(۱)
عمروعاص کی موت
یکم شوال المکرم کے دن «مصر» میں «عمرو عاص» واصل جہنم ہوا۔ «عبداللَّه بن عباس» سے نقل ہوا ہے کہ میں «عمرو عاص» کی حالت احتضار میں اس کی عیادت کے لئے گیا اور اس سے کہا: اے «عمرو» تم وہی ہو جو کہا کرتے تھے کہ: میں یہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت کسی عقلمند انسان سے ملاقات کرو اور اس سے پوچھوں کہ تم خود کو کیسا محسوس کر رہے ہے۔ اب تمہاری موت کا وقت آ پہنچا ہے اور تم بھی ایک عقلمند انسان ہو، اب تم ہی بتاؤ کہ تم خود کو کیسا محسوس کر رہے ہو۔ اس نے کہا: میں آسمان کو دیکھ رہا ہوں کہ جو میرے سر پر معلق ہے اور میں ان دونوں کے درمیان ایسے ہوں کہ جیسے کسی ابلتے ہوئے چشمہ میں ہوں۔
اور تاريخ «بنى اميه» میں ذکر ہوا ہے کہ «عمرو عاص» اپنی موت کے وقت کہہ رہا تھا: مجھے ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے كوه رضوى کو میری گردن پر لاد دیا گیا ہو اور اندر کانٹے ہوں اور مجھے سوئی کی سوراخ سے گذارا جا رہا ہو۔
... اس کی ہلاکت کے سال میں اختلاف ہے۔ اس کی ماں «نابغه» ایک کنیز تھی کہ جسے «عبداللَّه بن جذعان» نے خریدا اور پھر آزاد کر دیا۔ وہ ایک بہت بڑی زانیہ تھی۔ ابو لہب، امية بن خلف، ہشام بن مغيره، ابوسفيان اور عاص بن وائل نے اس کے ساتھ ایک ہی طہر میں زنا کی اور وہ «عمرو» کی صورت میں حاملہ ہوئی۔ اور جب یہ پیدا ہوا تو ہر کوئی اس کا دعویدار تھا۔ آخر کار «نابغه» کو ہی فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا اور اس نے «عاص» کا انتخاب کیا اور جب اس سے کہا گیا کہ تمہارا بیٹا «ابوسفيان» سے زیادہ مشابہ ہے تو پھر تم نے «عاص» کا انتخاب کیوں کیا؛ تو اس نے کہا: «ابوسفيان» بخيل ہے اور «عاص» اچھا نفقه دے گا اور یہ ہی وہ مقام ہے کہ جب «آل عبد المطلب» میں سے ایک نے «عمرو عاص» کے بارے میں یہ کلام کہا:
ابوك ابوسفيان لاشك قد بدت
لنافيك منه بينات الدلائل
ففاخر به اما فخرت ولا تكن
تفاخر بالعاص الهجين بن وائل
اگر ایسے حسب و نسب کے ساتھ کوئی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور علی مرتضیٰ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن ہو تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے۔
خبیث کب علی عليه السلام كا دوست بن سکتا ہے۔
جنگ صفین میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے اس کی مبارزہ آرائی، فرار اور پھر جان بچانے کے لئے برہنہ ہو کر بھاگنے کا واقعہ، قرآن کو بلند کرنا اور پھر تحکیم کا قصہ؛ یہ ایسے واقعات ہیں کہ جن میں معاویہ اور عمرو عاص نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے قلب نازنین کو بہت دکھایا۔ اور اس نے اسی حال میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی مدح و ثناء میں بارہ اشعار کہے گئے ہیں۔ آٹھ اشعار «غدير» کے دنکہے تھے:
بآل محمّد عرف الصواب
وفي أبياتهم نزل الكتاب
وهم حجج الإله على البرايا
بهم و بجدهم لا يستراب
ولا سيما ابو حسن على
له في الحرب مرتبة تهاب
طعام سيوفه مهج الا عادى
وفيض دم الرقاب لها شراب
وضربته كبيعته بخم
معاقدوها من القوم الرقاب
علي الدر والذهب المصفا
وباقي الناس كلهم تراب
هو البكاء في المحراب ليلا
هو الضحاك اذا اشتد الضراب
هو النباء العظيم وملك نوح
وباب اللَّه والقطع الخطاب
اس کا نواں شعر بہت معروف ہے کہ جس میں کہا گیا ہے:
ومناقب شهد العدو بفضلها
والفضل ما شهدت به الأعداء
«صفين» کے دوران ایک دن اس نے یہ شعر اشعار کہے کہ جب معاویہ علی علیہ السلام کی شجاعت کو نقل کر رہا تھا اور آنحضرت کی مدح کر رہا تھا اور اس سے تین اور اشعار بھی روایت ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر یہ بارہ اشعار ہیں۔
چونکہ «لكل بيت بيت في الجنة» کی رو سے خداوند مناقب میں کہے گئے ہر شعر کے بدلے جنت میں گھر عطا کرے گا لیکن «عمرو عاص» کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ہے لہذا کہتے ہیں کہ: امام حسن عليه السلام نے اس سے یہ اشعار بارہ ہزار درہم میں خرید لئے. (1)
1) وقايع الأيّام: 61.
منبع: معاويه ج ... ص ...








