(۳)
عمروعاص کی زندگی کے آخری لمحات
ابن عبد البر نے «استيعاب» میں نقل کیا ہے کہ: شافعی نے کہا ہے: عمرو عاص کی بیماری کے دوران ابن عبّاس اس سے ملنے آئے اور اس سے کہا: اے ابو عبد اللَّه! کہسے ہو؟
عمرو عاص نے جواب دیا: میں اپنی دنیا کے تھوڑے سے امور کو صحیح کر لیا ہے لیکن اپنے دین کو بڑے حصہ کو تباہ کر دیا ہے اور اگر میں اس کے برعکس عمل کرتا تو میں کامیاب ہو جاتا۔ اگر اب اس کی طلب اور جستجو میرے لئے سود مند ہوتی تو میں اس کو طلب کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا۔ اب میں آسمان و زمین کے درمیان معلق منجنیق کی طرح ہوں۔ نہ تو میں اپنے ہاتھوں کے ذریعہ اوپر جا سکتا ہوں اور نہ ہی اپنے پاؤں سے زمین پر آ سکتا ہوں۔ اے میرے بھتیجے! اب مجھے کوئی نصیحت کرو تا کہ میں اس سے بہرہ مند ہو سکوں۔
ابن عبّاس نے کہا: اے ابو عبد اللَّه؛ افسوس ہے کہ تمہارا یہ بھتیجا بھی تمہاری طرح گرفتار و مبتلا ہے، اور ہم نہیں چاہتے کہ تم گریہ کرو لیکن تم رو رہے ہو اور یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص ابھی تک مقیم ہے وہ کوچ کرنے والے کو حکم دے۔
عمرو عاص کبھی کبھار کہا کرتا تھا: اسّی سال سے زیادہ عمر کہاں جائے گی، اور وہ ابن عبّاس سے کہا کرتا تھا: تم مجھے رحمت خدا سے ناامید کرنا چاہتے ہو۔ پروردگارا! ابن عبّاس مجھے ناامید کر رہا ہے، تم مجھ سے جو لینا چاہتے ہو لے لو تا کہ راضی و خوشنود ہو جاؤ۔
ابن عبّاس نے کہا: افسوس ہے اے ابو عبد اللَّه! تم نے اپنے تمام اعضاء نئے لے ہیں اور اب تم پرانے اور فرسودہ واپس کرنا چاہتے ہو۔
عمرو عاص نے کہا: اے ابن عبّاس! میرے اور تمہارے درمیان آخر ایسا کیا ہوا کہ میں تم سے جو کچھ بھی کہتا ہوں تم اس کے الٹ بات کرتے ہو؟ (1)
1) نهاية الأرب: 71/7.
منبع: معاويه ج ... ص ...








