امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۱) عمر کے صاحب ایمان نہ ہونے کی ایک دلیل ؛ جنگ حدیبیّه میں ان کا قول

(۱)

عمر کے صاحب ایمان نہ ہونے

کی ایک دلیل ؛ جنگ حدیبیّه میں ان کا قول

(میں نے اس طرح کبھی شک شک نہیں کہ جس طرح میں نے حدیبیه کے دن محمّد (صلى الله عليه و آله و سلم) کی نبوت میں شک کیا)

کتاب «یہ ہے راہ حق» که جو شیعۂ امامیہ علماء اور اہلسنت کے علماء کے درمیان ایک مناظرہ پر مشتمل ہے کہ جس میں ملک شاه سلجوقی اپنے وزیر نظام الملک کے ہمراہ موجود تھے۔ اس کتاب میں ایک مقام پر یوں وارد ہوا ہے:

 ... عبّاسى (اہل سنت علماء میں سے ایک عالم)  ... نے کہا : عمر کے ایمان نہ رکھنے کی کیا دلیل ہے؟

علوی ) شیعۂ امامیہ علماء میں سے ایک عالم) نے فرمایا: اس بارے میں بھی بہت سے دلائل ہیں ،جن میں سے ایک اس کی اپنے بارے میں یہ تصریح کہ وہ ایمان نہیں رکھتا!

عباسی نے کہا: علوی نے فرمایا:جب اس نے یہ کہا:میں  نے اس طرح کبھی شک نہیں کیا جیسے میں صلح حدیبیہ کے دن محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی نبوت میں شک کیا۔

عمر کی یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت میں شک کرتا تھا، لیکن دوسرے دنوں کی بنسبت حدیبیہ کے دن اس کے شک میں مزید اضافہ ہو گیا ۔

اے عباسی!تمہیں تمہارے خدا کی قسم!مجھے یہ بتاؤ کہ جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت میں شک کرے کیا وہ مومن ہے ؟!

عباسی خاموش ہو گیا اور شرم کے مارے اس نے اپنا سر جھکا لیا۔

بادشاہ نے اپنے وزیر کی طرف رخ کیا اور کہا: علوی نے عمر کے بارے میں جو کچھ کہا ہے؛ کیا وہ صحیح ہے؟

وزیر نے کہا: راویوں نے ایسے ہی روایت کی ہے۔

بادشاہ نے کہا:حیرت کی بات ہے!واقعاً بہت ہی حیرانگی کی بات ہے!میں شروع سے عمر کو مسلمان سمجھتا تھا اور اس کے ایمان کو دائمی ایمان سمجھتا تھا لیکن مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ اس کے ایمان میں  شک و تردیدتھی۔

 

منبع : یہ ہے راہ حق: صفحه 36

 

بازدید : 1022