(۲)
اشعث کا امیر المؤمنین علی علیہ السلام
کے غلام جناب قنبر سے برا سلوک
موسى بن ابى نعمان نے روایت کی ہے کہ: ایک دن اشعث بن قيس؛ امير المؤمنين على عليه السلام کے گھر کے دروازہ پر آیا اور آپ سے ملاقات کی اجازت طلب کی۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے غلام قنبر نے اسے اجازت نہ دی۔ اشعث نے قنبر کے منہ اور ناک پر مکا مارا کہ جس کی وجہ سے ان کی ناک خون آلود ہو گئی۔ امير المؤمنين على عليه السلام کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا:
اى اشعث مجھے تم سے کیا کام؟ خدا کی قسم جب وہ ثقیف شخص (اس سے حجاج بن يوسف ثقفى مراد ہے) تمہارے سروں پر سوار ہو جائے گا تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے!
عرض کیا گیا: اے امير المؤمنين! ثقيف شخص کون ہے؟
فرمایا: جو لوگوں کے سروں پر حاکم و فرمانروا بنے گا اور کوئی ایسا خاندان نہیں ہو گا کہ جسے اس کی طرف سے ذلت و خواری کا سامنا نہ کرنا پڑے!
عرض کیا گیا: اے امير المؤمنین؛ وہ کتنے سال حکومت کرے گا؟ اور دنیا میں کس حد تک رہے گا؟
فرمایا: بيس سال تک. (1)
1) ترجمه مقاتل الطالبيين: 49.
منبع : معاويه ج ... ص ...








