(۱)
قرامطه کا داخل ہونا
سنہ 317 ہجری میں قرمطيوں کے ہاتھوں ایک واقعہ پیش آیا ۔ اس سال عراق سے مکہ کی طرف قافلے روانہ ہوئے اور صحیح و سالم اپنی منزل تک پہنچ گئے ۔ ہر طرف سے ایک کے ایک قافلہ اور کاروان مکہ آ رہا تھا ۔ لیکن اچانکہ ابو سعيد قرمطى اور اس کے ساتھیوں نے ترويه کے دن (آٹھ ذى الحجه) کو حملہ کر دیا ۔ اس نے انہیں قتل کیا اور تہہ تیغ کرنے کے بعد ان کے مال کو لوٹ لیا ۔ اس ظلم کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں حجاج مکہ کے گوشہ وکنار ، مسجد الحرام حتی کہ کعبہ میں بھی قتل ہوئے ۔ ابو سعيد مستی کی حالت میں گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے حرم میں داخل ہوا اور اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تقریباً ایک ہزار سات سو افراد کو قتل کیا اور ان کے جنازے آب زم زم کے کنویں میں پھینک دیئے ۔ مسجد سے باہر بھی اس نے تقریباً تیس ہزار سے زائد افراد کو قتل کرنے کے بعد کنوں اور گڑوں کو ان کے جنازوں سے بھر دیا ۔ ان کے گھروں کو تباہ و برباد کر دیا ، بچوں کو اسیر کر لیا ۔ کعبہ کے خزانے ، اس میں موجود لباس ، چراغوں ، پردوں اور دروازوں کو لوٹ لیا اور آپس میں تقسیم کر لیا ۔
ان کا حاکم کعبہ کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا ، جب کہ لوگ اس کے اردگرد زمین پر بیٹھے ہوئے تھے اور مسجد الحرام جیسے مقدس مقام اور ماہ حرام میں اور وہ بھی اک شریف ترین دن (یعنی روزِ ترویہ) ان پر تلوار لہراتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہا تھا :
أنا باللَّه وباللَّه أنا
يخلق الخلق وأفنيهم أنا
«مجھے خدا کی قسم ! اور خدا کی قسم ! آج میں اس مخلوق کو فناء کر دوں گا کہ جسے خدا نے خلق کیا ہے ۔ »
لوگ اس کے سامنے رو رہے تھے ، گڑگڑا رہے تھے اور غلاف کعبہ کو تھامے ہوئے تھے کہ شاید وہ احترام کعبہ کے سائے میں نجات پا جائیں لیکن کسی چیز نے اس کے ظلم کا راستہ نہ روکا اور اس نے انہیں اسی حالت میں قتل کر دیا ۔ اس نے جن لوگوں کو طواف کی حالت میں قتل کیا تھا ؛ ان میں سے بعض کو آب زم زم کے کنویں میں پھینک دیا تھا ، جب کہ حرم اور مسجد الحرام میں قتل ہونے والے بہت سے افراد کو دفن کر دیا تھا ۔
کیا اچھی موت تھی ! اور کیا اچھی آرمگاہ تھی ! لیکن انہیں نہ تو غسل دیا گیا تھا اور نہ ہی کفن اور نہ ہی ان پر نماز پڑھی گئی تھی ۔
اس نے قبهٔ زمزم کو تباہ کر دیا اور حکم دیا کہ دروازوں کو اکھاڑ لیا جائے اور اس نے اپنے ساتھیوں کے درمیان دروازوں کے پردے تقسیم کر دیئے اور ایک شخص کو مأمور کیا کہ وہ ناودان اکھاڑ لے ۔ ان کام کو انجام دینے کے لئے ایک شخص کعبہ کی چھت پر گیا تو اسے کوہ ابو قبیس کی جانب سے ایک تیر آ کر لگا کہ جس سے وہ ہلاک ہو گیا ۔ اس کے بعد دوسرا شخص گیا تو وہ بھی اسی طرح ہلاک ہو گیا ۔ ان پر خوف طاری ہو گیا ۔ ابو طاہر نے کہا : اسے چھوڑ دو تا کہ اس کا صاحب آ جائے ۔ اس کی مراد «مہدى» تھے کہ جو خود کو ان کے پیروکاروں میں سے قرار دیتا تھا ۔ اس نے ایسے مقام کو اخذ کرنے کا ارادہ کیا لیکن اسے حاصل نہ کر سکے کیونکہ پردہ داروں نے اسے مخفی کر دیا تھا ۔ پھر اس نے حجر الاسود کو اکھاڑنے کا حکم دیا ۔ لہذا ایک شخص نے ہاتھ میں ہتھوڑا لے کر حجر الاسود پر مارا اور کہا : کہاں ہیں وہ ابابیل ؟ اور کہاں ہیں وہ سجیل نام کی کنکریاں ؟ پھر وہ حجر الاسود اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے ۔ مکہ کا امیر اور اس کی اہلبیت اور اس کا لشکر حجر الاسود لینے کے لئے آئے اور قرمطی سے اسے طلب کیا اور اس کے مقابلہ میں انہوں نے اسے اپنے پاس موجود مال و دولت دینے کی پیشکش کی ۔ لیکن اس نے ان کی اس پیشکش پر کوئی توجہ نہ کی لہذا مکہ کے امیر نے مجبور ہو کر ان سے جنگ کی لیکن قرمطی نے مکہ کے امیر ، اس کی اکثر اہلبیت اور اس کے لشکر کو قتل کر دیا اور حجر الاسود اور حجاج کے لوٹے ہوئے مال کے ساتھ اپنے شہروں کی طرف روانہ ہو گیا اور اس نے اپنی کفر کی راہ کو جاری رکھتے ہوئے یہ اشعار پڑھے :
فلو كان هذا البيت للَّه ربّنا
