امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) حلاّج اور خدائی کا دعویٰ

(۲)

حلاّج اور خدائی کا دعویٰ

   جس زمانے میں مقتدر نے ابن الفرات کو معزول كر دیا اور وزارت کا منصب حامد بن عبّاس کو سونپ دیا ، اسی زمانے میں حسين بن منصور قتل ہوا۔ اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ حسين نے سہل بن‏ عبد اللَّه تسترى ، ابو القاسم جنيد بغدادى اور ابو الحسين نورى سے گفت و شنید اور اظہار عقیدت کے بعد بلند دعوے کئے اور حامد بن عبّاس کی حکومت کے دنوں میں اس سے کہا: ایک ایسا شخص آیا ہے کہ جو کرامات کا دعویٰ کرتا ہے کہ جو سردیوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمیوں میں سردیوں کے پھل مہیا کر دیتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ میں مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جنات کو مسخر کرتا ہوں۔ جب کہ دار الخلافه کے بعض ملازمین اس پر فریفتہ ہیں۔

   کچھ خوفزدہ افراد وزير کے پاس گئے اور اس سے کہا: بنی ہاشم میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ حلاّج خدا ہے اور میں ان کا پیغمبر ہوں۔ حامد نے اس کے کچھ مریدوں کو پکڑا اور جب انہیں ڈرایا اور دھمکایا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم حسین کے داعی ہیں اور ہم تک یہ چیز بطور صحیح پہنچی ہے کہ حسین ؛ خدا ہے کہ جو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور جب خود حسین بن منصور سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ اس بات کا منکر ہو گیا اور اس نے کہا: اعوذ باللَّه ! کیا میں ‏ الوہيّت کا دعویٰ کروں۔ میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں اور نماز ادا کرتا ہوں اور مجھے اعمال خیر کے علاوہ کسی چیز کی خبر نہیں ہے۔

   حامد نے اس کے قتل کی اجازت کے بارے میں علماء و فقہاء سے فتویٰ طلب کیا۔

   انہوں نے کہا: جب تک اس پر کوئی ایسا جرم ثابت نہ ہر جائے کہ جو اس کے قتل کا باعث بنے ؛ تب تک ہم اس کے قتل کا فتویٰ نہیں دے سکتے. یہ خبریں علىّ بن عيسى نے سنیں کہ جو مشہور شخصیات میں سے ایک تھا، اس نے حکم دیا کہ وہ اس سے مناظرہ کرے اور پھر علىّ بن عيسى نے حلاّج کو نصر حاجب کے گھر سے (كه جہاں اس نے پناہ لی ہوئی تھی) اپنی مجلس میں طلب کیا اور اس سے تند لہجہ میں خطاب کیا۔

   حلاّج نے کہا: اس سے زیادہ ایک لفظ بھی مت کہنا ورنہ میں زمین کو کہوں گا کہ وہ تمہیں نگل لے۔ عيسى اس بات سے ڈر کر مناظرہ سے دستبردار ہو گیا۔ اور پھر حسین کو حامد کے سپرد کر دیا گیا۔

   اسی دوران حامد کی مجلس میں ایک عورت کو لایا گیا کہ جو ایک مدت تک حلاّج کی مصاحب اور صاحب اسرار تھی اور جس کا لہجہ بہت خوبصورت تھا۔ حامد نے اس عورت سے حلاّج سے حلاّج کے بارے میں پوچھا۔

   اس عورت نے کہا: حسين بن منصور مجھ پر بہت مہربان تھا اور مجھ پر طرح طرح کے لطف کیا کرتا تھا، اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے اپنے سب سے بڑے بیٹے سلیمان کے عقد میں قرار دوں گا۔ اور چونکہ میاں بیوی کا رشتہ کچھ ایسا رشتہ ہے کہ اس میں اختلاف اور بحث و نزاع وغیرہ واقع ہوتے رہتے ہیں

لہذا اگر سلیمان کی طرف سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو ایک دن روزہ کی نیت کرو اور دن کے آخر میں چھت پر جا کر خاکستر پر بیٹھ جاؤ اور نمک سے روزہ کشائی کرو اور پھر تمہیں سلیمان کی جو چیز اپنے مزاج کے موافق نہ لگے اسے یاد کرو کہ بیشک میں علیم و بصیر ہوں۔

   اور دوسرا یہ کہ ایک دن حسین کی بیٹی نے مجھ سے کہا : میتے باپ کو سجدہ کرو۔

   میں نے کہا: سجدہ صرف ذات حق اور معبود سے مخصوص ہے۔

   حلاّج نے یہ بات سن لی اور مجھ سے کہا: بالکل ایسا ہی ہے لیکن زمین پر ایک خدا ہے اور آسمان پر دوسرا خدا ہے۔

   ایک دن حلاج نے مجھے طلب کیا اور جس گھر میں وہ بیٹھا ہوا تھا؛ وہاں بوریے کا ایک فرش بچھا ہوا تھا، حلاّج نے مجھ سے کہا: اس بوریے کے نیچے سے جتنا زر چاہئے لے لو۔ اس نے گھر کے ایک مخصوص زاویہ کی طرف اشارہ کیا۔ میں اسی جگہ گئی ، بوریے کو اٹھایا تو میں نے وہاں بہت زیادہ مسکوک سونا دیکھا کہ جس کی مانند میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھ پر خوف و ہراس اور وہم کی کیفیت طاری ہو گئی۔

