(۲)
عمروعاص کا آخری کلام
جب عمرو عاص کی موت کا وقت آ پہنچا تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا: تمہارے باپ کی تمنا اور آرزو ہے کہ کاش میں غزوه ذات السلاسل میں مر جاتا، اور بیشک میں نے کچھ ایسے کام انجام دیئے ہیں کہ جن کے بارے میں میں یہ نہیں جانتا کہ آخر میں خدا کے سامنے کیا عذر پیش کروں گا؟ پھر اس نے اپنے مال کو دیکھا اور اس میں اضافہ کو ملاحطہ کیا اور کہا: اے کاش! یہ ملا بہت کم ہوتا اور میں آج سے تیس سال پہلے مر جاتا۔ میں نے معاویہ کی دنیا کو تو سنوار دیا لیکن اپنی آخرت تباہ کر لی، میں نے اپنی دنیا کو منتخب کر لیا اور اپنی آخرت کو چھوڑ دیا، مجھ پر راہ راست مخفی رہی ؛ یہاں تک کہ میرے موت آ پہنچی۔ گویا میں معاویہ کو دیکھ رہا ہوں کہ اس نے میرا استعمال کیا اور میری جگہ تم لوگوں سے بدی کی ہے۔
عمرو عاص سنہ ۴۳ ہجری کو عید فطر کی رات واصل جہنم ہوا۔ معاویہ نے اس کے بیٹے عبد اللہ بن عمرو عاص کو اس کی جگہ مقرر کیا اور پھر عمرو کے مال کو خالصہ کیا اور یہ وہ پہلا شخص تھا کہ جس نے اپنے مزدوروں اور کارمندوں کے مال کیا خالصہ کیا۔ جب وہ معاویہ کا کوئی مزدور یا کارندہ مر جاتا تو وہ اس کے مال کا آدھا حصہ خود رکھتا اور آدھا حصہ اس کے ورثہ کو بخش دیتا۔ اور جب اس سے اس بارے میں بات کی جاتی تو وہ کہتا: عمر بن خطاب نے اس روش کو رائج کیا ہے۔
پھر معاويه نے عبد اللَّه بن عمرو کو برطرف کر دیا اور اپنے بھائی عتبه بن ابى سفيان کو والى مصر مقرر کر دیا۔ (1)
1) تاريخ يعقوبى: 150/2.
منبع: معاويه ج ... ص ...








