایسا نور آشکار ہو کہ اس سے پہلے فرشتوں نے ایسا نور نہیں دیکھا تھا۔
پھر ان بہشتی کواتین کے حضرت زہراء عليہا السلام کو اٹھایا اور حضرت خديجه عليہا السلام کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا:
خذيها يا خديجة! طاهرة مطهّرة زكيّة ميمونة، بورك لك فيها وفي نسلها.
اے خديجه! اس مولود کو لے لیں کہ یہ پاك، پاكيزه، صاف ستھرا اور مبارك ہے اور اس کی نسل آپ کے لئے مبارك اور بابركت ہے۔
حضرت خديجه عليہا السلام اپنی نازنين بیٹی کو سینہ سے لگایا اور اپنا پستان ان کے منہ میں دے دیا کہ سے بہت زیادہ دودھ آنے لگا۔
اس مولود نے ایک دن اتنا رشد کیا جتنا دوسرے بچہ ایک ماہ میں کرتے ہیں اور ایک ماہ میں اتنا رشد کیا کہ جتنا دوسرے بچہ ایک سال میں رشد کرتے ہیں۔
منبع: فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحربیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: 2 / 419