   اس عورت نے ایسی ہی اور باتیں کیں اور اس کی باتیں سننے کے باوجود بھی کسی نے حلاّج کو قتل کرنے کا حکم نہ دیا۔

   جو چیز اس کے قتل کا سبب بنی وہ حلاّج کی تحریر میں کچھ سطریں تھیں کہ جن کا مضمون یہ تھا کہ اگر کسی کی حج کرنے کی آرزو ہو لیکن اس کے پاس زاد راہ وغیرہ نہ ہو تو وہ اپنے گھر میں کوئی مربع نما چیز بنائے اور اسے نجاسات سے محفوظ رکھے اور وہاں کسی کو نہ آنے دے۔ اور حج کے ایّام میں اس کا طواف کرے اور حج بیت اللہ کے معین شدہ مناسک انجام دے۔ اور اس کے بعد رات کے وقت کچھ یتیموں کو وہاں لا کر بہترین کھانا کھلائے ، ان کی خدمت کرے اور ان کے ہاتھ چومے۔  پھر ہر ایک یتیم کو لباس عطا کرے اور ان میں سے ہر ایک کو ساتھ یا تین درہم بخشے۔ اس کا یہ عمل حج کے قائم مقام ہو گا۔

   جب حامد کو حلاّج کی یہ تحریر ملی تو اس نے علماء اور قضاة کو حاضر کرنے کا حکم دیا اور ان کے سامنے مذکورہ کلمات پڑھے۔ قاضی ابو عمر بن يعقوب نے حلاّج سے پوچھا: تم نے یہ پریشان کن کلمات کہاں سے لکھے ہیں؟

   حلاّج نے کہا: كتاب اخلاص سے کہ جا کا مصنّف حسن بصرى ہے۔

   اور تاریخ کی بعض کتابوں میں ملتا ہے کہ حلاّج نے قاضی کے جواب میں کہا: فلاں کتاب سے کہ جو ابو عمرو عثمان مكّى کی تألیف ہے۔

   دونوں صورتوں میں قاضى ابو عمر بن يعقوب نے کہا: اے قتل ہونے والے ! تم نے جس کتاب کا نام لیا ہے ، ہم نے اس میں دیکھا ہے لیکن ہمیں اس میں یہ سب کچھ نہیں ملا۔

   جب ابو عمرو نے یہ بات کی تو حامد وزير نے قاضى سے خطاب كرتے ہوئے کہا: چونکہ تم نے اسے قتل ہونے والا کہا ہے لہذا تم فتویٰ لکھو کہ اس کا خون مباح ہے۔ ابو عمرو نے اس بات کو ٹالنے کی بڑی کوشش کی لیکن حامد اپنی بات پر قائم رہا۔ اور جب قاضی؛ حامد کی مخالفت نہ کر سکا تو اس نے حسین (حلاّج) کے خون کے مباح ہونے کا فتویٰ لکھ دیا اور سب علماء نے بھی قاضی کی پیروی کی۔

   اور بعض نسخوں میں مذکور ہے کہ شيخ جنيد نے فتویٰ دیا کہ ظاہری طور پر حلاّج قتل ہو گا، یہ خلاف واقع ہے ؛ کیونکہ خواجه محمّد پارسا طيّب اللَّه مرقده‏ اور تمام علماء نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے کہ حسين بن منصوربه کے قتل سے انیس سال پہلے شيخ ابو القاسم جنيد بغدادى اس دنیا سے کوچ کر چکے تھے۔

  اور جب فتوی مکمل ہو گیا تو مقتدر نے حکم دیا کہ شریعت کی رو سے حلاّج کو قتل کر دیا جائے۔ اور حامد نے شحنہ سے کہا: کل حلاّج کو پل پر لے جا کر تازیانے مارے جائیں اور اگر وہ تازیانوں کے زخم کی وجہ سے ہلاک نہ ہوا تو اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر اس کے سر کو بدن سے جدا کر کے پل پر لٹکا دیا جائے اور اس کے جسم کو جلا کر اس کی راکھ دریائے دجلہ میں بہا دی جائے۔ اور اس کی کسی بات کو نہ سنا جائے اور تازیانے مارتے وقت اس سے کسی طرح کی کوئی رعائت نہ کی جائے۔ اگرچہ اس نے کہا کہ میں دجلہ و فرات میں پانی کے بجائے زہر بھیج رہا ہوں۔

   شحنه نے دوسرے دن حکم کے مطابق عمل کیا۔ پل پر بہت زیادہ لوگ جمع تھے اور جب شحنہ نے حلاّج کو چھ سو تازیانے مارے تو حلاّج نے شحنہ سے کہا: میری ایک نصیحت ہے؛ اگر وہ حاکم تک پہنچا دو تو فتح قسطنطنيّه کی برابرى کر سکتے ہو۔

   شحنه نے اس کی بات پر توجہ نہ دی، حلاّج خاموش ہو گیا اور ہزار تازیانے مکمل ہو گئے لیکن تب تک اس نے ایک آہ بھی نہ کی۔ پھر جلاد نے حلاّج کے جسم کو آگ لگا کر اس کی راکھ کو دجلہ میں بہا دیا اور اتفاقی طور پر دجلہ میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہو گیا۔(2866)


2866) تاريخ روضة الصفا: 2696/5.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 1085