(۱)
متوکّل کی حکومت کے دوران
ابن اثیر کے قول کے مطابق متوكّل عبّاسى کے دور میں ہر اس شخص کی جان اور مال کو خطرہ لاحق تھا جو دل میں علی اور خاندان علی علیہم السلام سے محبت کرتا اور وہ کسی صورت میں بھی ان پر رحم نہیں کرتا تھا (832) کہ جس طرح وہ مصر کے شیعوں کے ساتھ پیش آتا تھا کہ جس کے بارے میں مرحوم مظفّر نے مقريزى کی زبان سے یوں بیان کیا ہے:
«متوكّل نے مصر میں اپنے حاکم و والی کو خط لکھا کہ آل ابى طالب کو مصر سے نکال دو اور انہیں عرق بھیج دو۔ مصر کے حاکم (اسحاق بن يحيى خُتَلى) نے انہیں دس رجب سنہ 236 ہجری کو وہاں سے باہر نکال دیا اور وہ عراق چلے گئے لیکن پھر انہیں اسی سال سوال کے مہینہ میں عراق سے مدینہ کی بھی نکال دیا گیا۔ اگر مصر میں کوئی مذہب على و خاندان علی عليہم السلام کا پابند ہوتا تو وہ مخفیانہ طور پر زندگی بسر کرتا تھا۔ حتی مصر کے امیر اور حاکم نے اپنے ایک سپاہی کو سزا کے طور پر تازیانہ مارنے کا حکم دیا اور اس نے حاکم کو حسن و حسين عليہما السلام کے حق کا واسطہ دیا کہ وہ اسے معاف کر دے لیکن حاکم نے حکم دیا کہ اسے تیس اور تازنانہ ماریں جائیں۔ قاصد نے یہ واقعہ متوكّل سے بیان کیا۔ اس کے بعد متوكّل کی جانب سے امير مصر کو خط ملا کہ جس میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس علوی سپاہی کو مزید سو تازیانہ مارے جائیں۔ امیر مصر نے بھی اس حکم کے مطابق عمل کیا اور اس کے بعد اسے دوسرے شیعوں کی طرح عراق کی طرف بھیج دیا۔ اس واقعہ کے بعد امیر مصر نے مصر کے شیعوں کو تلاش کرنا شروع کیا اور جب اسے کوئی شیعہ ملتا تو اسے عراق کی طرف بھیج دیتا۔ حاکم مصر کو ایک ایسے شخص کے بارے میں اطلاع ملی کہ جس کا نام محمّد بن على بن حسن بن علىّ بن حسين بن ابى طالب تھا جس کے بارے میں حاکم کو بتایا گیا کہ مصر میں ان کے لئے بیعت لی گئی ہے۔ اس نے حکم دیا کہ جس جگہ ان کی بیعت کی گئی اسے آگ لگا دی جائے اور انہیں گرفتار کرکے ان تازیانہ مارے گئے اور اس علوی شخص کو آل ابی طالب میں سے کچھ لوگوں کے ساتھ عراق کی طرف نکال دیا گیا ».(833)
اسی دوران يزيد بن عبداللَّه تركى(834) کی حکومت کے زمانے میں متوكّل کے حکم پر علويوں اور شيعيوں کو مصر سے عراق کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔ منجملہ ایک مشہور علوی ابوحذرى اور ان کے ساتھی تھے کہ جنہیں ماہ رمضان میں سنہ 248 ہجری میں مصر سے نکال دیا گیا اور پھر سنہ ۲۵۰ ہجری میں ماہ رمضان کے ہی دوران علویوں میں سے چھ افراد کو، اور سنہ ۲۵۱ ہجری میں رجب کے مہینہ میں علویوں میں آٹھ بزرگ افراد (835) کو مصر سے نکال دیا گیا کہ ظاہراً ان میں سے ایک محمّد بن فرج بھی تھے کہ جو امام ہادی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اور جو آٹھ سال تک عراق کے زندان میں رہے. (836)
كندى لکھتے ہیں: جب منتصر تخت نشین ہوا تو اس نے يزيد بن عبد اللَّه کو حاکم قرار دیا اور اسے خط لکھا: کسی علوی کو قبول نہ کیا جائے اور نہ تو وہ گھوڑے پر سوار ہو اور نہ ہی فسطاط سے اس کے اطراف میں سفر کرے اور اسے ایک غلام سے زیادہ حقوق نہیں ملنے چاہئیں، اگر لوگوں میں سے کسی کا کسی علوی سے کوئی نزاع و اختلاف ہو جائے تو علوی کے مقابل کی بات کو قبول کیا جائے اور اس سے دلیل اور بینہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ (837).(838)
832) الكامل: 318/4.
833) محمّدحسين مظفّر؛ تاريخ شيعه؛ ترجمه و نگارش سيّد محمّدباقر حجّتى (تهران، نشر دفتر فرهنگ اسلامى،1368ش) ص 263.
834) يزيد بن عبد اللَّه بن دينار بنى عبّاس کے ترک حاکموں میں سے تھا کہ جسے سنہ 242 ہجری اور متوكّل کے زمانے میں مصر کی حکومت ملی اور اس نے دس سال مصر پر حکومت کی۔
835) ولاة مصر: 230 - 229.
836) ولاة مصر: 230 - 229.
837) ولاة مصر: 230.
838) فاطميان در مصر: 70.
منبع: معاویه ج ... ص ...








