(۱)
دیلمیوں کے بارے میں
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کی ایک اہم پیشنگوئی
مرحوم حاج شيخ عبّاس قمى نے سفينة البحار(*) (*) سفينة البحار: 334/2.) میں حضرت على عليه السلام سے ديلميان کی حكومت کے بارے میں ایک روایت نقل کی ہے کہ جو یوں ہے:
يخرج من ديلمان بنو الصيّاد ثمّ يستقوى أمرهم حتّى يملك الزوراء ويخلع الخلفاء.
فقال له قائل: فكم مدّتهم يا أميرالمؤمنين؟
فقال: مائة أو تزيد قليلاً.
دیلمان سے بنو صیاد قیام کریں گے اور اس وقت ان کی حکومت اس قدر طاقتور ہو جائے گی کہ وہ زوراء کو بھی حاصل کر لیں گے۔
اس دوران ایک شخص نے امام علی عليه السلام پوچھا: يا امير المؤمنين! وہ کتنے سال حکومت کریں گے؟
فرمایا: سو سال یا اس سے کچھ زیادہ۔
الف: امام علی عليه السلام نے فرمایا: «حتّى يملك الزوراء»، در حقیقت زوراء سے خلافت و حکومت کا مرکز مراد ہے۔ جیسا کہ خلافت عثمان کے مقرّ کو بھی زوراء کہتے تھے۔ حضرت على عليه السلام کے زمانے میں بغداد ایک چھوٹا سا دیہات تھا جو معروف نہیں تھا اور اس سئ دس کلو میٹر کی دوری پر ساسانيوں کا دارالحکومت يعنى تيسفون واقع تھا، یہاں تک کہ منصور – دوسرا عبّاسى خلیفہ – نے اسے اپنی حکومت کے مرکز کے طور پر منتخب کیا اور سنہ 140 - 144 ہجرى میں اسے تعمیر کیا گیا اور اسے مدينة السلام يا مدينة المنصور کا نام دیا لیکن یہ نام رائج نہ ہو سکا بلکہ اس نے اپنے اسی قدیمی نام یعنی بغداد (جو حقیقت میں فارسی زبان کا لفظ ہے) کے نام سے ہی شہرت پائی .(*)
(*)پہلوى زبان میں بَغ کے معنی ’’خدا‘‘ کے ہیں اور ’’داد‘‘ لاحقہ ہے کہ جو اب بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس بناء پر بغداد يعنى خداداد.
ب: ابتداء سے اب تک ایران کا شمال مگربی پہاڑی علاقے یعنی تنكابن سے مغرب تک کو دیلمان اور اس کے پائینی علاقہ کو گيلان کہتے ہیں۔ اس بناء پر ان دو علاقوں میں رہنے والے گيل اور ديلم کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ لیکن اعراب آغاز سے دیلمیان کی حکومت تک جب بھی ایران پر حملہ کرتے تو ان اس علاقہ کے تمام لوگوں کو دیلمی شمار کرتے، چنانچہ آج بھی اس حدود میں رہنے والوں کو گیلانی کہا جاتا ہے۔
المختصر یہ کہ حضرت على عليه السلام کے زمانے میں یہ پورا علاقہ ديلمان کے نام سے مشہور تھا۔ دوسری اور تیسری صدی ہجری کی کتابوں میں یہ مطلب بخوبی استنباط کیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ ہم نے سابقہ مقالات میں ذکر کیا ہے کہ علوی سادات نے ۶۶ سال تک گیلان، دیلمان اور مازندران میں حکومت کی اور اسی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ شروع سے ہی مکتب اہلبیت علیہم السلام اور مذہب تشیع سے آشنا تھے۔ گیلان اور دیلمان میں علوی سادات کی آمد سے پہلے مسلمانوں کی نظر میں ان علاقوں کو دارالحرب کہا جاتا تھا۔ اس علاقہ میں جس خاندان نے حکومت کی وہ تاریخ میں آل جُستان يا جُستانيان کے نام سے مشہور ہیں۔
