(۲)
حنین کے راستہ میں حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم
کا ایک معجزہ
كتاب «مناقب» میں لکھتے ہیں : جب پيغمبر خدا صلى الله عليه وآله وسلم اپنے لشکر کے ساتھ جنگ کے لئے حنين کی طرف روانہ ہوئے. ۔ اچانک لشکر کے مھافظ دستے واپس لوٹ آٗے اور علمدار آگے بڑھنے سے رک گئے۔
رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا :
اے لوگو! کیا ہو گیا ہے ؟
انہوں نے کہا: راستہ میں ایک بہت بڑا اژدہا بیٹھا ہوا ہے جو پہاڑ کی طرح ہے، اس نے سارا راستہ روکا ہوا ہے، وہاں سے عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔
رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم آگے تشریف لائئے اور اس اژدہا کے سر پر جا کر کھڑے ہو گئے۔ اس اژدہا نے اپنا سر اوپر اٹھا اور بولا: اے رسول خدا !آپ پر سلام ہو۔ میں «ہيثم بن طاح بن ابليس» ہوں۔ میں آپ پر ایمان لایا ہوں اور اپنے قبیلہ کے دس ہزار افراد لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تا کہ اس جنگ میں آپ کی مدد کر سکوں۔
رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا :
انعزل عنّا وسر بأهلك عن أيماننا .
ہم سے کچھ فاصؒہ پر رہو اور اپنے خاندان اور ساتھیوں کے ساتھ ہمارے دائیں طرف چلتے رہو۔
اس نے حکم کی اطاعت کی اور یوں وہ راستہ کھل گیا اور مسلمانوں نے اپنا سفر شروع کیا .(72)
(72 المناقب : 100/1 ، بحار الأنوار : 90/18 ح 10
منبع: فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 2 ص 110








