امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۱) اشعث کے معاويه سے تعلقات

(۱)

اشعث کے معاويه سے تعلقات

   جیسا کہ مفيد رحمه الله اور دوسروں کی روایات سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کو شہید کرنے کی سازش اور اس بزدلانہ عمل کو انجام دینے میں اشعث بن قيس كندى بھی شامل تھا۔ وہ قاتل اور قتل کی سازش کرنے والے دوسرے عناصر کے ساتھ اس کام کی کیفیت اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے راضی تھا۔

  كتاب «مقاتل الطالبيين» میں بھی امر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے قتل میں اشعث بن قيس کی شرکت کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اور اس کتاب میں اشعث بن قیس کے امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے منحرف ہونے کی کچھ وجوہات اور علل و اسباب بیان کئے گئے ہیں کہ جنہیں یہاں ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے اس سے پہلے آپ کے لئے اس کے منافقانہ اعمال اور اسلام کے خلاف اس کی سازشوں کو بیان کیا ہے لہذا اب  یہاں ابو الفرج کے اقوال کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

   فقط اس سے جو نکتہ استفادہ کیا جا سکتا ہے اور بعض مصنفین نے بھی جسے تنبیہ کے عنوان سے ذکر کیا  ہے؛ وہ نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ اشعث کی معاويه سے قربت اور جنگ صفين مکے بعد اس سے کی گئی خط و کتابت کو ملاحظہ کریں تو اس سے بخوبی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ معاویہ بھی اس سازش میں شریک تھا اور قوی گمان ہے کہ اشعث بن قیس اور ابن ملجم خبيث کو اس کام کے لئے ورغلانے میں معاویہ کا اہم کردار تھا!

 

 

منبع :  معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 1072