امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) عباسی دور میں خواتین

(2)

عباسی دور میں خواتین

اس دور میں بعض خواتین حکومتی امور میں دخل اندازی کرتیں تھیں کہ جن میں معتز کی ماں قبيحه ،مقتدر کی ماں سيّده، اس کی درباری ثومال، امّ موسى، عزیز فاطمی کی بہن ست الملك اور ہشام بن حکم کی ماں صبح‏ شامل تھیں۔

   مستعین کو معزول کرنے میں متوکل کی زوجہ اور معتز کی ماں قبيحه کا اہم کردار تھا کیونکہ وہ اپنے اس اقدام سے معتز کی خلافت کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتی تھی۔ اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی۔ ابن اثير کا بیان ہے: اس کے پاس 1700000 دينار طلائی تھے لیکن اس نے اپنے بیٹے کو ترکوں کے پاس ہی چھوڑ دیا کہ جو اس سے بطور تاوان 50000 دينار کا تقاضا کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ انہی کی قید میں ہلاک ہو گیا۔

   مقتدر کی ماں سيّده حکومت  کے تمام معاملات میں مداخلت کرتی تھی اور اسی نے علىّ بن عيسى کو معزول کیا۔

ابن اثير نے کہا ہے کہ: سیدہ کی درباری امّ موسى وزير کے گھر گئی تا کہ وہ محل کے خادموں کے اخراجات اور لباس وغیرہ کے بارے میں اس سے گفتگو کرے۔ وزیر سو رہا تھا۔ اس کے خادم نے کہا: ایک گھنٹہ انتظار کرو تا کہ وہ بیدار ہو جائے لیکن وہ غصہ سے واپس چلی گئی اور جب وزیر بیدار ہوا تو اس نے اپنے خادم اور اپنے بیٹے کو معذرت خواہی کے لئے بھیجا لیکن ام موسی نے اسے قبول نہ کیا اور اس نے مقتدر کے پاس جا کر وزیر کی برائی کی یہاں تک کہ اسے معزول کرکے قید کر دیا گیا۔  سيّده کی مداخلت خلافت کی کمزوری کا باعث بنی۔ علىّ بن عيسى کی معزولی سے حکومت ایک لائق وزیر کی خدمات سے محروم ہو گئی اور ثومال کو معین کرنے اور اس کے مظالم سے حکومت کو ننگ و عار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد بھی سيّده کی مداخلت ختم نہ ہوئی بلکہ حامد بن عبّاس کے دور میں بھی حکومتی امور میں اس کی مداخلت باقی تھی۔ جب ابوالعبّاس کو وزير کا خصیب مقرر کیا گیا تو سیدہ کی یہ کوشش تھی کہ اسے معزول کرکے اس کے مال کو ضبط کر لے۔

   فاطميوں کی حکومت میں بھی عورتوں کی کافی حد تک مداخلت رہی اور ان میں سے بعض کے پاس مال و دولت اور ثروت کی فراوانی تھی۔

مقرى کہتے ہیں: رشيده بنت معزّ  کے پاس 1500000 طلائی سكّه تھے جو 750000 طلائی ليره کے برابر ہیں اور اس کی بہن عبده نے تو صندوقوں سے بھرا ہوا ایک پورا خزانه باقی چھوڑا  کہ جس میں ‏ زمرّد کی پانچ تھیلیاں، چاندی کی تین سو اینٹیں، تیس ہزار سقلابى جامہ اور ان کے علاوہ اس کے پاس دوسرے بے شمار ذخائر تھے۔

   عزيز فاطمى رومی نژاد کی ایک عورت تھی جس کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا۔ حاكم اور ستّ‏الملك اسی سے تھے۔ عیسائی عورت کا عزيز پر بہت زیادہ نفوذ تھا اور اس کے دو بھائی اسكندريّه اور بيت ‏المقدّس کے فرمانروا مقرر ہوئے۔

   ستّ الملك بنت عزيز ایک دور اندیش، عقل مند، بردبار اور سخی خاتون تھی جو ہر طبقہ کے لوگوں سے مہربانی سے پیش آتی تھی۔ حاكم کے دور میں (كه جب اس کی مداخلت حکومتی امور کی راہ میں حائل ہوتی تھی) میں وہ خوش نہیں تھی لہذا اس نے کتامہ قبیلہ کے سربراہوں میں سے سيف الدوله دواس کے ساتھ مل کر اپنے بھائی کو قتل کرنے کی سازش کی۔

   ستّ الملك نے بھی بے حساب دولت باقی چھوڑی کہ جس میں آٹھ سو كنيزیں، مشك کے آٹھ کوزہ، بے شمار گوہر اور  ياقوت( جن کا وزن آٹھ مثقال تھا۔ اس کی سالانہ تنخواہ 500000 دينار تھی۔

   یہ واضح ہے کہ حکومتی امور میں مداخلت کرنے والی بعخ خواتین کا تعلق قصر سے تھا اور بقیہ خواتین اپنے روز مرہ کے امور سے بڑھ کر کوئی کام انجام نہیں دے سکتی تھی۔

   اس دور میں تمام معتبر گھرانوں میں کنیزوں کی رسائی تھی اور بہت سے خلفاء کنیز زادہ تھے۔ متوکل کی ماں شجاع کا تعلق خوارزم سے تھا۔ مقتدر کی ماں سيّده اور مستكفى کی ماں رومى تھی۔ مطيع کی ماں سقلابى تھی اور یہ سب كنيزیں تھیں۔ (2282)


2282) تاريخ سياسى اسلام (دكتر حسن ابراهيم‏ حسن): 724/3.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 922