امام صادق عليه السلام : جيڪڏهن مان هن کي ڏسان ته (امام مهدي عليه السلام) ان جي پوري زندگي خدمت ڪيان هان.
(۴) جناب حمزه سے ابو سفیان اور ہند کی دشمنی

(۴)

جناب حمزه سے ابو سفیان اور ہند کی دشمنی

   ابو سفیان اور معاویہ کی ماں ہند نے بارہا بنی ہاشم اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دیگر ساتھیوں سے اپنی دشمنی کو آشکار کیا۔

  جنگ احد میں ان لوگوں اور بالخصوص معاویہ کی ماں ہند کی دشمنی دوسروں سے زیادہ آشکار تھی۔ اس زانیہ عورت نے جنگ احد میں جو جرم اور ظلم کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر ہم جنگ احد کا واقعہ ذکر کرنا چاہیں تو ہمیں اس کتاب کے بہت زیادہ صفحات اس بارے میں مختص کرنے ہوں گے۔ اس بناء پر ہم اس تفصیلی موضوع سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف ان چند نکات کو ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں کہ جن سے ہم یہاں استفادہ کر سکتے ہیں اور نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ اس بناء پر ہم یہاں جناب حمزه عليه السلام کی شہادت کا واقعہ نقل کرتے ہیں اور اس کے ضمن میں موجود واقعات کو اس بحث میں ذکر کرتے ہیں:

«اگرچہ حضرت حمزه عليه السلام کو وحشىِ حبشى نام ایک شقی غلام نے شہید کیا لیکن اس ہولناک ظلم عظیم کو انجام دینے کے لئے دو افراد نے اس کی تشویق کی اور اسے اس عمل کی انجام دہی کے لئے ترغیب دلائی۔ اور درحقیقت اس قبیح عمل کے دو بنیادی کردار تھے:

   1 - جُبير بن مُطعِم: ابن ابى الحديد اس بارے میں کہتے ہیں: «و كان حمزة بن‏ عبدالمطلّب مغامراً غشمشماً لايبصر أمامه»؛  «حمزہ بن عبدالمطلّب بہت نڈر اور جرأت مند تھے اور وہ جنگوں میں اپنے سامنے کسی کو نہیں دیکھتے تھے».

   پھر وہ کہتے ہیں: جنگ احد کے واقعہ میں جبير بن مطعم نے اپنے ‏وحشى غلام سے یوں کہا: «ويلكم إنّ عليّاً قتل عمّي طُعَيمة...» ؛ «واى ہو تم پر؛ تم جانتے ہو کہ علی نے جنگ بدر میں میرے چچا طعيمه کو قتل کیا اور...» پس اگر اس جنگ میں تم نے انہیں قتل کر دیا تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا اور اگر تم نے محمّد یا حمزه کو بھی قتل کر دیا تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ کیونکہ ان تین افراد کے علاوہ کوئی بھی میرے چچا کے برابر نہیں ہے۔

   وحشى نے جواب دیا: محمّد کو ان کے اصحاب گھیرے رکھتے ہیں اور ان تک رسائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور علی جنگ کے دوران اس قدر ہوشیار اور خبردار ہوتے ہیں کہ وہ کسی کو حملہ کرنے کا موقع ہی نہیں دیتے لیکن حمزه کے بارے میں یہ ممکن ہے کیونکہ وہ جنگ کے دوران اتنے غصہ میں ہوتے ہیں کہ وہ اپنے سامنے کسی چیز کو نہیں دیکھتے! (1)

   جبير بن مطعم نے اپنے وعدہ کو پورا کیا اور جب وہ وحشی مکہ پہنچ گیا تو اسے آزاد کر دیا۔

   2 – دوسرا عامل کہ جس نے وحشى اس ظلم عظیم کو انجام دینے کے لئے تشویق دلائی اور جس کا حمزه کی شہادت میں بنیادی کردار ہے؛ وہ ابو سفیان کی بیوی ہند ہے۔