جب حسن بن زيد علوى المعروف به داعى كبير ديلمان کے علاقہ میں داخل ہوئے تو یہ خاندان بھی ان کے ساتھ ملحق ہو گیا اور انہوں نے ان کی حمایت کی۔ دوسری طرف سے ناصر كبير نامی ایک اور علوی بھی اس علاقہ میں تھے کہ جو نیک، دیندار اور زاہدِ کامل تھے اور وہ اس علاقہ کے لوگوں کے دلوں میں رہتے تھے اور بہت زیادہ لوگ ان کے ذریعہ ایمان لائے اور مسلمان ہوئے۔ تازہ مسلمان ہونے والوں خاندانوں میں سے کچھ بعد میں صاحب مقام ہوئے اور انہیں قدرت و طاقت ملی کہ جن میں ماكان بن كاكى(*)
(*) كاكى؛ ناصر كبير کے ساتھیوں میں سے تھے جو عمّال سامانی کے ساتھ ناصر کی جنگ کے دوران آمل میں قتل ہوئے۔
، ليلى بن نعمان، حسن بن فيروزان(*)
(*) فيروزان؛ ناصر كبير کے ساتھیوں میں سے تھے جو عمّال سامانی کے ساتھ ناصر کی جنگ کے دوران آمل میں قتل ہوئے۔
، مرد آويز بن زيار، على بن بويه اور اسفار بن شيرويه(*)
(*) اسفار بن شيرويه مسلمان نہیں تھا اور وہ قدرت کا دعویدار تھا۔ لہذا پہلے وہ طبرستان کے علویوں کی خدمت میں رہا لیکن کچھ عرصہ کے بعد ہی اس نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور داعى کے دشمنوں يعنى سامانيوں کے ساتھ ملحق ہو گیا۔ اور پھر امير نصر سامانى کی طرف سے داعی سے جنگ کے لئے آیا اور داعى نے صغیر کو قتل کر دیا اور ماكان بن كاكى کو حاکم بنا دیا کہ جو داعی کے دوستوں میں سے تھا۔
کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ اس مقالہ میں ہم صرف آلہ بویہ کے بارے میں بیان کریں گے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام کی پیشنگوئی اور آپ کے فرمان میں واضح طور پر اسی خاندان کی حکومت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
على، حسن اور احمد بالترتیب تین بھائیوں کے نام ہیں کہ جو اہل گیلان میں سے ایک مہی گیر کے بیٹے تھے(*)
(*) جیسا کہ اس سے پہلے بھی یہ بیان کیا گیا کہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں گيلان اور ديلمان کے پورے علاقے کو دیلمان کے قزوین ( جو اس زمانے میں دربند تھا) سے نزدیک ہونے کی وجہ سے ديلمان کہتے تھے۔ اس بناء پر اگرچہ یہ خاندان دیلمیان کے نام سے مشہور ہے لیکن حقیقت میں یہ اہل گیلان یعنی جلگه علاقہ کے ہیں کیونکہ ماہی گیری گیلانیوں کا پیشہ تھا اور جیسا کہ آج بھی ان کا یہی پیشہ ہے۔
پہلے یہ تین بھائی ماكان بن كاكى کے لشکر کا حصہ تھے اور ماكان کی شکست کے بعد یہ ماکان کی خدمت سے خارج ہو کر مردآويز (مردآويج) سے ملحق ہو گئے۔
سنہ ۳۱۹ ہجری (داعی صغیر کی موت کے دو سال بعد) میں مرد آويج طبرستان و گرگان اور در حقیقت عراق کے اکثر عجم حصہ کا حاکم بن گیا۔ مشرق کی طرف سے اس کی سرحد سامانيوں کے ساتھ اور مغرب کی طرف سے اس کی سرحد عبّاسى خلفاء کے تحت رہنے والے علاقہ سے ملتی تھی۔ اس بناء پر مرد آويج نے ان تینوں ديلمى بھائیوں میں سے ہر ایک کو ایک علاقہ کی حکومت کے لئے مقرر کیا اور على کو كرج(*) (*) كرج؛ اراک اور ہمدان کے درمیان ایک علاقہ کا نام ہے کہ جو كرج ابو دلف کے نام سے مشہور تھا اس بناء پر یہ تہران کے شمال میں کرج کے علاوہ کوئی اور شہر ہے۔
کی حکومت کے منصوب كیا لیکن کچھ مدت کے بعد ہی وہ اپنے اس ارادہ پر پشیمان ہوا لہذا اس نے اپنے بھائی وشوم گير(*)
(*)گيلكى میں وشوم؛ بٹیر کو کہا جاتا ہے اور وُشوم؛ علوم کے وزن پر ہے اس بناء پر وشومگير يعنى بٹیر پکڑنے والا۔
