امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۴) زندگی کے آخری لمحات میں عمرو عاص کی باتیں

(۴)

زندگی کے آخری لمحات میں عمرو عاص کی باتیں

   عمرو عاص اسی طرح والی مصر تھا یہاں تک کہ وہ سنہ ۴۳ ہجری کو عيد الفطر کے دن ہلاک ہو گیا اور اس سے پہلے اس کی موت کی تاریخ صحیح نہیں ہو. (1)

   بخاری کی کتاب «تاريخ الكبير» (جو غلطیوں او توهّمات سے بھری ہوئی ہے) میں بھی یہ مطلب بیان ہوا ہے۔ اس کے بیٹے نے اس پر نماز پڑھی اور پھر اس نے لوگوں کے ساتھ عید کی نماز ادا کی۔ عمرو بن عاص کو جبل ‏المقطّم میں فج کے اطراف میں دفن کیا اور پلاکت کے وقت اس کی عمر 90 سال تھی۔ اور جب اس کی موت کا وقت قریب ہوا تو اس نے کہا: خدايا! تو نے مجھے حکم دیا لیکن میں نے نہیں سنا، تو نے مجھے نہی کی لیکن میں نے تیرے حکم پر عمل نہ کیا اور پھر اس نے گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا: خدايا! کوئی ایسی قوت نہیں ہے کہ جس سے میں قوی ہو جاؤ، اور کوئی برائت نہیں ہے کہ میں کوئی عذر طلب کرو اور میں مستكبر بھی نہیں ہو؛ بلکہ میں استغفار کرنے والا ہو! اور وہ مسلسل یہی کہہ رہا تھا یہاں تک کہ ہلاک ہو گیا۔ اس کے بیٹے عبد اللہ کی نسل سے اس کے بیٹے کم ہیں اور اس کے دوسرے بیٹے محمد کی نسل سے اس کے زیادہ بیٹے ہیں۔(2)

 


1) عمرو بن عاص کی ہلاکت کی تاریخ کے بارے میں سنہ 51  ، 48 ، 43 ، 42  اور 58 ذكر ہوئے ہیں۔ لیکن سنہ 43 ہجری کے بارے میں زیادہ اقوال ذکر ہوئے ہیں اور کتاب تہذيب التہذيب: 57/8 میں یہ اقوال ذکر ہوئے ہیں۔

2) اعلام نصر مبين، در داورى ميان اهل صفين: 122.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 946