   وہ خوبصورتی اور مکھن لگانے میں مکہ کے لوگوں میں مشہور تھی(2) وہ وحشی کی چالاکی و بے باکی اور جبیر سے کئے گئے اس کے عہد و پیمان سے آگاہ تھی۔ ہند نے اس سے ملاقات کی اور اسے اس کام کو انجام دینے کی تاکید کی کہ جس کی ذمہ داری وہ پہلے سے ہی لے چکا تھا اور ہند نے ان تین افراد میں سے کسی ایک کو قتل کرنے کے بدلے اسے انعامات دینے کا بھی وعدہ کیا۔

وحشی نے ہند کو وہی جواب دیا جو اس نے جبير کو دیا تھا اور اسے حمزه کو قتل کرنے کی امید دلائی اور راستے میں جہاں کہیں بھی وحشی اور ہند کا آمنا سامنا ہوتا تو ہند اس جملہ سے اسے خطاب کرتی اور اسے اس کے ارادہ اور مقصد کے حصول کی تشویق و ترغیب دلاتی اور کہتی: «ويهاً يا أبا دسمة؛ إشف‏ واستشف»؛  «اے ابا دسمه (یہ وحشی کی کنیت ہے) ہوشیار رہنا؛ کہ جب تک ہمارے دل کو آرام اور خود کو آزاد نہ کر لو ».

   بعض مؤرخین کے بقول وحشی نے خود کہا ہے کہ: اس تشویق و ترغیب کی وجہ سے مشرکین کے ساتھ احد کے علاقے میں داخل ہوئے اور اس کا یہ مسلم ارادہ تھا کہ وہ اپنی آزادی اور ہند کے انعامات حاصل کرے گا۔ وہ «حربه»(3) اندازى کے فن میں مہارت رکھتا تھا اور نشانہ لگانے میں بہت کم خطا کرتا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ: میں گھمسان کی جنگ میں حمزہ تک پہنچے کی لئے میدان میں داخل ہوا اور میں کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا، میں درختوں اور پتھروں کے پیچھے چھپ کر آگے بڑھ رہا تھا تا کہ میں تیروں سے بھی محفوظ رہوں ؛ «... أستتر منه بشجرة أو بحجر ليدنو منّي...».

   اسی دوران میدان میں حمزه نطر آئے اور میں نے دیکھا کہ جو کوئی بھی ان کے سامنے آتا ہے وہ یا تو اسے بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں یا ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیتے ہیں۔ میدان میں حمزه کی دو نشانیاں تھیں کہ جن سے وہ پہچانے جاتے تھے؛ ایک یہ کہ وہ دونوں ہاتھوں سے دو تلواروں کے ساتھ جنگ کرتے تھے اور دوسری نشانی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ٹوپی پر شترمرغ کا پر لگایا ہوتا تھا۔

   وحشى کا بیان ہے کہ: اسی دوران مشرکین کی سپاہ میں سے «سباع بن عبدالعزى» حمزه کے سامنے آیا اور حمزه نے چیخ کر کہا: «هلمّ إليّ يا ابن مقطّعة البظور»؛ «اے پست عورت کے بیٹے؛ میری طرف آگے بڑھو»، اور پھر اس پر حملہ کیا اور اسی جنگ کے دوران وہ میری کمین گاہ کے نزدیک پہنچ گئے۔ حمزه شیر کی طرح کسی کو خود پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے لیکن ایک مناسب موقع میں اب وہ میرے سامنے آ چکے تھے میں نے اپنا«حربه» ( ایک قسم کا نیزہ) حمزه کی طرف پھینکا۔ میرا حربہ حمزه کے زیر شکم(4) جا کر لگا اور ان کی پیٹھ سے باہر نکل آیا! انہوں نے پھر بھی مجھ پر حملہ کرنا چاہا لیکن اب ان کی قوت اور توانائی ختم ہو چکی تھی اور میری طرف چند قدم بڑھنے کے بعد وہ زمین پر گر گئے۔ اور اس وقت جنگ میں ایسے حالات تھے کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس طرف متوجہ نہیں تھا لہذا میں نے ایک کنارے پر بیٹھ کر صبر کیا اور جب مجھے اطمینان ہو گیا کہ حمزه اب زندہ نہیں ہیں تو میں ان کی طرف گیا اور وہاں سے اپنا حربه لے کر لشکر کو ان کے قتل کی خوشخبری (کیونکہ اس کے علاوہ میرا اور کوئی مقصد نہیں تھا) سنائی۔ (5)

