امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) ایک دوسری روایت کی رو سے دیلمیوں کے بارے میں امیر المؤمنین حضرت علی علیه السلام کی پیشنگوئی

(۲)

ایک دوسری روایت کی رو سے دیلمیوں کے بارے

میں امیر المؤمنین حضرت علی علیه السلام کی پیشنگوئی

 یہ خطبہ اس عبارت «امّا بعد حمد اللَّه والثناء عليه: أيّها الناس فإنّي فقات عين الفتنة»؛ «خدا کی حمد و ثناء کے بعد! اے لوگو؛ بیشک میں فتنہ کی آنکھ کو گھر کی آنکھ سے باہر نکال دیا ہے » سے شروع ہوتا ہے۔ آپ نے لغوی توضیحات کو بیان کیا اور اس کے بعد امير المؤمنين على علیه السلام کی عائشه‏ اور طلحه و زبير سے جنگ کو بیان کہ سب اہل قبلہ سے جنگ کرنے سے ڈرتے تھے، اور اسی مناسبت سے امير المؤمنين على علیه السلام نے اسی خطبہ میں فرمایا: «فأسألوني قبل أن تفقدوني»؛ «اس سے پہلے کہ میں تم میں نہ رہوں؛ مجھ سے پوچھو»، اس میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے غیبی امور کے بارے میں پیشنگوئیاں بیان فرمائیں کہ جو بعد میں واقع ہوئیں۔ (*).

 (*) اس خطبہ ( جو تواتر سے نهج البلاغه سے سابقہ منابع میں نقل ہوا ہے) کے بارے میں مزید تفصیلات کے لئے استاد عبدالزهراء حسينى خطيب ‏کی کتاب«مصادر نهج البلاغه واسانيده: 176 - 182/2» کی طرف رجوع فرمائیں۔

   امام علیہ السلام کی غیبی امور کے بارے میں پیشنگوئیوں کو ایک فصل میں بیان کیا کہ جو بعد میں واقع ہوئیں۔

   جان لو کہ اس فصل میں امير المؤمنين على‏ عليه السلام نے اس خدا کی قسم کھائی ہے کہ جس کے قبضۂ قدرت میں اس کی جان ہے اور پھر فرمایا کہ مجھ سے قیامت تک رونما ہونے واقعات کے بارے میں پوچھو تو  میں تمہیں ان کے بارے میں بتاؤں گا۔

  اسی طرح سو افراد پر مشتمل کسی بھی ہدایت یافتہ یا گمراہ گروہ کے بارے میں پوچھو تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ ان کا رہبر کون ہو گا ، وہ کہاں سے وجود میں آئے گا، ان میں سے کون قتل ہو جائیں گے اور کون اپنی طبیعی موت مریں گے۔

   امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے یہ جو دعویٰ کیا ہے یہ نہ تو ربوبیت کا دعویٰ ہے اور نہ ہی نبوت وت پیغمبری کا دعویٰ ہے بلکہ آپ نے فرمایا: پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں ان امور کی خبر دی ہے۔

  ہم نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ان پیشنگوئیوں پر تحقیق کی اور انہیں حقیقت کے مطابق پایا۔ اسی لئے ہم یہ استدلال کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دعویٰ سچا تھا۔ اور اسی طرح آپ نے اپنے بارے میں جو پیشنگوئی فرمائی وہ بھی سچ ثابت ہوئی کہ میرے سر پر ایسا وار کیا جائے گا کہ جس سے میری داڑھی خضاب ہو جائے گی۔

   امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے کربلا سے گذرتے وقت اپنے بیٹے (امام) حسین علیہ السلام کے قتل ہونے کی خبر دی، نیز آپ نے یہ پیشنگوئی بھی فرمائی کہ آپ کے بعد معاویہ بادشاہی و حکمرانی کرے گا اور اسی طرح آپ کے حجاج اور یوسف بن عمر اور خوارج و نہروان کے مسائل کے متعلق خبر دی کہ ان میں سے کون کون قتل ہوں گے اور کس کس دار پر لٹکایا جائے گا۔ اسی طرح آپ نے جمل و صفین اور نہروان کی جنگوں کے بارے میں خبر دی اور ان سپاہیوں کی تعداد کے بارے میں بھی بتایا کہ جو آپ کی بصرہ سے کوفہ کی طرف روانگی کے وقت آئیں اور عبد اللہ بن زبیر کے بارے میں آپ کی پیشنگوئی کہ جس میں آپ نے فرمایا:وہ حیلہ گر، مکار اور کینہ رکھے والا ہے اور وہ ایسے کام کا ارادہ رکھتا ہے کہ جس تک وہ نہیں پہنچ سکے گا۔ وہ دنیا کو شکار کرنے کے لئے دین کو استعمال کرے گا اور پھر قریش میں سے دار پر لٹکائے گئے لوگوں میں شامل ہو گا۔

