(۴)
اشعث کی مدد سے اہلبیت علیہم السلام کی
شہادت میں ابوبکر کے کردار کے بارے میں ایک تحقيق
سقیفہ میں ابو بکر کی شرکت اور اس کا مسلمانوں کو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی طرف راغب ہونے سے منحرف کرنے (جو حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت اور جناب محسن علیہ السلام کی شہادت کا سبب بنی) کے علاوہ ابو بکر کا حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت، حضرت امام حسین علییہ السلام کی شہادت، حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کی شہادت اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور تمام اہلبیت علیہم السلام کی اسیری میں بہت اہم کردار تھا۔
جس طرح امير المؤمنين حضرت علی عليه السلام کی شہادت میں بھی اس کا کردار تھا۔
ضروری ہے کہ محبان اہلبیت علیہم السلام ان واقعات سے آگاہ ہوں اور یہ جان لیں منافقین نے کس طرح اہلبیت اطہار علیہم السلام سے آشکار اور مخفیانہ طور پر جنگ کی:
حضرت رسول اكرم صلى الله عليه و آله و سلم کی رحلت کے بعد اشعث بن قيس كافر ہو گیا اور اس نے ارتدادی جنگوں میں شركت كی اور اس جنگ میں شکست کھانے کے بعد قید ہو گیا۔
اشعث بن قيس کو ابو بكر کے پاس لے جایا گیا۔ اس نے نہ صرف اشعث بن قيس کے جرم کو معاف کر دیا بلکہ اپنی بہن ام فروه کا نکاح اشعث بن قيس سے کر دیا۔
اشعث بن قيس نے دوسری مرتبہ ظاہری طور پر اسلام قبول کیا اور پھر اس نے جنگ صفین میں شرکت کی اور وہ شامیوں سے شریعہ لینے کی غرض سے مالک اشتر کے ساتھ شریک ہوا۔ اس نے یہ کام نہ تو خدا اور نہ ہی امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے محبت کی وجہ سے بلکہ اس نے قومی حمیت کی وجہ سے یہ عمل انجام دیا اور آخر کار یہ جنگ صفین میں شکست کا ایک اہم عامل تھا۔ کیونکہ یہ بھی عمر بن عاص کی طرح لوگوں کو لا حكم الاّ للَّه کے قول کو قبول کرنے کی ترغیب دلا رہا تھا۔
جنگ صفین کے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی شہادت میں بھی اس کا کردار تھا اور اس کے ابن ملجم اور قطّام کے ساتھ تعلقات تھے اور اسی نے انیس رمضان کو سحر کے وقت ابن ملجم کو اس کام کے لئے اکسایا کہ ابھی تک دن کی روشنی نہیں ہوئی لہذا امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو شہید کرنے کے یہ مناسب موقع ہاتھ سے نہ جانے دو۔
اگر ابوبكر، اشعث بن قيس کو قتل کر دیتا تو وہ خود کو مسلمانوں کے عنوان سے لوگوں مین مشہور نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی وہ مسجد میں منافقانہ طور پر ابن مجلم کو اس عمل کے لئے اکساتا اور نہ ہی امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی شہادت ہوتی۔
اشعث بن قيس کو معاف کر کے ابو بکر نے اہلبيت عليہم السلام پر ایک اور کاری ضرب لگائی اور وہ ابو بکر کی بہن ام فروه کا اشعث بن قيس سے نکاح تھا کہ جو ابو بکر کے توسط سے انجام پایا۔ اسی ازدواج کا ایک نتیجہ جعدہ کی پیدائش تھی کہ جس نے معاویہ کی مدد سے حضرت امام حسن عليه السلام کو شہید کیا اور اسی نکاح کی دوسری پیداوار محمد بن اشعث بن قیس تھا کہ جو کربلا میں عمر سعد کے لشکر کا ایک سربراہ اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں میں سے تھا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد کربلا میں ہی حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور تمام اہبیت اطہار علیہم السلام کو اسیر کیا گیا۔
اس مختصر سے بیان سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ابو بكر نے صرف سقیفہ میں ہی شرکت نہیں کی اور وہ خلافت کا پہلا غاصب ہی نہیں تھا بلکہ وہ اپنے دوسرے کاموں (جیسے اشعث بن قيس کو معاف کر دینا) کی وجہ سے امير المؤمنين حضرت علی علیہ السلام اور آل کی اولاد کے قتل میں بھی حصہ دار تھا۔
منبع: یادداشت های چاپ نشده شخصی صفحه 1276