(وشمگير) کو خط لکھا جو ری کا حاکم تھا اور اسے کہا کہ وہ ان بھائیوں کو اپنی حکومت کے علاقوں میں جانے سے روکے۔
حسين بن محمّد قمى؛ ابن العميد معروف کا باپ اور ری میں مرد آويج کا وزیر تھا اور اس نے علّى بن بويه کو خط کے مضمون سے آگاہ کر دیا اس لئے على کو رات کے وقت ہی كرج بھیج دیا تا کام کو مکمل تصور کرے۔
علىّ بن بويه بعد میں عباسی خليفه کی طرف سے عماد الدولہ کا لقب ملا اور وہ کرج پہنچا۔ کرج اور گرد و نواح کے لوگوں کے ساتھ علی کا حسن سلوک اس کی مجبوبیت میں اجافہ کا باعث بنا اور پھر مرد آويج کے کچھ سپاہی بھی کرج میں اس کے ساتھ ملحق ہو گئے ۔ یہی بات بويه کے بیٹے على زيار کے بیٹے مرد آويج کے درمیان اختلاف کا باعث بنی اور مرد آويج نے على کو دور کرنے کا ارادہ کیا۔
اسی دوران على نو سو سپاہیوں کے ساتھ اصفہان کے حاکم کی طرف گیا تا کہ وہ عبّاسى خلیفہ کی حمایت حاصل کر سکے اور مرد آويج کی طرف سے بھی یقین دہانی حاصل کر سکے۔ اصفہان کا حاكم مظفر بن ياقوت (عبّاسى خلیفہ کا کارندہ) اس سے راضی نہ ہوا اور اس نے تقریباً علی کے مقابلہ کے لئے دس ہزار سپاہی بھیجے۔ على نے اپنے نو سو افراد پر مشتمل لشکر کے ساتھ اسے شکست دے دی جس کے نتيجه میں على بن بويه نے سنہ 321 ہجرى میں اصفہان کو فتح کر لیا۔
اصفہان کی فتح کے بعد مرد آويج اور حکومتی مشینری خوفزدہ تھی۔ على اصفہان سے مالیات وصول کرنے کے بعد بہبہان اور رامہرمز کی طرف روانہ ہوا گیا اور اس نے خوزستان پر قبضہ کر لیا۔ اور پھر اس نے شیراز کی طرف لشکر کشی کی اور سنہ ۳۲۲ ہجری میں اس صوبے کو بھی فتح کر لیا۔
اس دوران خلافت بغداد کے پاس کوئی خاص طاقت نہیں تھی اور صرف نماز جمعہ اور جماعت کے وقت خلیفہ کے نام کا خطبہ دیا جاتا تھا اور خلیفہ بھی اسی کو رسمی طور پر پہچانتا تھا کہ جو فاتح ہوتا تھا۔
اور دوسری طرف سے على نے اپنے بھائی حسن کو ایک لشکر کے ساتھ مرد آويج اور اس کے بھائی وشمگير کی طرف بھیجا۔ اس لشکر کشی میں حسن بن بویہ نے ان تمام علاقوں کو قتح کر لیا کہ جہاں آل زيار کی حکموت تھی جیسے رى، قم، كاشان، ہمدان اور كرج۔ اس زمانے یعنی سنہ 322 - 223 ہجری میں تقريباً ایران کا موجودہ شمالی علاقہ حسن اور ایران کا جنوبی حصہ على کے پاس تھا۔ على اور حسن نے اپنے چھوٹے بھائی احمد ( جو اب رشد و کمال کی حد تک پہنچ چکا تھا) کو ایک لشکر کے ساتھ کرمان کی طرف بھیجا۔ بلوچوں سے جنگ کے دوران احمد کا بایاں ہاتھ کہنی سے کٹ گیا لیکن وہ پسپا نہیں ہوا اور ایران کے مکمل مشرقی حصہ کو بھی حاصل کرلیا۔
اس کے نتیجہ میں موجودہ ایران کا اکثر و بیشتر حصہ برادران آل بويه کے پاس تھا۔ کرمان اور اس کے گرد و نواح میں احمد کی حکومت تھی، شیراز اور ایران کے تمام جنوبی علاقوں پر علی کی حکمرانی تھی اور ایران کا شمالی علاقہ حسن کے اختیار میں تھا۔