  امام صادق عليه السلام سے ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ وحشى کا حربہ حمزه کے گلے کے نیچے لگا اور جب وہ زمین پر گر گئے تو دشمن نے ہر طرف سے ان پر حملہ کیا اور متعدد وار کر کے انہیں شہید کیا۔ اور اسی موقع پر وحشی نے آنحضرت کے سینہ کو چیر کر آپ کے جگر کو نکالا اور ہند سے انعام لینے کی غرض سے اس کے پاس جگر لے کر گیا۔ ہند نے جگر منہ میں ڈال کر اسے کھانا چاہا لیکن وہ جگر ہڈی کے ٹکڑے کی طرح بن گیا جس کی وجہ سے اس نے جگر کو منہ سے باہر پھینک دیا۔ (6)

   شہادت کے بعد جناب حمزه کا جسد: حضرت حمزه‏ عليه السلام کی شہادت کے بعد سے لے کر دفن تک آپ کے جسد مطہر کے ساتھ کچھ واقعات پیش آئے کہ جنہیں ہم یہاں ذکر کرتے ہیں:

   1 - حضرت حمزه‏ عليه السلام کا جسد مطہر اور ہند: حضرت‏حمزه کی شہادت کے بعد سب سے پہلا واقعہ یہ تھا کہ ہند نے آپ کے جسد مطہر کو مثله‏ کیا۔

   طبرى اس بارے میں کہتے ہیں: حمزة بن عبدالمطلّب کی شہادت اور جنگ کے شعلے خاموش ہو جانے کے بعد ہند قريش کی دوسری عورتوں کے ساتھ میدان جنگ کی طرف گئی اور پیغمبر ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اصحاب کے جسم کے اعضاء کو مُثله كرنے میں مصروف ہو گئی۔ ان عورتوں میں سے ایک ہند تھی جو حمزه کے جسد کے پاس پہنچی اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اور ان کے کان، ناک اور دوسرے اعضاء بدن کو کاٹ دیا اور ان سے اپنے لئے پازیب اور گردن بند بنایا اور اپنے زیورات وحشی کو بخش دیئے اور اسی نے ہی حمزه کے سینہ کو چیر کر ان کا جگر نکالا اور اسے کھانا چاہا لیکن وہ اسے نہ کھا سکی۔ (7)

  تفسير قمى میں ذکر ہوا ہے: «فجائت إليه هند فقطعت مذاكيره، وقطعت اُذنيه‏ وقطعت يديه ورجليه»؛ «جب ہند؛ حمزه کے جسد کے پاس پہنچی تو اس نے ان کے بدن کے تمام اعضاء اور ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے »۔

   طبرى لکھتے ہیں: اس ظلم کو انجام دینے کے بعد ہند نے ایک بہت بڑے پتھر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے بلند آواز سے اپنے وہ مشہور اشعار پڑھے۔ اکثر مؤرخین نے ہند کے ان اشعار کو نقل کیا ہے کہ جو کچھ یوں ہیں:

نحن جزيناكم بيوم بدر

والحرب بعد الحرب ذات سعر

ما كان عن عتبة لي من صبر

ولا أخي وعمّه وبكري

شفيت نفسي وقضيت نذري

شفيت وحشي غليل صدري

فشكر وحشيّ عليّ عمري

حتّى ترم أعظمي في قبري(8)

یہ قتل و كشتار جنگ بدر کی وجہ سے ہماری طرف سے تمہارے لئے جزاء ہے؛ کیونکہ جنگ کے بعد جنگ کی اہمیت ہے۔