  امير المؤمنين على‏ عليه السلام نے سیلاب کی وجہ سے بصرہ کی تباہی کی پیشنگوئی فرمائی اور پھر آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ پھر وہاں کے لوگ «زنج» (ایک قوم نے اس کلمہ میں ‏ تصحيف كی ہے کہ اور اسے «ريح» یعنی آندھی اور طوفان پڑھا ہے) سے ہلاک ہوں گے۔ نیز آپ نے خبر دی کہ خراسان کی طرف سے سیاہ پرچم نمودار ہوں گے اور آپ نے خراسانیوں میں سے ایک ایسے گروہ کا نام بتایا کہ جو بنى‏ رزيق کے نام سے معروف ہے  اور وہ معصب کے خاندان ہے اور طاہر بن حسين اور اس کے بیٹے بھی اسی سے ہیں۔ اسحاق بن ابراہيم اور ان سے پہلے کے سب لوگ بنی عباس کی حکومت کے دعویدار تھے۔

   اسی طرح امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے خبر دی کہ طبرستان میں اس کے بیٹوں میں سے ایک ایسا گروہ ظاہر ہو گا کہ جسے حکومت ملے گی ( جیسے ناصر، داعی اور دیگر افراد)۔ اس بارے میں آپ نے یوں فرمایا:

بیشک طالقان میں آل محمد کے لئے ایک خزانہ ہے کہ جسے خدا جب چاہے گا آشکار فرمائے گا تا کہ خدا کے خدا کے حکم سے قیام کریں اور لوگوں کو دین خدا کی طرف دعوت دیں۔

   نیز آپ نے مدینہ میں محمّد نفس زكيّه کے قتل ہونے کی خبر دی اور اس بارے میں فرمایا: وہ احجار الزيت کے قریب قتل ہوں گے۔

  نیز انہوں نے محمد کے بھائی ابراہیم کے بارے میں خبر دی کہ وہ «باخمرا» نامی علاقہ میں قتل ہوں گے اور آپ نے ان الفاظ میں پیشنگوئی فرمایہ کہ «وہ کامیاب ہونے کے بعد قتل ہو جائے گا اور غالب آنے کے بعد مغلوب ہو جائے گا»، اور اسی ابراہیم کے بارے میں امير المؤمنين‏ علی عليه السلام نے فرمایا: اسے ایک نامعلوم تیر لگے کہ جس میں اس کی موت ہے۔ اس تیر چلانے والے کے ہاتھ شل اور بازو ناتوان ہوں».

   نیز آپ کی «فخ» کے علاقے کے لوگوں کے قتل ہونے کے بارے میں پیشنگوئی اور آپ کا یہ فرمانا کہ «وہ زمين کے بہترین لوگ ہیں».

   امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے مغرب (مراکش) علوی حکومت کے تسکیل پانے کی خبر دی اور «كتامة» کے نام سے اس کی تصریح کی اور یہ وہی گروہ کہ‏ جنہوں نے ابو عبداللَّه داعى معلّم کی مدد کی۔ اور آنحضرت کا ایک دوسرا فرمان کہ جس میں آپ نے عبيد اللَّه المہدى کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے:

وہ ان میں سے پہلا شخص ہے اور پھر صاحب قيروان کہ جس کا کشادہ اور سفید چہرا ہے اور پاک و خالص نسب کا حامل ہے اور اس میں سے ہے جو «ذو البداء» اور رداء میں پوشیدہ ہے۔

   عبيد اللَّه مہدى سفید چہرے کے مالک تھے اور ان کے چہرے کی سفیدی سرخی سے ملی ہوئی تھی، وہ صحت مند اور توانا تھے۔ ذو البداء سے اسماعيل بن امام جعفر صادق علیه السلام مراد ہیں۔ موت کے بعد ان کا جسد رداء میں پوشیدہ تھا اور جب اسماعیل وفات پا گئے تو ان کے والد نے انہیں رداء اوڑا دی اور شیعہ سربراہوں کو ان کے جسد کے پاس بلایا کہ وہ انہیں دیکھیں اور ان کی موت کو دیکھیں تا کہ ان کا شبہ برطرف ہو جائے۔