سنہ 322 سے 334 ہجری تک عراق کے جنوب میں اہواز تک خاندان بَريدى، ابن الرائق اور بَجْكَم حکمرانوں کی حکومت تھی۔ سنہ 324 ہجری میں على نے اپنے بھائی احمد (جو فاتح كرمان تھا) کو ایک لشکر کے ساتھ اہواز کی طرف بھیجا اور یوں اہواز میں بھی دیلمیوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ سنہ 334 ہجری میں توزون ترك ہلاک ہو گیا کہ جو بغداد میں امير الاُمراء خليفه تھا۔ اس کی موت کے بعد بغداد کے حالات خراب ہو گئے جس کی وجہ سے اہواز میں موجود احمد بغداد کو فتح کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ وہ ابومحمّد حسن بن محمّد مُهہلّبى نامی اپنے منشی اور سپاہیوں کے ساتھ بغداد میں داخل ہوا اور کسی جنگ کے بغیر عبّاسيوں کے دارالحکومت کو فتح کر لیا۔ المستكفى نامی خلیفہ نے احمد کو خیرمقدم کیا اور اسے حکموتی لباس پہنایا۔ اور اسی دوران احمد کے دوسرے بھائی بھی بغداد آ گئے اور انہیں خلیفہ کی طرف سے القابات سے نواز گیا۔ المستكفى نے ابوالحسن (على) کو عماد الدوله کا لقب دیا، اور ابو على (حسن) کو ركن الدوله کا لقب جب کہ فاتح بغداد يعنى ابو الحسين (احمد) کو معزّ الدوله کے لقب سے نواز گیا۔
ان بھائی نے نام اور کنیت سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عشق کرتے تھے۔
××××××
یہاں ایک بہت ہی اہم اور قابل غور نکتہ ہے ( اگرچہ اس مقالہ کے موضوع سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگر اسے یہاں ذکر نہ کیا گیا تو یہ افسوس کا مقام ہو گا) اور وہ آل بویہ کی حکومت میں دو دانشور کی موجودگی تھی کہ جن میں سے ایک ابو الفرج اصفہانی اور دوسرا حسن بن محمّد مُهَلّبى ہیں۔
ابوالفرج اصفہانى «الأغانى» ، «مقاتل الطالبيّين» اور دیگر معروف کتابوں کے مؤلف ہیں۔ جو آخری اموی خلیفہ مروان بن محمّد المعروف به مروان حمار کی آل سے تھے کہ جو اصفہان میں پیدا ہوئے اور بغداد میں پرورش پائی۔ ابو الفرج؛ حسن مُہلّبى کے یاور اور درباری تھے۔ دونوں صاحب ذوق اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے که جو بويہان میں رشد و كمال تک پہنچے اور دونوں نے علوی تشيّع کو قبول کیا۔ اس رو سے ابو الفرج ركن الدوله کے منشی اور کاتب تھے اور حسن بن محمّد مہلّبى نے معزّ الدوله کی وزارت کو قبول کیا۔
مہلّبى کے کئی اشعار یادگار ہیں کہ جن کا مطلع کچھ یوں ہے:
ألا موت يباع فاشتريه
فهذا العيش ما لا خير فيه
الا موت لذيذ الطعم يأتى
يخلّصني من العيش الكريه
کیا کہیں موت فروخت نہیں ہو رہی؟ تا کہ میں اسے خرید لوں کیونکہ اس زندگی میں کوئی خیر نہیں ہے۔
کیا کوئی لذیذ موت نہیں آ رہی تا کہ مجھے اس بدمزہ زندگی سے نجات دے دے۔
جب میں کسی قبر کو دور سے دیکھا تو میری یہ آرزو ہوتی ہے کہ ( کاش!) میں اس کا ہمسایہ ہوتا۔
اس آزاد مرد پر درود ہو کہ جس نے اپنی موت کو اپنے بھائی کا صدقہ دیا۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ان دونوں دانشوروں کی موجودگی دیلمیوں کی ترقی کا سبب بنی اور دوسری طرف سے دیلمیان نے بھی ان دونوں دانشوروں کے رشد اور ترقی کے اسباب فراہم کئے۔
×××××××
اب ہم تاریخ دیالمہ کی طرف واپس آتے ہیں:
جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ معزّ الدوله احمد نے سنہ 334 ہجری میں عبّاسيوں کی خلافت کے مرکز يعنى بغداد کو بھی فتح کر لیا اور اميرالمؤمنين على عليه السلام کی تقریباً تین سو سال پہلے بیان کی گئی پیشنگوئی سچ ثابت ہو گئی۔