لصبّ علينا النار من فوقنا صبا
لأنّا حججنا حجّة جاهليّة
مجلّلة لم تبق شرقاً ولا غربا
وإنا تركنا بين زمزم و الصفا
جنائز لاتبغى سوى ربّها ربّا
کہتے ہیں کہ : اس کے سپاہیوں کی تعداد ساتھ سے افراد سے زیادہ نہیں تھی لیکن کوئی بھی اس کے سامنے مقاومت کی توان نہیں رکھتا تھا اور یہ ذلت و خواری اور خذلان خداوند کی جانب سے تھی ۔ وہ حجر الأسود کو اپنے ساتھ لے گیا تا کہ وہ حج کو اپنے تعمیر کردہ گھر «ہجر» کی طرف تبدیل کر دے ۔
جب پہلے فاطمی خلیفہ عبيد اللَّه مہدى کو خلافت ملی تو قرمطی نے ان کے نام ایک خطبہ پڑھا اور ان کے بیان کیا کہ اس نے ان کے لئے ایک خطبہ پڑھا ہت اور انہیں رسمی حاکم کے عنوان سے پکارا ہے ۔ عبید اللہ مہدی نے اس کے جواب میں لکھا :
«بہت حیرت کی بات ہے کہ تم نے مجھے خط لکھا ہے اور تم نے امن اور حریم الٰہی کے علاقہ میں خانہ کعبہ کی ہتک حرمت کی ہے کہ جو زمانۂ جاہلیت اور زمانۂ اسلام میں محترم تھا اور ان سب کے باوجود تم نے مجھ پر احسان کیا ہے ۔ بیشک تم نے اس مقدس سر زمین پر مسلمانوں کا خون بہایا ہے ، حج اور عمر کی ادائیگی کے لئے آئے ہوئے حجاج کو ظالمانہ طور پر قتل کیا ہے اور خانۂ خدا کی ایسی توہین اور گستاخی کی ہے حجر الاسواد کو اس کے مقام سے اکھاڑ دیا ہے کہ جو زمین پر دست خداوند کی مانند ہے اور وہ اس کے ذریعہ اپنے بندوں سے ہاتھ ملاتا ہے ۔ اور اب ان سب کے باجود تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہارا شکریہ ادا کروں ۔ تم پر خدا کی لعنت ہو اور پھر تم پر خدا کی لعنت ہو اور ان پر سلام ہو کہ جن کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ ہیں اور جو آج اپنے کل کی کامیاب کے لئے اسباب فراہم کر رہے ہیں »۔
جب قرمطی کو یہ خط ملا تو اس نے ان کی حکم عدولی کی اور جب وہ اپنی سر زمین «ہجر» پر پہنچا تو خداوند نے اسے ایک ایسی بیماری میں مبتلا کر دیا کہ اس کے بدن کا ہر ایک حصہ گلنے سڑنے لگا اور اس میں کیڑے پڑ گئے اور کئی مدت پر اس نے یہ عذاب برداشت کیا ۔
اس نے تقریباً بائیس سال تک اس امید میں حجر الاسود کو اپنے پاس رکھا کہ شاید لوگ حج کے لئے مکہ جانے کے بجائے اس کے شہر کی طرف جائیں ۔ دیوان خلافت کے عہدیداروں نے حجر الاسود واپس لوٹانے کے لئے پچاس ہزار دینار کی پیشکش کی لیکن اس نے اسے قبول نہ کیا ۔ اسی طرح منصور باللَّه فاطمى بن قائم بن مہدى نے طاہر کے بھائی احمد بن سعيد کے ساتھ اس کے لئے پچاس ہزار دینار بھیجے تا کہ وہ حجر الاسود واپس کر دے لیکن اس نے قبول نہ کیا ۔ بالآخر جب قرمطی ناامید ہو گئے کہ وہ حج کو اپنی سر زمین کی طرف منتقل نہیں کر پائیں گے تو حجر الاسود کو لے کر کوفہ آئے اور انہوں نے اسے مسجد جامع کے ساتویں ستون پر آویزاں کر دیا اور یہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی پیشنگوئی کی صداقت کا شاہد تھا کہ ایک دن آپ نے اس ساتویں ستون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا :
« مجبوراً ؛ حجر الاسود کو اس ستون پر آویزاں کیا جائے گا » ۔ پھر وہ حجر الاسود کو کوفہ سے مکہ لے کر آئے اور اسے اس کے مقام پر نصب کر دیا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ حجر الاسود کو واپس لا رہے تھے تو انہوں نے اسے ایک کمزور اونٹ پر لادا ہوا تھا ۔ لیکن وہ اونٹ موٹا ہو گیا تھا حالانکہ جب وہ اسے اپنی سر زمین کو طرف لے جا رہے تھے تو حجر الاسود کے وزن کی وجہ سے چالیس اونٹ مر گئے تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے اسے حکم کی وجہ سے لیا تھا اور حکم کی وجہ سے ہی واپس کیا ہے ۔
تاريخ نے قرامطہ کے ہاتھوں خلق ہونے والے بے شمار مظالم درج کئے ہیں اور کوفہ ، بصرہ اور بھرین میں ان کے تسلط کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور بالآخر خداوند متعال نے سنہ 372 ہجرى میں زمین پر ان کے شرّ و فساد کا خاتمه کر دیا ۔ (164)۔(165)
164) جهان در آستانه قرن بيست و يكم: 26 اور 27.
165) روانشناسى ضمير ناخودآگاه: 69.
منبع : غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات : ص 829








