حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ہارون الرشید کی نظر میں اميرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام کے فضائل

ہارون الرشید کی نظر میں  اميرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام کے فضائل 

مرحوم سید ہاشم بحرینی نے اپنی کتاب «غاية المرام» میں واقدی سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:ایک دن ہارون الرشید بیٹھا ہوا تھا اور اس کی مجلس میں ستر علماء حاضر تھے۔

ہارون نے محمد بن حسن کوفی کی طرف رخ کیا اور کہا: تمہیں علی بن ابی طالب علیهما السلام کے فضائل میں کتنی احادیث یاد ہیں؟

اس نے کہا: ایک ہزار احادیث بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

پھر اس نے ابی یوسف کوفی کی طرف رخ کیا اور کہا: تم علی علیه السلام کے فضائل میں کتنی احادیث روایت کرتے ہو؟ بتاؤ اور ڈرو نہیں۔

اس نے کہا: اے امیرالمؤمنین! اگرجان کی امان پاؤں تو ہمارے پاس ان کے بارے میں روایات کی کوئی حد نہ ہوتی۔

ہارون نے کہا: تم کس سے ڈرتے ہو؟

اس نے کہا: تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے۔

ہارون نے کہا: ڈرو نہیں، تم محفوظ ہو، بتاؤ کہ تمہارے پاس ان کی فضیلت میں کتنی احادیث ہیں؟

اس نے کہا: پندرہ ہزار مسند روایات اور پندرہ ہزار مرسل احادیث۔

واقدی کہتے ہیں: پھر ہارون نے میری طرف دیکھ کر کہا: کیا تمہارے پاس بھی اتنی ہی احادیث ہیں؟

میں نے کہا: ہاں! میں بھی پندرہ ہزار مرسل احادیث اور پندرہ ہزار مسند احادیث روایت کرتا ہوں۔

ہارون نے کہا: لیکن میں نے ایک فضیلت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے کانوں سے سنی ہے، جو تمہاری بیان کردہ ہر فضیلت سے بہتر اور بلند تر ہے۔

میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمیں بھی وہ بات بتا دیں جو آپ جانتے ہیں۔

ہارون نے کہا: میں نے یوسف بن حجاج کو شام کا والی مقرر کیا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ رعایا کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آؤ۔ وہ میرے حکم پر عمل بھی کرتا تھا۔

یہاں تک کہ ایک دن اسے اطلاع ملی کہ شام میں ایک خطیب ہے جو ہر روز منبرسے  علی علیه السلام پر سبّ و شتم کرتا ہے۔

اس نے اسے بلا کر حاضر کیا اور پوچھا: کیا تم علی علیه السلام پر سبّ و شتم کرتے  ہو؟

اس نے کہا: ہاں۔

اس نے پوچھا: کیوں؟

اس نے کہا:کیونکہ انہوں نے میرے باپ دادا کو قتل کیا ہے، اور ان کی دشمنی میرے دل میں بیٹھ چکی ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں، میں یہ کام ترک نہیں کروں گا ۔

پس میرے عامل یوسف بن حجّاج نے حکم دیا کہ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیا جائے، اور اس کی اس حالت کے بارے میں مجھے لکھ  کر آگاہ کیا ۔

میں نے بھی لکھا کہ اس ملعون کو اسی حالت میں، غل و زنجیر کے ساتھ میرے پاس بھیجا جائے۔

جب اسے میرے پاس لایا گیا تو میں نے اس پر چیختے ہوئے  سخت آواز سے پوچھا : کیا تم ہی علی علیه السلام پر سبّ و شتم کرتے  ہو؟

اس نے کہا: ہاں۔

میں نے کہا: تم پر افسوس ہو! علی علیہ السلام نے جس کو بھی قتل کیا یا قید کیا، وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم سے تھا۔

اس نے کہا: میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا، علی(علیہ السلام) پر سبّ و شتم کئے بغیر مجھے سکون نہیں ملتا ۔

میں نے حکم دیا کہ اسے سو کوڑے مارے جائیں، پھر اسے لے جا کر ایک کمرے میں قید کر دیا ،  اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے  مجھے وہ کمرہ دکھایا۔