عُتبه ، اپنے بھائی اور اپنے چچا اور بکر کے غم میں میرا صبر لبریز ہو چکا تھا۔

اور اب مجھے شفاء ملی ہے اور میں نے اپنی نذر ادا کی ہے؛ اے وحشی! تم نے اپنے عہد و پیمان کو وفا کیا اور میرے سینہ سے غم کو دور کیا۔

مجھ پر لازم ہے کہ جب تک زندہ ہوں اس کی شکر گذار رہوں، بلکہ قبر میں اپنی ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے تک اس کی شکر گذار رہوں۔

   ابن اسحاق کہتے ہیں: حمزه کے جسد کو مثلہ کرنے کے بعد ہند نے جو اشعار پڑھے وہ یہ تھے:

شفيت من حمزة نفسي باُحد

حتّى بقرت بطنه عن الكبد

أذهب عنّي ذاك ما كنت أجد

من لذعة الحزن الشّديد المعتمد

حمزه کے لئے میرے دل میں موجود کینہ سے مجھے احد میں تشفّى ملی کہ جب میں ان کے شکم کو جگر تک چیر دیا۔

اس عمل نے میری پریشانی کو ختم کر دیا کہ جو ہمیشہ شدید حزن کی صورت میں مجھ پر غالب تھا۔ (9)

   2 - حضرت حمزه‏ عليه السلام کا جسد اور ابو سفیان: ابن اسحاق لکھتے ہیں: حمزه کے مثلہ ہونے کے بعد مشرکین کی سپاہ میں سے«حُلَيس بن زبان» نے دیکھا کہ ابوسفيان نوك نيزه سے آنحضرت کے جسم کو دبا رہا ہے اور  اس پر زور دیتے ہوئے کہہ رہا ہے: «ذُق يا عقق(10)»؛ « اب مزہ چکھو، اے (بتوں سے) عاق ہونے والے!»

   حليس نے کہا: یہ عجیب شرمناک کام ہے! جو شخص خود کو قوم کا رئیس و سربراہ کہتا ہے وہ اپنے چچا زاد کے ساتھ ایسا توہین آمیز اورخشونت پر مبنی ناروا سلوک کرے کہ جس کا جسم گوشت کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے!

   ابوسفيان نے کہا: «ويحك؛ اكتمها عنّي، فإنّها كانت زلة»؛ «یہ ایک لغزش تھی جو سرزد ہوئی، اسے فاش نہ کرنا»(11) ­.(12)

 


1) شرح نہج البلاغه: 243/1، تاريخ ابن كثير: 11/3، الروض الأُنُف: 138/3، بحار الأنوار: 83/2.

2) مجالس المؤمنين: 178/1.

3) حربه: ایک قسم کا چھوٹا سا نیزہ کہ جسے چند قدم کی دوسری سے دشمن کی طرف پھینکا جاتا ہے۔

4) بعض کتابوں میں «فأصابت لِيَّتَه» کچھ دوسری کتابوں میں «فأصابت ثنيّته» لکھا گیا ہے ہہلے کے معنی ’’زیر شکم‘‘ اور دوسرے کے معنی ’’زیر گلو ( یعنی گلے کے نیچے) ‘‘ ہیں۔

5) تاريخ ابن كثير: 19/4، كامل ابن اثير: 108/2.

6) ارشاد مفيد: 92.

7) طبرى: 385/2، كامل ابن اثير: 111/2، سيره ابن پشام: 36/3.

8) الروض الاُنُف: 169/3، كامل ابن اثير: 37/4.

9) الروض الاُنُف: 107/3.

10) عقق ( پہلے کو پیش اور دوسرے پر زبر کے ساتھ، جو عقّ سے لیا گیاہے اور صيغهٔ مبالغه ہے جیسے فسق.

11) سيره ابن ہشام: 37/3، الروض الاُنُف: 170/3.

12) تاريخ حرم ائمّه بقيع عليہم السلام: 340.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

دورو ڪريو : 1063