معزّ الدوله شیعہ ہونے کی وجہ سے عبّاسى خلیفہ کے احترام کا قائل نہیں تھا لہذا فتح بغداد کے ڈیڑھ ماہ بعد ایک دن دیلی رؤسا میں سے دو افراد مستكفى کی گردن میں اس کا عمامہ ڈال کر کھینچتے ہوئے معز الدوله کے دارالخلافہ میں لے آئے۔ معز الدوله نے مستكفى کو اندھا کر کے زندان میں ڈال دیا اور اس کے جانشين «المطيع للَّه» کو خليفه بنا دیا لیکن اس نئے خليفه کے پاس بھی کوئی اختیارات نہیں تھے۔
معزّ الدوله نے سنہ 334 سے لے کر سنہ 356 ہجری (جو ان کی وفات کا سال ہے) تک پوری طاقت سے بغداد اور عراق پر حکومت کی۔ ان 22 سالوں کے دوران انہوں نے مختلف علاقوں جیسے آذربائجان ، عراق کے شمال میں الجزيره اور خلیف فارس کے ساحلوں پر لشکر کشی کی اور ان سب کو فتح کیا۔
عمان کو فتح کرنا معزالدوله کی اہم ترین فتح تھی۔ انہوں نے اپنے بھتیجے عضد الدوله کی مدد سے اسے فتح کیا اور ديالمه سلطنت کو مزید وسعت دی۔
معزّ الدوله کی ۲۲ سالہ حکومت کے دوران عراق میں مکمل طور ہر شیعہ مذہب رائج ہو گیا۔ شیعوں نے اپنی سابقہ خستہ حالی سے نجات پائی اور انہیں اہم امور سونپے گئے۔
معز الدوله نے بغداد میں سيّد الشہداء حضرت ابا عبد اللَّه الحسين عليه السلام کی سب سے پہلی عزاداری برپا کی۔ اس سے پہلے بغداد میں محرم الحرام کے آغاز میں نئے سال کا جشن منایا جاتا تھا اور چراغاں کیا جاتا تھا۔ معز الدوله نے حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام کی عزداری کے لئے یکم محرم الحرام سے بغداد کو سیاہ پوش کر دیا جائے اور انہوں نے بغداد میں سب سے پہلے غدیر کے جشن کو عام کیا اور حکم دیا کہ مساجد کے اوپر معاویہ اور دوسری غاصبین حق ولایت کے لئے لعنت لکھی جائے۔
خليفه اور دوسرے اہلسنت درباریوں میں اس کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی جرأت نہیں تھی۔ 13 ربيع الثانی سنہ 356 ہجری میں معزّ الدوله بغداد میں انتقال کر گئے اور ان کے بعد ان بیٹے عز الدوله بختيار کو حکومت ملی۔
بویہ کے بیٹوں میں سے عماد الدولہ علی شیراز کا حاکم تھا اور وہ سنہ ۳۳۸ ہجری میں وفات پا گئے ۔ چونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا لہذا موت کے وقت انہوں نے اپنے بھائی رکن الدولہ ( جو ری کے حاکم تھے) سے درخواست کی کہ وہ اپنے بیٹے پناہ خسرو کو فارس کی طرف بھیجیں تا کہ وہ ان کے موت کے بعد ان کا جانشین بنے۔ اس بناء پر پناہ خسرو کو عضد الدولی دیلمی کا لقب ملا اور وہ فارس اور اس کے گرد و نواح کے حاکم بنے۔
بویہ کے بڑے بیٹے عماد الدوله کو دوسرے بیٹوں کے بھی سردار تھے اور ان کے چھوٹے بھائی بھی ان کی اطاعت کرتے تھے۔ یہی چیز یعنی ان کا اتحاد اور اخوت و بھائی چارہ ان کی عزت و شوکت اور کامیابی کا باعث بنا۔
عماد الدوله على کی موت کے بعد قوم بويه کی قیادت ان کے دوسرے بھائی يعنى ركن الدوله حسن نے سنبھالی۔
جب پناه خسرو عضد الدوله شيراز گئے تا کہ وہ اپنے چچا کے جانشین بنیں تو ان کی عمر تیرہ سال سے زیادہ نہیں تھی ۔ اس لئے معز الدوله نے اپنے وزير مہلبى کو سپاہیوں کے ساتھ شیراز بھیجا اور پناہ خسرو کے والد ركن الدوله حسن بھی شيراز آ گئے اور نو مہینے تک شیراز میں رہے تا کہ وہ ہر دشمن کا راستہ روک سکیں۔ اسی طرح اس گيلانى خاندان نے ایک دوسری کی مدد کرتے ہوئے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی کہ جو 127 سال تک قائم رہی۔
