(۳)
کيا معاويه كاتب وحى تھا؟
اکثر مصنفین قائل ہیں کہ معاویہ کاتب وحی نہیں تھا اور کاتبان وحی میں علی بن ابی طالب علیہما السلام ، زید بن ثاب اور زید بن ارقم شامل ہیں۔ لیکن معاوية بن ابى سفيان اور حنظلة بن ربيع ميثمى بادشاہوں اور قبائل عرب بکے لئے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کی جانب سے خاص خطوط اور مراسلات لکھا کرتے تھے۔
روایات کے اسی اختلاف کی وجہ سے بنی امیہ کے محبوں نے معاویہ کی فضیلت بیان کرنے کے لئے روایات میں تصرف کیا ہے۔
معاویہ چاہے کاتب وحی ہو یا خاص خطوط اور مراسلات کا کاتب ہو، دونوں صورتوں میں وہ ان لوگوں میں سے ہے کہ جس کے خاندان کی بنی ہاشم سے دشمنی تھی نیز اس کے ماں باپ، بھائی اور وہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علییہ و آلہ و سلم اور اسلام کی دشمنی میں مشہور و معروف ہے۔
حنظلة بن ابى سفيان جنگ بدر میں قتل ہو گیا اور اس کا دوسرا بھائی عمرو اسی غزوہ میں اسیر ہو گیا اور جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس خاندان کے تمام مردوں اور عورتوں نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کے خلاف قیام کیا۔ جنگ احد میں اس کی ماں ہند مشرکین کے ساتھ تھی کہ جو دف اور طنبور بجا کر جنگ کے لئے لوگوں کی تشویق کر رہی تھی اور جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا حضرت حمزہ علیہ السلام شہید ہو گئے تو اس نے آپ کو مثلہ کیا اور آپ کا جگر نکال کر چبایا اور تب سے وہ ’’ہند جگر خور‘‘ کے نام سے مشہور ہو گئی۔ اس کی پھوپھی امّ جميل؛ ابولہب کی بیوی تھی کہ جسے قرآن كريم نے «حمّالة الحطب» کہا ہے اور جہاں تک ہو سکا اس نے پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کو تکالیف اور اذيّت پہنچائی۔
خود معاویہ کے بقول اس کا باپ ابوسفيان اسلام کے قائد کے مقابلہ میں كفر کا قائد تھا اور گویا وہ اس بات پر فخر کرتا تھا اور اس نے عبد اللَّه بن زبير کے سامنے فخر و مباہات کرتے ہوئے کہا : «... فجحدته قريش أشد الجحود وأنكرته أشد الإنكار وجاهدته أشدّ الجهاد ألا إنّ عصم اللَّه من قرى فما ساد قريشاً وقادهم إلاّ أبوسفيان بن حرب فكانت الفئتان تلتقى ورئيس الهدى منّا ورئيس الضلالة منّا...» وہ کہتا ہے: قريش نے پوری شدت سے اس (محمّد صلى الله عليه و آله و سلم) کے منکر تھے اور انہوں نے پوری قوت و طاقت سے ان سے جنگ کی یہاں تک کہ خدا نے قریش کے علاوہ کسی کو نہیں بچایا اور اس میدان میں ابو سفیان بن حرب کے سوا کوئی قری پیشوا نہیں تھا اور یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں آتے ھب کہ ایمان و کفر کے دونوں رئیس اور سربراہ ہم میں سے تھے۔
معاويه اس فخر و مباہات پر راضی اور قانع تھا کہ اس کا باپ ایمان کے سربراہ محمّد صلى الله عليه و آله و سلم کے مقابلہ میں کفر و ضلالت کا نمائندہ اور سربراہ تھا۔
اور اگر پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم حديبيّه کے عہد و پیمان کی تجديد کرتے تو قریش کو ان کے حملہ سے امان حاصل ہو جاتی تو یہ معلوم نہیں تھا کہ کفر اور گمراہی و ضلالت کا یہ سربراہ کب تک اپنی اسی راہ پر گامزن رہتا؟ لیکن خدا نے چاہا کہ کفر کا یہ پرچم سرنگوں ہو اور پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم مكّه میں داخل ہو کر اس شہر کو فتح کریں اور اگر قريش اور کفر کا نمائنده مکہ کی جانب پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم کی روانگی سے پہلے پہنچ جاتا تو وہ قطعی طور پر مقابلہ کی تیاری کرتا لیکن پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نہیں چاہتے تھے کہ خانۂ خدا میں قتال اور خونریزی ہو کیونکہ وہ جنگ اور خونریزی حرام ہے اور آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ قریش کو آپ کی روانگی کا علم ہو اس لئے آپ نے مدینہ سے مکہ کیا جانب مراوده اور مراسله کا راستہ بند کر دیا اور خود سپاہ اسلام کے ساتھ روانہ ہو گئے اور جب آپ مکہ کے قریب تھے تو ابو سفیان کا اس سپاہ سے سامنا ہوا جب کہ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کی سپاہ ہے۔ (536)
536) زندگانى حضرت على عليه السلام اميرالمؤمنين: 279.
منبع: معاویه ج ... ص ...








