(۲)
معاويه کا فقر اور جنگ حدیبیه
ابن اثير اپنی کتاب «اسد الغابة» میں کہتے ہیں: حضرموت کے بزرگوں مین سے وائل بن حجر حضرمى پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کے پاس آئے اور پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم انہیں کچھ زمین دی اور معاویہ کو ان کے ہمراہ بھیجا تا کہ وہ زمين ان کے سپرد کر دے۔ معاويه نے وائل سے درخواست كی کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ اونٹ پر سوار کر لیں، لیکن وائل نے کہا کہ میں تو اپنے ساتھ بادشاہوں کو سوار کرنے سے گریز کرتا ہوں تو پھر تم کیا ہو۔
معاويه نے کہا: پھر آپ مجھے اپنی نعلین دے دیں تا کہ میں وہ پہن لوں کیونکہ زمین کی گرمی اور تپش میرے پاؤں کو تکلیف پہنچا رہی ہے۔
وائل نے کہا: میرے اونٹ کے سائے میں آ جاؤ۔
یہ واقعہ اس وقت معاویہ کے فقر اور اس کی بینوائی کو بیان کرتا ہے اور مندرجہ ذیل روایت اس کی تصریح کرتی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ فاطمہ بنت قیس کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم بن حذیفہ اس کی خواستگاری کے لئے گئے، اس عورت نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم سے مشورہ کیا تو پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے معاويه کے بارے میں فرمایا: وہ ایک نادار شخص ہے کہ جس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔
کتاب صحيح بخارى کے باب فضائل ابى سفيان بن حرب میں ابو زميل سے ایک روایت ہے کہ ابن عبّاس سے روایت ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں: مسلمان ابو سفيان پر کوئی توجہ نہیں کرتے تھے اور اس کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے ، اسی وجہ سے ایک دن اس نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم سے کہا: میں آپ سے تین چیزوں کی درخواست کرتا ہوں۔
پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: بتاؤ! تا کہ میں انہیں برآوردہ کروں۔
ابو سفيان نے کہا: میں عرب کی سب سے خوبصورے لڑکی کہ جو میری بیٹی ام حبیبہ ہے ، آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں۔
پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: اچھا! اور بتاؤ۔
پھر ابو سفیان نے کہا: معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیں اور مجھے اجازت دیں کہ جس طرح میں مسلمانوں سے جنگ کرتا تھا اسی طرح کفار سے بھی جنگ کروں۔
پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے اس کی درخواست کو قبول فرمایا۔
لیکن یہ روایے مخدوش ہے کیونکہ دیگر روایات منجملہ طبقات میں ابن سعکی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ امّ حبيبه فتح مکہ اور ابو سفیان کے مسلمان ہونے سے پہلے ہی پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کی زوجہ تھیں اور جب قریش نے حديبيه کے عہد و پیمان کو توڑا اور انہیں پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کے حملہ کا خوف لاحق ہوا تو انہوں نے ابو سفيان کو دوبارہ عہد وپیمان کے لئے بھیجا یا انہوں نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کو راضی کرنے کے لئے ابو سفیان کو مدينه بھیجا اور وہ اپنی بیٹی ام حبیبہ کے گھر گیا اور جب اس نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کی جگہ بیٹھنا چاہا تو اس کی بیٹی نے اس کے نیچے سے فرش نکال لیا اور کہا: تم مشرک اور نجس ہو لہذا تمہیں پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کی جگہ پر نہیں بیٹھنا چاہئے۔
ابن اثير نے اسد الغابة میں کہا ہے کہ: مؤرخین اور تذكره نويسوں کے درمیان کوئی شک و تردید نہیں ہے کہ پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے اس وقت امّ حبيبه سے ازدواج کیا کہ جب وہ مہاجرين حبشه کا جزء تھیں۔
امّ حبيبه کا نام رمله تھا کہ جو عبيد اللَّه بن جحش کی زوجہ تھی اور مکہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ ضبشہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں عبيد اللَّه عیسائی دین کا گرویدہ ہو گیا لیکن امّ حبيبه اپنے اسلام پر ثابت قدم رہیں اور وہ اپنی چھوٹی بیٹی حبيبه کے ساتھ بے كسی اور بے سر و سامانی کے عالم میں حبشه میں ہی زندگی بسر کر رہی تھیں اور انہیں غربت اور فقر کا سامنا تھا۔ ایک دن ان کے دروازہ پر دستک ہوئی تو پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کا نمائندہ ان کے پاس گیا اور ان سے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کے لئے خواستگارى کی اور پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ان کا عقد کر دیا۔ کہا گیا ہے کہ پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے انہیں 500 درہم مہر دیا، جب کہ حبشہ کے نجاشی اور اس کی بیوی نے انہیں تحائف دیئے۔
ظاہراً امّ حبيبه ؛ جعفر بن ابى طالب اور تمام مہاجرين کے ساتھ فتح خبیر کے بعد بلا فاصلہ مدینہ میں داخل ہوئیں اور پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کے دولت کدہ میں جا کر امّہات المؤمنين میں سے قرار پائیں۔ وہ اپنے باپ اور بھائی کے برعکس ایک پرہیزگار خاتون تھیں اور آپ تمام فتنوں سے دور رہیں۔(535)
535) زندگانى حضرت على عليه السلام اميرالمؤمنين: 277.
منبع: معاویه ج ... ص ...








