امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۵) جناب حمزه ‏عليه السلام کی قبر اور ابو سفیان

(۵)

جناب حمزه ‏عليه السلام کی قبر اور ابو سفیان (1)

 ابن ابى الحديد لکھتے ہیں: عثمان کی خلافت کے زمانے میں ابوسفيان  حضرت حمزه عليه السلام کی قبر کے پاس سے گذرا، اور جب اس کی نظر قبر پر پری تو اس نے پاؤں سے قبر کو ٹھوکر ماری اور حضرت حمزه کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: «يا أبا عمارة؛ إنّ الأمر الّذي اجتلدنا عليه بالسيف أمسى في يد غلماننا اليوم يتلعّبون به»؛ «اے ابا عماره! (اپنا سر قبر سے باہر نکالو اور دیکھو) جس حکومت پر ہم آپس میں لڑ رہے تھے آج وہ کیسے ہمارے جوانوں کے ہاتھوں کا کھلونا اور بازیچہ بن چکی ہے!»

   اور اس طرح سے ایک مرتبہ پھر ابو سفيان نے اسلام کے بارے میں اپنے كفر و نفاق اور سید الشہداء حضرت حمزہ کے بارے میں اپنے بغض و کینہ اور عداوت کا اظہار کیا!

   شہدائے احد کی کرامت اور معاويه کی سیاست کو شکست: جنگ احد اور معاویہ کو طاقت و قدرت ملنے کے بعد اس نے پانی کے کھال بنانے کے بہانے سے شہدائے احد کی قبروں کو منہدم کرنے کا حکم دیا ( جیسا کہ آپ وہّابيّت مختلف بہانوں سے یہی کام انجام دے رہی ہے) لیکن شہدائے احد کے اجساد سالم تھے کہ گویا وہ سو رہے ہوں۔ اور یوں اس کی یہ سازش ناکام ہو گئی بلکہ جناب حمزه عليه السلام اور تمام شہداء کی عظمت میں مزید اضافہ ہو گیا اور ابو سفیان، ہند اور معاویہ کے دوسرے ہم فکر افراد کے ظلم آشکار ہو گئے۔

   جنگ احد کے چھیالیس سال بعد سنہ ۴۹ ہجری میں معاویہ بن ابو سفیان کی حکومت کے دوران اس کی طرف سے یہ حکم صادر ہوا کہ احد میں پانی کے کھال اور نالیاں کھودی جائیں اور ان کا بہاؤ دریا کے کنارے یا شہدائے احد کی قبروں کو قرار دیا جائے۔ جب پانی کے وہ کھالے تیار ہو گئے تو منادی نے مدینہ میں اعلان کیا: جن لوگوں کے احد میں کوئی شہید دفن ہیں وہ نبش قبر کر کے اپنے اپنے شہداء کے جسد کسی دوسری جگہ دفن کر لیں تا کہ وہ پانی سے محفوظ رہ سکیں۔ اس حکم کی بنیاد پر شہدائے احد کی قبروں کی کھودائی اور نبش قبور کا عمل شروع ہوا۔

   منجملہ حمزه عليه السلام، عمرو بن جموح اور  جابر کے والد عبد اللَّہ کی قبروں کو کھودا گیا لیکن معاویہ کے کارندوں کو اس وقت بہت تعجب ہوا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ اجساد اب بھی اسے طرح سے تر و تازہ ہیں کہ جیسے کل ہی دفن ہوئے ہوں حتی کہ ان کے لباس وغیرہ بھی اپنی اسی اصلی حالت میں باقی تھے اور ان میں تھوڑی سی بھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ جب حضرت حمزه کی قبر کو کھودنے کے لئے اس پر بیلچہ مارا گیا تو اس سے خون جاری ہو گیا، یا جب ایک شہید کی زخمی پیشانی سے ہاتھ کو ہتایا گیا تو اس سے خون جاری ہو گیا۔ شہداء کی انہی کرامات کو دیکھ کر معاویہ کے کارندے اپنے اس عمل سے منصرف ہونے اور شہداء کی قبروں کو ان کی اصلی حالت پر باقی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

   یہ ان واقعات کا خلاصہ ہے جو تاریخ اور مدینہ شناسی کی کتابوں میں کبھی تفصیلی طور پر تو کبھی اختصار سے بیان ہوئے ہیں۔ (2)

   اس تاریخی واقعہ کے راویوں میں سے ایک مشہور صحابی اور جنگ احد میں شہید ہونے والے عبد اللہ کے بیٹے جابر انصارى ہیں کہ جو کہتے ہیں: «استصرخنا على قتلانا يوم أحد يوم‏ حفر معاوية اللعين فوجدناهم رطاباً يتثنّون فأصاب المسحاة رجْلَ حمزة فطارمنها الدّم».