پھر میں نے حکم دیا کہ اس کمرے کا دروازہ بند کر دیا جائے، اور میں وہاں سے نہیں اٹھا یہاں تک کہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں، اور میں سوچتا رہا کہ اس شامی خطیب کے بارے میں کیا فیصلہ کروں اور اسے کس طرح قتل کیا جائے؟

کبھی میں اپنے دل میں کہتا تھا کہ اسے قید میں ڈال دوں، کبھی سوچتا تھا کہ اسے زہر دے دوں تاکہ اس کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے، اور کبھی یہ خیال آتا تھا کہ اتنے کوڑے مارے جائیں کہ وہ واصل جہنم ہو جائے۔

اس بارے میں سوچتے ہوئے میری آنکھ لگ گئی ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان کا ایک دروازہ کھلا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، امیرالمؤمنین علیه السلام، امام حسن علیه السلام, امام حسین علیه السلام اور جبرئیل نازل ہوئے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا:أين الدمشقى؟دمشقی کہاں ہے؟

دروازہ کھولا گیا اور اس خطیب کو لایا گیا۔

امیرالمؤمنین علیه السلام نے اس ملعون کو پکڑ لیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا:يا رسول الله؛ هذا يظلمنى ويشتمنى من غير سبب أوجب لذلک۔یا  رسول اللہ! یہ مجھ پر ظلم کرتا ہے اور مجھے بلا کسی سبب کے گالیاں دیتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا: اے علی! اسے چھوڑ دو۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:أنت الشاتم علىّ ابن ابيطالب؟ کیا تم ہی ہو جو علی بن ابی طالب کو گالیاں دیتے ہو؟

اس نے کہا: ہاں۔

پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے عرض كیا: أللّهمّ امسخه؛ خدايا! اس ملعون کو مسخ کر دے ۔

اچانک وہ کتے کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔پھر اسے دوبارہ اسی حجرے میں لے جایا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ آسمان کی طرف تشریف لے گئے۔

میں بیدار ہوا اور اپنے غلام کو بلایا اور کہا: شامی خطیب کو لے آؤ۔

وہ اسے لے آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ کتے کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ میں نے حکم دیا کہ اسے اسی حجرے میں لے جا کر بند کر دیا جائے، اور وہ اب بھی وہیں موجود تھا۔

پھر اس نے آواز دی: اس کتے کو لے آؤ!

غلام گیا اور اس کے کان سےپکڑ کر اسے لے آیا۔ ہم نے دیکھا کہ اس کے کان انسانوں جیسے ہیں، لیکن اس کے باقی اعضاء کتے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ایک شخص نے کہا: اے خلیفہ! یہ مسخ شدہ  ہے، مجھے ڈر ہے کہیں عذاب نازل نہ ہو جائے۔

ہارون نے حکم دیا کہ اسے دوبارہ اسی حجرے میں لے جا کر بند کر دیا جائے۔

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک زوردار آواز بلند ہوئی اور اس کے کمرے پر آسمانی بجلی گری، جس نے اس ملعون کو جلا کر خاکستر کر دیا۔

واقدی کہتے ہیں: میں نے ہارون سے کہا کہ یہ معجزہ تمہارے لئے ایک نصیحت ہے تاکہ تم خدا سے ڈرو اور ان کی اولاد (یعنی اہلبیت اطہار علیہم السلام) پر اس قدر ظلم و زیادتی نہ کرو۔

ہارون نے کہا: میں نے توبہ کر لی ہے کہ اب ان پر ظلم نہیں کروں گا۔

لیکن اس کے باوجود، اگرچہ وہ ان فضائل و مناقب کو جانتا تھا اور امیرالمؤمنین علیه السلام کو خلیفہ بھی مانتا تھا، پھر بھی اس نے ان کی اولاد کو قتل کیا، انہیں دیواروں میں چنوا دیا  اور انہیں  کنوؤں میں پھینک دیا۔اس نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ یہ کوشش کی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد میں سے کسی کو بھی زمین پر باقی نہ رہنے دے۔[1]

 


[1] ۔ ثمرات الحياة :  ۲/ ۸۰۲.

مراجعین : 12