(۳)
فخّ کے لشکر سے جنگ سے پہلے بنی العبّاس کا اپنی حکومت کے باطل
ہونے اور اپنی خیانت کا اعتراف کرنا
حسن بن محمّد نے اپنی سند سے ابو العرجاء شتر دار سے حديث نقل کی ہے کہ جس میں کہا: موسى بن عيسى نے مجھے طلب کیا اور کہا: اپنے اونٹوں کو حاضر کرو۔
وہ کہتا ہے : میں گیا اور اپنے اونٹ (جن کی تعداد سو تک تھی) ان کے پاس حاضر کر دیئے۔ موسیٰ کے حکم پر اونٹوں کی گردن پر مہر لگا دی گئی اور اس نے مجھ سے کہا: اگر ان کا ایک بال بھی کم ہوا تو تمہاری گردن اڑا دوں گا۔
پھر وہ حسين بن على - صاحب فخ – سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ میں بھی ان لوگوں کے ساتھ تھا ، یہاں تک کہ ہم بنى عامر کے باغات میں پہنچے۔ وہاں اس نے پڑاؤ کیا اور مجھ سے کہا: جاؤ اور جا کر حسين بن على اور ان کے لشکر کی صورت حال کے بارے میں خبر لے کر آؤ۔
میں گیا اور حسین کی سپاہ کے گرد چکر لگانے لگا۔ مجھے حسین کے ساتھیوں میں کسی طرح کی کوئی پریشانی ، سستی یا تشویش دکھائی نہ دی۔ میں جہاں سے بھی گذرا مجھے وہاں کچھ لوگ نماز یا خدا سے مناجات اور راز و نیاز میں دکھائی دیئے ، یا مجھے ایسے لوگ دکھائی دیئے کہ جو قرآن کھول کر تلاوت کر رہے ہیں اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ جو اپنے اسلحے کی اصلاح کرنے میں مصروف تھے۔
میں یہ منظر دیکھ کر موسى کے پاس واپس آیا اور اس سے کہا: میں جن لوگوں کو دیکھ کر آ رہا ہوں ، وہ کامیاب ہیں۔
اس نے سخت لہجہ میں مجھ سے کہا: اے زنا زادہ! تم نے ان کے مکر کو کیسا دیکھا؟
میں نے جو کچھ دیکھا تھا ، وہ تمہیں بتا دیا۔ میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اس حد تک رویا کہ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ ان سے جنگ کرنے سے منصرف ہو گیا ہے لیکن پھر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا:
خدا کی قسم! خدا کی بارگاہ میں وہ ہم سے زیادہ محترم ہیں، اور جو کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے ( یعنی حکومت و خلافت) وہ ہم سے زیادہ اس کے لائق اور مستحق ہیں لیکن کیا کیا جا سکتا کہ سلطنت عقیم ہے: «ولو أنّ صاحب هذا القبر - يعنى النبيّ صلى الله عليه و آله و سلم - نازعنا الملك، لضربنا خيشومه بالسيف»؛ «جی ہاں! اگر اس قبر کا صاحب يعنى پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم بھی حکومت و سلطنت کے بارے میں ہم سے نزاع کرے اور ہماری مخالفت میں کھڑا ہو تو ہم اس کو بھی شمشير سے ماریں گے!
پھر اس وقت اس نے کہا: اے غلام؛ جنگ کے طبل بجاؤ۔ اور اس حکم کے بعد وہ ان سے جنگ کے لئے روانہ ہو گیا۔ اور خدا کی قسم! وہ ان سے جنگ کرنے سے منصرف نہ ہوا۔ (1)
1) ترجمۀ مقاتل الطالبیین : 436.
منبع : معاویه : ج .... ص ...