 اور ان میں سے بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ: «كأنّهم نُوَّم»؛ «میں نے شہداء کو دیکھا کہ جیسے وہ گہری نیند سو رہے ہوں »۔

  عبد اللَّه اور عمرو بن جموح کہ جو ایک ہی قبر میں دفن ہوئے تھے؛ کے بارے میں وارد ہوا ہے: «فأميطت يده عن جُرحه فانبعث الدم فردّت إلى مكانها فسكن الدّم»؛ «شہادت کے وقت ان کی پیشانی زخمی تھی اور ان کا ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھا ہوا تھا اور انہیں اسی حالت میں دفن کیا گیا تھا، نبش قبر کے موقع پر جب ان کے زخم سے ہاتھ ہٹایا گیا تو اس سے خون جاری ہو گیا یہاں تک کہ دوہارہ ان کا ہاتھ ان کی زخمی پیشانی پر رکھا گیا تو خون کا سلسلہ رک گیا»(3)

   معاویہ کا مقصد کیا تھا؟

   پانی کے کھال کھودنے اور انہیں شہدائے احد کی قبروں سے گذارنے میں معاویہ کا مقصد ( کیونکہ یہ عمل اس کے حکم پر انجام پایا) یہ تھا کہ شہداء کے اجساد کو مختلف علاقوں میں منتقل  کر کے شہدائے احد کی قبروں اور ان کے آثار کو مٹا کر سیاسی و معاشرتی مشکل کو حل کرنا چاہتا تھا کہ جس کی طرف اس کی فکر ہمیشہ مشغول رہتی تھی۔

   نیز معاویہ کا یہ خیال تھا کہ تمام اسلامی ممالک میں اہلبیت علیہم السلام اور بالخصوص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے خلاف ہونے والی تبلیغات اس کے فائدہ میں ہیں لیکن ہر سال ہزاروں زائرین مختلف علاقوں سے مدینہ میں آتے اور حضرت حمزه اور شہدائے احد کی قبروں کے پاس سے گذرتے تو ان کے ذہنوں میں جنگ احد کا واقعہ، ابو سفیان ، ہند اور معاویہ کے مظالم، ان شہداء کو شہید کرنے، انہیں مثلہ کرنے، حضرت حمزہ علیہ السلام کے سینہ کو چیرنے اور ان کے جگر کو چبانے کا واقعے کی یاد تازہ ہو جاتی اور کلی طور پر ان کے ذہنوں میں اسلام اور قرآن کے خلاف معاویہ کی دشمنی کی یاد تازہ ہو جاتی۔ معاویہ کے لئے یہ بات قابل برداشت نہیں تھی اور اس کے عقیدہ کے مطابق چالیس سال گذرنے کے بعد اب یہ شہداء کے اجساد ایک مٹھی خاک سے زیادہ نہیں ہوں گے لہذا اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ ان شہداء کے پسماندگان کے ہاتھوں ہی ان کی قبروں کو مختلف علاقوں میں پراکندہ طور پر دفن کرے اور ان قبروں کے آثار کو مٹا دے تا کہ مسلمانوں کے ذہنوں سے جنگ احد اور اس کے اثرات بھی مٹ جائیں اور وہ ان تمام واقعات کو بھول جائیں۔

   جی ہاں! معاویہ نے اپنی اسی سیاست کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے پانی کے کھال کھودنے اور انہیں شہدائے احد کی قبروں سے گزارنے کا حکم صادر کیا۔ نبش قبور سے پہلے تک اس کا یہ منصوبہ بخوبی آگے بڑھ رہا تھا لیکن شہداء کی کرامت اور ان کے سالم اجساد نے معاویہ کے یہ ناپاک عزائم بھی خاک میں ملا دیئے اور یوں معاویہ شہداء کو اسی جگہ سپرد خاک کرنے پر مجبور ہو گیا۔

   سب سے پہلے حضرت فاطمه زہرا عليہا السلام نے حمزه ‏عليه السلام کی قبر کی ترمیم کی۔

   اور آپ ملاحظہ کریں گے کہ حمزه علیہ السلام کی قبر مطہر ایک چھت کے نیچے تھی اور اس کی ایک عمارت تھی لیکن مؤرخین و محدثین نے نقل کیا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: چند سال گذرنے کے بعد جب اس قبر پر فرسودگی کے آثار نمودار ہوئے تو جس ذات نے اس قبر کی تعمیر و ترمیم اور اور اس پر پتھر لگا کر نشانی رکھی وہ حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام تھیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روایت شیعہ کتابوں سے پہلے اہلسنت کی کتابوں میں بیان ہوئی ہے!