على عماد الدوله سنہ 338 ہجری میں انتقال کر گئے، جب کہ احمد معزّ الدوله سنہ 356 میں وفات پا گئے اور ان کے درمیانی والے بھائی يعنى حسن ركن الدوله سنہ 366 ہجری تک زندہ رہے۔ ركن الدوله ستر سال کی عمر میں سنہ 365 ہجری میں وفات پا گئے۔ وہ اپنی بیماری کے ایّام میں اصفہان چلے گئے تھے اور انہوں نے اصفہان کے لوگوں اور گیلان کے بزرگوں کے ساتھ ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا کہ جس میں انہوں نے پناه خسرو عضد الدوله کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ جب کہ اپنے دوسرے بیٹے ابو الحسن على فخر الدوله کو رى ، قزوين اور ہمدان کی حکومت سونپ دی اور اپنے ایک اور بیٹے ابو منصور مؤيّد الدوله کو اصفہان کا حاکم مقرر کیا
انہوں نے اس تقریب کے دوران اپنے دو بیٹوں کو تاکید کی کہ وہ عضد الدوله کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اور آخر میں ركن الدوله واپس رى چلے گئے اور سنہ 366 ہجری میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
ركن الدوله کی موت کے ساتھ ہی ان بھائیوں (على، حسن اور احمد) کے درمیان اتفاق و اتحاد کا بھی خاتمہ ہو گیا اور آل بویہ کی دوسری نسل میں اختلافات اور كشمكش کا آغاز ہو گیا اور ركن الدوله کی موت کے صرف ایک سال کے بعد عضد الدوله نے بغداد میں عزّ الدوله کی حکومت پر حملہ کر دیا اور عضد الدولہ کے چچا زاد عز الدوله شام کی طرف بھاگ گئے۔ عضد الدوله نے ان کا پیچھا کیا اور اس واقعہ میں ناصر الدوله نے موصل کے حاکم حمدانى(*)
(*) آل حمدان؛ جن کی عراق کے شمال يعنى موصل اور تكريت پر حکومت تھی اور وہ شیعہ تھے۔
کو شكست دے دی اور یہ علاقہ میں بھی آل بويه کے تصرف میں آ گیا اور تمام اسلامی حکومتوں پر ان کی قدرت اور عظمت میں اضافہ ہو گیا۔
بالآخر سنہ ۳۷۲ ہجری میں عضدالدوله صرع کی بیماری کے باعث 47 سال کی عمر میں اتنقال کر گئے اور ان کے جسد کو نجف میں امير المؤمنين على عليه السلام کے روضہ میں دفن کیا گیا۔ اگرچہ عضد الدوله اپنے باپ اور چچاؤں کی طرح باطنی پاکیزگی کے حامل نہیں تھے لیکن فتوحات اور اکثر اسلامی ممالک پر ان کی حکومت کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ مشہور تھے۔ انہوں نے اپنے چوالیس (۴۴) سالہ دور حکومت کے دوران بہت زیادہ ترقیاتی و تعمیراتی کام انجام دیئے جیسے نجف میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے قبر مبارک اور شہدائے کربلا کی قبروں پر روضہ کی تعمیر، بغداد میں مشہور ہسپتال کی تعمیر، شیراز میں بند امیر کے نام سے مشہور بند کی تعمیر، بغداد اور شیراز میں مختلف عمارات کی تعمیر کہ جو تاریخی اثاثہ ہیں۔