  امير المؤمنين على‏ عليه السلام کا آل بویہ کے بارے میں خبر دیا کہ ان کے بارے میں آنحضرت نے فرمایا: « ديلمان کی طرف سے ایک صيّاد کے بیٹے خروج کریں گے » اور ان کا باپ ماہی گیر تھا کہ جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے مچھلیاں پکڑتا تھا اور اپنی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرتا تھا۔ خداوند کریم نے اس کے تین بلا فصل بیٹوں کو بادشاہی عطا کی اور اس کی ذریت کو اس طرح پراکندہ کر دیا کہ ان کی بادشاہی کی مثال دی جاتی تھی۔

   آل بویہ کے بارے میں امير المؤمنين على علیه السلام کا دوسرا فرمان کہ جس میں آپ نے فرمایا:

پھر ان کی حکومت اس قدر وسیع ہو جائے گی کہ وہ زوراء (بغداد) کو فتح کریں اور خلفاء کو خلافت سے معذول کریں گے۔

کسی نے پوچھا: اے امير المؤمنين! ان کی بادشاہی کی مدت کتنی ہو گی؟

فرمایا: سو سال یا اس سے کچھ زیادہ۔

   امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا:

اور وہ عیش و عشرت میں مصروف رہنے  والا اس کا بیٹا ہے کہ جس کا ہاتھ کٹا ہوا گا، اور اسے اس کے چچا کا بیتا دجلہ کے کنارے قتل کرے گا۔

   یہ فرمان معزّ الدوله کے بیٹے عزّ الدوله بختيار کی طرف اشارہ ہے۔  معزّ الدوله کا ایک ہاتھ جنگ میں سستی کی وجہ سے کٹ گیا ہے اور اس کا بیٹا عزّ الدوله عیش و عشرت میں مشغول رہتا تھا جو شراب و کباب کا شوقین تھا اور اس کے چچا زاد عضد الدوله فنا خسرو نے اسے جنگ میں قصر الجص (گچ سے بنا محل) کے پاس دجله کے کنارے قتل کیا اور اس کی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔

   اور آپ نے فرمایا: «وہ خلفاء کو خلافت سے معزول کریں گے» اور پھر ایسا ہی ہوا کہ جب معزّ الدوله نے «مستكفى» کو خلافت سے برطرف کیا اور اس کی جگہ «مطيع» کو خلیفہ مقرر کر دیا اور عضد الدولہ کے بیٹے بہاء الدوله نے «طائع» کو خلافت سے برطرف کرتے ہوئے «قادر» کو تخت خلافت پر بٹھایا۔ آل بویہ کی بادشاہی بھی بالکل ویسے ہی تھی جیسے امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے خبر دی تھی۔

   امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے عبد اللَّه بن عباس ‏رحمه الله کے بارے میں خبر دی کہ ان کے بیٹوں کو حکومت ملے گی۔ جب على بن عبد اللَّه بن عبّاس‏ پیدا ہوئے تو ان کے والد انہیں امير المؤمنين على‏ عليه السلام کی خدمت میں لے کر آئے۔ امير المؤمنين‏ علی عليه السلام نے انہیں اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنے لعاب دہن سے ان کے منہ کو تر کیا اور ایک کھجور اس کے کے منہ میں ڈالی کہ جسے آپ نے پہلے ہی اپنے منہ میں نرم کیا تھا اور پھر ان کے والد کو دے دیا اور فرمایا: بادشاہوں ک ے باپ کو پکڑ لو۔

   ہم نے یہ جو روایت ذکر کی ہے یہ صحيح ہے اور اسے ابو العبّاس مبرّد نے اپنی كتاب «الكامل»(*) (*) الكامل: 217/2 میں بھی ذکر کیا ہے اور جس روایت میں خلفاء کی تعداد ذکر ہوئی ہے وہ روایت صحیح نہیں ہے اور وہ کسی مورد اعتماد کتاب میں نقل نہیں ہوئی ہے۔

   آپ نے متعدد غیبی اخبار بیان فرمائیں کہ جو اسی طرح صحیح تھیں اور اگر ہم ان تمام کو ذکر کرنا چاہیں تو اس کے لئے متعدد کتابیں لکھنے کی ضرورت ہو گی۔ سیرت کی کتابوں میں ان اخبار کو تفصیلات سے بیان کیا گیا ہے۔ (642)


(642) جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد:   3 / 360.

 

منبع: یادداشت های چاپ نشده شخصی ص 466

 

بازدید : 1038