امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۳) امام حسين ‏عليه السلام کے حرم کو حائر کیوں کہتے ہیں؟

(۳)

امام حسين ‏عليه السلام کے حرم کو حائر کیوں کہتے ہیں؟

  سنه 236 ہجری (کہ جو «وجوْرٌ جديد» کےمطابق تھا) میں لوگوں کو امير المؤمنين حضرت علی علیہ السلام اور سيّد الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی زیارت سے منع کر دیا گیا اور یہ حکم دیا گیا کہ حضرت ابا عبد اللَّه الحسين ارواحنا فداه کی قبر مطہر اور آثار کو تباہ و برباد کر دیا جائے اور قبر مبارک پر پانی جاری کر دیا جائے۔ شاعر کے بقول:

آبى كه به زندگى ندادند به او

چون گشت شهيد بر مزارش بستند

   جی ہاں! امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی جانب پانی کو جاری کیا گیا لیکن پانی آگے نہ بڑھا بلکہ وہیں کھڑا رہا۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک و مشہد شریف کو «مشہد حائريّه» کہا جاتا ہے؛ اس کی یہ وجہ ہے کہ جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ پانی امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی جانب نہیں بڑج رہا تو وہ لوگ بہت حیرت زدہ ہوئے جیسا کہ «حبيب السير» میں بیان ہوا ہے.

   بعض کہتے ہیں کہ خود پانی حیران و سرگردان تھا اور جیسا کہ زيد مجنون کی حکایت میں بیان ہوا ہے کہ اس کام کے لئے موكِّل لئے گئے شخص نے کہا ہے: «وكلّما أجريت الماء إلى قبر الحسين‏ عليه السلام ‏غار و حار واستدار ولم يصل إلى القبر قطرة».

   وصال شيرازى کہتے ہیں:

عدو به مرقد او آب بست و پيش نرفت

هنوز آب مگر شرم از آن گلو دارد؟

   منجملہ متوكّل نے بھی نور خدا کو مٹانے کی بہت کوشش کی حتی کہ کتاب «اربعين الحسينيّه» میں نقل کیا گیا ہے کہ سترہ مرتبہ امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کو تباہ و برباد کیا گیا لیکن یہ پھر پہلے سے زیادہ بیتر صورت میں آشکار ہوئی۔

   کتاب «جلاء» میں کہتے ہیں: سترہ مرتبہ امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کا نام و نشان مٹا دیا گیا لیکن جب وہ واپس آتے تو دیکھتے کہ قبر اپنی سابقہ حالت میں موجود ہے اور جس شخص کو یہ کام کو انجام دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی؛ وہ یہ معجزہ دیکھ کر مؤمن اور شیعہ ہو گیا کہ جس کی وجہ سے متوكّل نے اسے قتل کر دیا لیکن وہ اس چیز سے غافل تھا کہ:

كى شود دريا ز پوز سگ نجس

كى شود خورشيد از پف منطمس

«يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ ‏الْكَافِرُونَ»(1478).

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ سے پھونک مار کر بھجا دیں حالانکہ خدا اس کے علاوہ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو تمام کر دے چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی برا کیوں نہ لگے.

چراغى را كه ايزد برفروزد

هر آن كس پف كند ريشش بسوزد

  حديث «زائده»(1479) میں ہے کہ جب عليا مكرّمه حضرت زينب‏ عليہا السلام نے كربلا سے روانگی کے وقت حضرت زين العابدين ‏عليه السلام کے جزع و اضطراب کو دیکھا تو عرض کیا:

«وينصبون لهذا الطّفّ علَماً لقبر أبيك سيّدالشهداء عليه السلام لايُدرس أثره».

(يعنى : ) اس سرزمین میں اپنے والد بزرگوار سید الشہداء کی قبر پر ایسی علامت و نشانی نصب کریں گے کہ جس کا اثر کبھی برطرف نہیں ہو گا اور جو گردش لیل و نہار سے محو نہیں ہو سکے گا.

اگرچہ ظالم و جابر حکمرانوں نے اسے مٹانے کی بے انتہا کوشش کی یہ اس کے ظہور اور عظمت میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔

   اور پھر ویسے ہی ہوا جیسے اس عالمۂ غير معلّمه نے فرمایا تھا۔

   اہلبیت علیہم السلام کے دوست اور محب ہر زمانے میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی زیارت کے لئے گئے اور آپ کے روضۂ مطہر کی تعمیر کے لئے کوشاں رہے اور انہوں نے جدید شہر کی بنیاد رکھی کہ جس کا اب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ کیسی کیسی عالی عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں لیکن متوكّل لعين عذاب الٰہى میں گرفتار ہو گیا اور خود اس کے زمانے میں بھی لوگ متوكّل کے اس برے فعل کی وجہ سے اس سے منتفر ہو چکے تھے کہ جسے «منتهى‏ الآمال» میں نقل کیا گیا ہے:

   اہل بغداد اپنے در و دیوار پر اس کے لئے گالیاں اور فحش و دشنام لکھتے تھے اور شعراء اپنے اشعار میں اس خبیث کا مذاق اراتے تھے۔ اس کے مذاق پر مبنی اشعار میں سے کچھ اشعار کتاب «ہدية الأحباب» میں ابن بسّام (متوفّى 302 ہجری) سے نقل ہوئے ہیں:

تاللَّه لو كانت اميّة قد أتت

قتل ابن بنت نبيّها مظلوماً

فلقد أتاه بنو أبيه بمثلها

هذا لعمرك قبره مهدوماً

اسفوا على أن لايكونوا شاركوا

في قتله فتتبّعوه رَميماً

خدا کی قسم! اگر بنى ‏اميّه نے اپنے پیغمبر کی بیٹی کے فرزند ( نواسۂ پیغمبر) کو مظلومانہ طور پر قتل کیا ہے۔

بنى ‏عبّاس بھی آئے اور انہوں نے بھی ایسے ہی کیا اور اب یہ دختر پیغمبر کے فرزند کی قبر تباہ و برباد ہوئی ہے۔

وہ لوگ پریشان تھے کہ وہ ان کے قتل میں شریک نہیں تھے اور وہ اس ہدف و مقصد کے لئے نکلے کہ جب ان کی ہڈیاں فرسودہ ہو چکی تھیں۔

   عبد اللَّه بن رابيه سے یوں نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سنہ 247 ہجری میں به خانهٔ خدا کے حج سے مشرّف ہوا اور جب میں وہاں سے واپس لوتا تو عراق کی طرف آیا اور میں نے نہایت خود کے عالم میں ‏امير المؤمنين حضرت علی ‏عليه السلام کی قبر مطہر کی زیارت کی کیونکہ متوكّل نے لوگوں کو آنحضرت کی قبر مطہر کی زیارت کرنے سے مردم را منع ‏كیا تھا۔

   اور پھر میں حضرت امام حسين صلوات اللَّه عليه کی زیارت کے لئے روانہ ہوا اور جب میں كربلا پہنچا تو میں نے دیکھا کہ سرور شہیداں امام حسین علیہ السلام کی قبر مططہر کے اطراف میں پانی چھوڑ دیا گیا ہے اور وہاں گائے اور بھینسیں باندھی ہوئی ہے اور زمین پر ہل چلا دیا گیا ہے اور میں نے خود اپنی آںکھوں سے دیکھا کہ گائے اور بھینسوں کو قبر مطہر کے پاس لے کر جاتے اور انہیں جس قدر بھی لکڑت اور چھڑی سے مارتے لیکن وہ آنحضرت کی قبر مطہر پر نہ جاتیں بلکہ قبر کے دائیں یا بائیں جانب بھاگ جاتیں۔

   میں قریب سے قبر مطہر کی زیارت نہ کر سکا لہذا میں نے دور سے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی اور پھر بغداد کی طرف چلا گیا اور میں خود سے ہی یہ کہہ رہا تھا  کہ اگرچہ بنی امیہ نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا اور بنی ‏العبّاس آنحضرت سے قرابت و محبت کا دعویٰ کر رہے تھے لیکن افسوس! یہ لوگ امام حسین علیہ السلام کے قتل کے وقت موجود نہیں تھے اور جس کا انتقام اب وہ آنحضرت کی قبر سے لے رہے ہیں۔

   پس جب میں بغداد پہنچا تو میں نے لوگوں میں اضطراب دیکھا اور کہا: آخر کیا ہوا ہے؟

کہا گیا: خبر ملی ہے کہ متوكّل کو قتل کر دیا گیا ہے اور میں جانتا تھا کہ یہ آنحضرت کے اعجاز میں سے ہے۔

  دعبل:

أرى اُميّة معذورين إن غدروا                 ولا أرى لبنى العبّاس من عُذر

   ... الخ.

   اور ایک دوسرے شاعر نے کہا ہے کہ:

واللَّه ما فعلتْ اُميّة فيهم                             مِعشار ما فعلتْ بنوالعبّاس

خدا کی قسم! کوئی ایسا درہم نہیں ہے کہ جس میں بنی امیہ نے خاندان پیغمبر صلى الله عليه و آله و سلم‏ پر ظلم کیا ہو لیکن اس میں بنی عباس اس ظلم کے مرتکب نہ ہوئے ہوں. (1480)


1478) سوره توبه، آيه 32.

1479) زائدة بن قدامه؛ نامور محدّثین میں سے ہیں۔

1480) نفائح العلاّم فى سوانح الأيّام: 72/2.

 

منبع: معاویه ج .... ص ....

 

بازدید : 935