عضد الدوله کی موت کے بعد موت کے بعد ان کے بیٹے ابو كاليجار مرزبان حاکم بنے کہ جن کا لقب صمصام الدوله تھا۔ ابو كاليجار کے چار اور بھائی بھی تھے کہ جن کے نام ابو الحسين احمد، ابو طاہر فيروز شاه، ابو الفوارس شيرديل (گيلك زبان میں دل کو ديل کہتے ہیں) اور ابو نصر بہاء الدوله تھے۔ جن میں سے ہر ایک کی ایران کے کچھ حصہ پر حکومت تھی۔ اس دوران عضد الدوله کے پانچوں بیٹوں کے درمیان اختلاف پائے جاتے تھے اور ان میں ہر ایک دوسرے بھائی کی حکومت پر قبضہ کرنے کی فکر میں تھا اور یہی چیز خاندان بویہ میں انتشار کا باعث بنی۔ ان شہزادوں کے درمیان اس قدر شدید اختلافات تھے کہ جنہیں ہم اس مقالہ میں بیان کرنے سے قاصر ہیں لیکن جس چیز کا بیان ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس خاندان کا آخری حاکم ملك رحيم تھا کہ جس کا اصل نام ابو نصر خسرو فيروز تھا۔ سنہ 440 سے سنہ 447 ہجری تک بغداد اور کچھ دوسرے علاقوں میں ان کی حکومت رہی۔ یہاں تک کہ طغرل سلجوقى نے بغداد پر حملہ کیا اور ملك رحيم کو قید کر دیا اور یوں دیلمیوں کی 127 ساله حکومت اپنے اختتام کو پہنچی۔
تاريخ ديالمه پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ کس طرح وہ فقر و تنگدستى اور بے سروسامانی سے حکومت و سلطنت تک پہنچے۔ ہم نے کسی حد تک ان کے فخر و مباہات اور شان و شوکت کے زمانے کو ذکر کیا ہے، اب ہم کسی حد تک ان کی تنگدستی کے زمانے کو بھی ذکر کرتے ہیں:
كتاب «الفخرى» کے مؤلف يعنى ابن طقطقى(*)
(*) تاريخ الفخرى، محمجة بن على بن طباطبا المعروف به ابن طقطقى، ترجمه وحيد گلپايگانى: 378 - 380.
کہتے ہیں: کوئی شخص بھی آل بویہ کی حکومت کی پیشنگوئی نہیں کرتا تھا (*)
(*) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا ابن طقطقى نے امير المؤمنين على عليه السلام کی روایت کو نہیں سنا تھا۔
حتی جزئی طور پر بھی کوئی ان کی عظمت کو تصور نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن ان کی حکومت و سلطنت نے نے دنیا کو حیران کر دیا۔ آل بويه کے بادشاہوں نے کئی خلفاء کو معزول کیا اور کئی نئے خلفاء کو مقرر کیا، کئی وزراء کو برطرف کیا اور یوں عجم اور عراق کے تمام چہروں پر ان کی حمکرانی تھی اور ان کے حکومت کے سب لوگ متفق طور پر ان کی اطاعت کرتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں بیکسی و بينوائى ، خوارى اور رنج و غم کے بعد یہ شأن و شوکت نصیب ہوئی کیونکہ ان کے دادا ابو شجاع بويه اور ان کے پردادا دیلم شہروں میں دوسری تمام رعايا کی طرح غربت میں زندگی بسر کر رہے تھے اور خود بویہ ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ تھے۔ اس لئے معزّ الدوله مختلف شہروں کی حکومت حاصل کرنے کے بعد ہمیشہ خداوند کریم کی نعمتوں کے معترف تھے اور کہا کرتے تھے: میں اپنی زندگی کے آغاز میں پکڑیاں اکٹھی کرکے زندگی بسر کرتا تھا۔
شہريار بن رستم ديلمى آل بويه کی حکومت کے آغاز اور اس کی پيدائش کے بارے میں کہتے ہیں: ابو شجاع بويه ابتداء سے ہی میرے دوست تھے اور جب اس کے بیٹوں (عماد الدوله ابو الحسن على ، ركن الدوله ابو على حسن ، معزّ الدوله ابو الحسين احمد كه جن میں سے ہر ایک بادشاہ بنا) کی ماں کا انتقال ہوا تو ایک دن ہم ان کے گھر گئے تو ہم نے دیکھا کہ ابو شجاع بويه اپنی زوجہ کی جدائی میں بہت غمگین تھے۔ ہم انہیں تعزیت پیش کرنے کے بعد ابو شجاع اور ان کے بیٹوں کو اپنے گھر لے آئے اور انہیں کھانا پیش کیا۔ اسی دوران گلی کوچہ سے کسی شخص کی آواز آئی جو کہہ رہا تھا: میں نجومی ہوں، خواب کی تعبیر بتانے والا، دعائیں اور طلسمات لکھنے والا ہوں...
