امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۴) متوكّل کا یہودیوں کے ہاتھوں امام حسين ‏عليه السلام کی قبر مطہر کو تباہ و برباد کرنا

(۴)

متوكّل کا یہودیوں کے ہاتھوں

امام حسين ‏عليه السلام کی قبر مطہر کو تباہ و برباد کرنا

   متوكّل آل ابو طالب کے ساتھ بہت برا سلوک کرتا تھا اور ان کے ساتھ بہت تندی، خشونت اور سختی سے پیش آتا تھا اور اس کے دل میں ان کے لئے بغض و کینہ تھا اور وہ ان سے بدگمان تھا۔ اور جو چیز اس تندی اور سختی میں مزید اضافہ کا باعث بن رہی تھی وہ اس کے وزير عبيد اللَّه بن يحيى ‏بن خاقان کی وہ باتیں تو جو وہ اس سے بیان کرتا تھا۔ آل ابو طالب سے متوکل کی بدسلوکی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ بنی عباس کے خلفاء میں سے کسی نے بھی اس طرح کا سلوک روا نہیں رکھا تھا۔

   اس کی بد اعمالیوں اور ناشائستہ کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ اس نے امام حسين‏ عليه السلام کو تباہ و برباد کر دیا اور اس پر زراعت اور کھیتی باڑی شروع کر دیا۔ اس نے راستوں میں اپنے سپاہی پھیلا دیئے تا کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آنے والوں کو گرفتار کر کے اس کے پاس پیش کریں اور پھر وہ ان زائرین کو قتل کرنے یا انہیں قید کرنے کا حکم صادر کرتا۔

   اور احمد بن جعد وشّاء نے بیان کیا ہے کہ متوكّل کے اس عمل کا سبب یہ تھا کہ اس کے منصب خلافت سنبھالنے سے پہلے اس مغنّيه عورتوں میں سے ایک اپنی کنیزوں کو اس کے پاس ببھیجتی تھی تا کہ جب بھی وہ شراب پئے تو وہ اس کے لئے گانا گائے۔ اور جب اسے خلافت ملی تو اس نے کسی کو اس مغنّيه عورت کے پاس بھیجا تو کہ وہ اس کنیز کو اس کے پاس بھیجے۔ لیکن وہ عورت گھر میں نہیں تھی بلکہ امام حسين ‏عليه السلام کی قبر کی زیارت کے لئے گئی ہوئی تھی۔ اور جب اسے اس کی خبر ہوئی کہ متوكّل نے اس کی تلاش  میں بھیجا تو وہ جلدی سے واپس آ گئی اور متوكّل کی پسندیدہ کنیزوں میں سے ایک کنیز اس کے پاس بھیج دی۔

   متوكّل نے اس كنيز سے پوچھا: کہاں گئی تھی؟

   اس نے جواب دیا: ہماری وہ خاتون حج کے لئے گئی تھی اور وہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی اور چونکہ یہ واقعہ شعبان کے مہینہ میں پیش آیا تھا لہذا متوكّل نے پوچھا: تم لوگ شعبان کے مہینہ میں کہاں حج کے لئے گئے تھے؟

   كنيز نے جواب دیا: ہم امام حسين‏ عليه السلام کی قبر کی زیارت کے لئے گئے تھے۔

   متوكّل اس بات پر بہت غضبناک ہوا اور اس نے حکم دیا کہ اس کنیز کی مغنّيه عورت کو زندان میں پھینک دیا جائے اور اس کے گھر اور مال کو ضبط کر لیا جائے۔  اور پھر اس نے اپنی قریبی افراد میں سے «ديزج» نامی ایک شخص ( جو پہلے یہودی تھا اور کچھ عرصہ قبل ہی مسلمان ہوا تھا) کو امام حسين‏ عليه السلام کی قبر خراب کرنے کے لئے روانہ کیا اور اسے حکم دیا کہ اس جگہ کو بالکل نام و نشان مٹا دو اور اس کے اطراف میں موجود گھروں کو بھی تباہ و برباد کر دو۔

   ديزج طبق دستور متوكّل کے حکم پر دیزج کربلا آیا اور اس نے امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر اور قبر مطر کے چاروں طرف دو سو جریب زمین کو بالکل تباہ و برباد اور ویران کر دیا اور یہی واقعہ سبب بنا کہ کوئی اس قبر کے پاس نہ جائے اور پھر دیزج وہاں اپنے ساتھ کچھ یہودیوں کو لے کر گیا اور انہیں حکم دیا کہ ان زمینوں پر کھیتی باڑی کریں اور اس نے ان زمینوں پر پانی جاری کر دیا اور اس کے اطراف میں اس قدر زیادہ مسلح سپاہی تعینات کر دیئے کہ جن کے درمیان ایک میل سے بھی کم فاصلہ ہوتا اور انہیں حکم دیا کہ جو کوئی بھی اس قبر کی زیارت کے لئے آئے اسے گرفتار کر کے اس کے پاس بھیج دیا جائے۔(1644)


1644) ترجمه مقاتل الطالبيّين: 566.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 1086