   روایت کا متن کچھ یوں ہے:

عن سعيد بن طريف، عن ابى جعفر عليه السلام: إنّ فاطمة بنت رسول اللَّه ‏صلى الله عليه وآله وسلم كانت ‏تزور قبر حمزة عليه السلام ترُمُّه وتصلحُهُ وقد تعلّمتْه بحجر.(4)

سعد بن طريف؛ امام باقرعليه السلام سے نقل کرتے ہیں کہ : رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کی بیٹی حضرت فاطمۂ زہراء عليہا السلام اپنے چچا حضرت حمزه کی قبر کی زیارت کرتیں اور اس کی ترمیم و اصلاح کرتیں۔ آپ نے اس قبر پر پتھر لگا کر نشانی رکھی اور اسے مشخص کیا تھا۔(5)

   مذکورہ مطالب سے ابو سفيان اور ہند وغیرہ... کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، حضرت حمزه عليه السلام اور تمام بنی ہاشم سے دشمنی کی انتہاء واضح و آشکار ہو جاتی ہے ۔

  ابو سفيان اور ہند کے بعد معاويه بھی – کہ جسے خليفۃ المسلمین کے عنوان سے مشہور کیا گیا ہے! – اپنی اس دیرینہ دشمنی اور کینہ سے دستبردار نہ ہوا اور اس نے شہدائے احد کی قبروں کو منہدم کر کے پانی کے کھال بنانے کا حکم دے کر سب پر اپنی بے شرمی، جسارت اور کم ظرفی کو عیاں کر دیا اور شہدائے احد کے اجساد کے صحیح و سالم ہونے کی وجہ سے خدا نے اسے ذلیل و رسوا کیا۔

   کيا معاويه؛ شہدائے احد کی قبروں سے دور پانی کے کھال نہیں کھود سکتا تھا؟!

   کیا ہر وقت اسلام کا نعرہ لگانے والوں کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ معاویہ اور معاویہ جیسے دوسرے افراد کے اعمال و افکار پر غور کریں اور ( مکارانہ) سادہ لوحی اور عوامانہ رویوں کو ترک کر دیں؟!

   کیا اب بھی وہ وقت نہیں پہنچا کہ جب سب مسلمان یہ جان لیں کہ معاویہ اور بنی امیہ کے تمام حکمران نہ صرف مسلمانوں کی خلافت کے لائق نہیں تھے بلکہ وہ اسلام کے دشمن تھے اور دین پر ان کا کوئی اعتقاد نہیں تھا؟!

   کیا اب بھی وہ وقت نہیں ہے کہ جب مسلمان فکری منشیات کی عادت کو چھوڑ کر اپنے افکار کو ان جیسے افراد کی پیروی کی قید سے نجات دیں؟!

   اور کیا اب بھی ...


1) پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم اور معصومین ‏عليہم السلام کی سیرت کی رو سے مستحب اعمال میں سے ایک بلکہ مستحبّات مؤكّد میں سے ایک عمل یہ ہے کہ مسلمان حضرت حمزه‏ عليه السلام کی قبر مطہر اور دوسرے شہدائے احد کی قبروں زیارت کریں۔ اس بارے میں شیعہ اور اہلسنت فقہاء کا اتفاق ہے اور وہ دوشنبه (سوموار) اور پنج‏شنبه (جمعرات) کے دن کو آنحضرت کی زیارت کے لئے بہترین دن سمجھتے ہیں۔ «علاّمه ‏امينى، الغدير: 160/5»

2) تاريخ مدينه (ابن شبه): 133/1، تاريخ الطبرى: 319/2، تاريخ ابن كثير: 43/4، تاريخ الخميس (دياربكرى):443/1، مدينة الرسول (ابن نجّار): 57، شرح نہج البلاغه ابن ابى الحديد: صص 14 و 264، شفاء السقام (سبكى): 162، اُسد الغابة (ابن اثير): 55/2، وفاء الوفاء (سمہودى): 938/3.

3) كتاب «مغازى» میں شہدائے احد کی قبروں کو منہدم کرنے کے واقعہ کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ یوں نقل کیا گیا ہے:

   عبد اللَّه بن عمرو بن حرام (جناب جابر کے والد گرامی) نے جنگ احد سے دو دن پہلے کیا: میں نے اپنے دوست مبشّر بن عبد المنذر کو خواب میں دیکھا ہے کہ جو یہ کہ رہے تھے: کچھ دنوں کے بعد آپ ہمارے پاس آ جائیں گے۔