ابو شجاع نے اسے بلایا اور اس سے کہا: کل میں نے ایک خواب دیکھا ہے، تم مجھے اس کی تعبیر بتا دو۔
ابو شجاع نے کہا: کل میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں پیشاب کر رہا ہوں اور مجھ سے زیادہ آگ خاتج ہو رہی ہے۔ پھر وہ آگ پھیلتی جا رہی ہے اور اس کے شعلے بلند ہوتے ہوتے آسمان تک پہنچ گئے اور پھر ہر طرف سے آگ کے شعلوں نے دنیا کو روشن کر دیا ہے۔
نجومی نے کہا: تمہارا یہ خواب بہت اہم ہے، میں ایک لباس اور ایک گھورا لئے بغیر اس کی تعبیر نہیں بتاؤں گا۔
بويه نے کہا: میں نے جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں ان کے علاوہ میرے پاس اور کوئی چیز نہیں ہے۔
نجومی نے کہا: تو پھر مجھے دس دینار دے دو۔
بويه نے کہا: خدا کی قسم! دس دینار تو دور کی بات میرے پاس دو دینار بھی نہیں ہیں، بالآخر اس نے نجومی کو کوئی معمولی سی چیز دی۔
نجومی نے کہا: جن لو ہ تمہارے تین بیٹے ہیں جو روئے زمین کے مالک بنیں گے اور لوگوں پر حکمرانی کریں گے اور جس طرح وہ اس آگ کے شعلہ بلند ہوتے گئے اسی طرح ان کی شہرت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا اور اس آگ سے جدا ہونے والے شعلوں سے یہ مراد ہے کہ ان سے مختلف بادشاہ وجود میں آئیں گے۔
بويه نے کہا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو؟ میں ایک تنگدست اور پریشان حال شخص ہوں اور میرے سب بیٹے بھی غریب و فقیر ہیں۔ یہ کہاں اور بادشاہی کہا!
نجومی نے: اب اب بیٹوں میں سے ہر ایک کی تاریخ پیدائش بتاؤ۔
بويه نے اسے اپنے بیٹوں میں سے ہر ایک کی تاریخ پیدائش بتائی۔ نجومی کچھ دیر تک اپنی تقویم کو دیکھتا رہا اور پھر کھڑے ہو کر اس نے بویہ کے بڑے بیٹے علی کا ہاتھ چوما اور کہا: خدا کی قسم! یہ سب شہروں پر حکومت کرے گا اور اس کے بعد اس نے حسن کا ہاتھ پکڑا۔
نجومی کی یہ باتیں سن کر بويه كو غصہ آ گیا اور اس نے سوچا کہ شاید یا تو یہ شخص پاگل ہے یا پھر یہ میرا اور میرے بیٹوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بویہ نے کہا: اس نجومی کو گردن پر مارتے ہوئے گھر سے باہر نکال دو۔ بویہ کے بیٹے نجومی کو گردن پر مار رہے تھے اور ہم ہنس رہے تھے۔
نجومی نے کہا: مارو! مجھے کوئی غم نہیں ہے اور جب بھی تمہیں سلطنت ملے تو اس دن کو یاد کرنا۔ (624)
(624) پيشگويى هاى اميرالمؤمنين عليه السلام: 406.
منبع: یادداشت های چاپ نشده شخصی ص 447