   میں نے کہا: تم کہاں ہو؟

   انہوں نے کہا: میں جنت میں ہوں اور میں جہاں جانا چاہوں جا سکتا ہوں۔

   میں نے کہا: لیکن کیا تم بدر میں قتل نہیں ہوئے؟

   انہوں نے کہا: کیوں نہیں؛ لیکن اس کے بعد میں زندہ ہو گیا۔

   جب عبد اللَّه نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم سے اپنا یہ خواب بیان کیا تو آپ نے فرمایا: اے ابا جابر! اس خواب کی تعبیر شہادت ہے۔

  احد کے دن پيغمبرصلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: عبد اللَّه بن عمرو بن حرام اور عمرو بن جموح کو ایک قبر میں دفن کرو۔

   کہتے ہیں: جب یہ دونوں ملے تو انہیں شدید مُثله کیا گیا تھا۔ اور ان کا پورا بدن اس طرح سے ٹکڑے ٹکڑے تھا کہ دونوں کی شناخت کرنا مشکل تھا۔ اس لئے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا جائے۔

   اسی طرح کہا گیا ہے: پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے ان دونوں کی باہمی دوستی و رفاقت اور محبت کی وجہ سے حکم دیا کہ ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے اور پھر آپ نے فرمایا: ان دونوں کی محبت کی وجہ سے انہیں ایک ہی جگہ سپرد خاک کیا جائے۔

   عبد اللَّه کا چہرا سرخ تھا اور آپ نسبتاً چھوٹے قد کے تھے  حالانکہ عمرو دراز قد تھے۔ ان دونوں کی قبر پہاڑ کے کنارے پر تھے اور جب ان کی قبر تیار ہو گئی تو ان دونوں کالے اور سفید کپڑے میں لپیٹ کر سپرد خاک کر دیا گیا۔ عبد اللَّه کے چہرے پر ایک زخم تھا کہ جس پر ان کا ہاتھ رکھا ہوا تھا اور جب ہاتھ ہٹاتے تھے تو اس سے خون جاری ہو جاتا تھا اور جب دوبارہ ہاتھ زخم پر رکھ دیا جاتا تو خون رک جاتا۔

   کہتے ہیں: جب معاویہ نے مدینہ میں پانی کے کھال اور نالیاں بنانا چاہیں تو اس نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ جنگ احد کے شہداء کے لواحقین حاضر ہوں۔ لوگ اپنے اپنے شہداء کی قبروں کے پاس آئے تو انہوں نے شہداء کو قبروں کو تر و تازہ دیکھا۔

   جابر کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو ان کی قبر میں دیکھا کہ جیسے وہ سو رہے ہوں اور ان کے چہرے پر کوئی کمی و بیشی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

جابر سے کہا: کیا آپ نے ان کا کفن بھی دیکھا؟

انہوں نے کہا: انہیں ایک کپڑے کا کفن دیا گیا تھا کہ جو زیادہ تر ان کے سر اور چہرے پر لپیٹا ہوا تھا اور ان کے پاؤن پر سپند کے بوٹے رکھے گئے تھے اور جب انہیں قبر میں دیکھا تو وہ کپڑا اور سپند کے بوٹے بھی  اپنی سابقہ حالت پر باقی تھی حالانکہ اس وقت جنگ احد کو چھیالیس سال گذر چکے تھے۔ جابر نے اصحاب ‏پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم سے مشورہ کیا کہ وہ اپنے والد کے جسد پر کچھ مشک اور خوشبودار مواد ڈال دیں لیکن انہوں نے انہیں اس کام سے منع کیا اور کہا: ان کے جسد پر کوئی چیز نہ ڈالو۔

  کہتے ہیں: نبش قبر کے وقت کسی ایک شہید کے جسد مطہر کو بیلچہ لگا تو ان کے جسد سے تازہ خون جاری ہو گیا۔ ابو سعيد خدرى کو غصہ آیا اور کہا: اس برے اور زشت عمل کے بعد کوئی برا عمل برا شمار نہیں ہو گا۔

   عبد اللَّه بن عمرو اور عمرو بن جموح ایک ہی قبر میں ملے اور اسی طرح خارجة بن زيد اور سعد بن ربيع ایک دوسی قبر میں ملے۔ چونکہ عبد اللَّه اور عمرو کی قبر پانی کے کھال کے راستہ میں تھی جس کی وجہ سے ان کی قبر کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا لیکن خارجه اور سعد کی قبر پانی کے کھال سے دور تھی اس لئے اسے اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا اور اس پر خاک ڈال دی گئی ۔

   کہتے ہیں: قبر کی جتنی مٹی اٹھاتے اس سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ «مغازى: 192/1»

4) ابن شبه، تاريخ المدينة: 131/1؛ ابن سعد، طبقات: 11/3؛ سمہودى، وفاء الوفاء: 932/3.

5) تاريخ حرم ائمّه بقيع ‏عليہم السلام: 354.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 1092