حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
غربت حضرت امیرالمؤمنین علی علیه السلام

غربت حضرت امیرالمؤمنین علی علیه السلام

جندب کہتے ہیں: اسی وقت میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے گھر گیا اور جب میں ان کے پاس بیٹھا تو عرض کیا:یا ابوالحسن! خدا کی قسم! آپ کی قوم نےآپ سے خلافت کو چھین کر  اچھا نہیں کیا ۔

آپ نے فرمایا: صبرِ کرنا چاہئے اور خدا سے مدد طلب کرنی چاہئے۔

میں نے کہا: خدا کی قسم آپ واقعی صبر کرنے والے ہیں۔

آپ نے فرمایا: اگر میں صبر کروں تو...

میں نے کہا: میں ابھی مقداد اور عبدالرحمن بن عوف کے پاس بیٹھا تھا، وہ  ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے، پھر مقداد اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے ان کا پیچھا کیا اور ان سے یہ بات کہی، تو انہوں نے یہ جواب دیا۔

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: مقداد نے سچ کہا ہے، میں کیا کر سکتا ہوں؟

میں نے کہا: آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوں اور انہیں اپنی حکومت کی طرف دعوت دیں، اور انہیں بتائیں کہ آپ رسول خدا کے زیادہ حق دار ہیں اور لوگوں سے مطالبہ کریں کہ وہ اس گروہ کے خلاف آپ کی مدد کریں جس نے آپ پر ظلم کر کے غلبہ حاصل کیا ہے۔

اور اگر سو میں سے دس افراد بھی آپ کی بات قبول کر لیں، تو ان کے ذریعے باقی لوگوں پر سختی کریں۔ اگر وہ آپ کی رائے کے مطابق آ جائیں تو بہتر ہے، ورنہ ان سے جنگ کریں۔ اور چاہے آپ شہید ہو جائیں یا زندہ رہیں، آپ کا عذر درست ہوگا اور خدا کے سامنے آپ کی حجت واضح ہو جائے گی۔

آپ نے فرمایا:اے جندب! کیا تم سمجھتے ہو کہ ہر دس میں سے ایک شخص میری بیعت کرے گا؟

میں نے کہا: جی ہاں! مجھے یہی امید ہے۔

آپ نے فرمایا:نہیں، خدا کی قسم! مجھے اس کی امید نہیں ہے کہ ہر سو میں سے ایک شخص بھی میری بیعت کرے گا۔میں تمہیں جلد ہی بتا دیتا ہوں کہ لوگ قریش کی طرف دیکھیں گے اور کہیں گے: یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قوم اور قبیلہ ہیں۔

قریش خود آپس میں کہیں گے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے  خاندان  میں سے ہیں  اور یہ ان کے لئے بہت بڑی فضیلت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  انہی میں سے ہیں، اور وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ خلافت کے لئے وہ قریش میں سب سے زیادہ حق دار ہیں اور باقی لوگوں سے زیادہ لائق ہیں اور اگر حکومت ان کے ہاتھ میں آ جائے تو وہ کبھی اسے کسی اور کے ہاتھ میں نہیں آنے دیں گے اور اگر حکومت کسی اور کے پاس ہو تو قریش اسے کبھی آسانی سے چھوڑنے یا منتقل ہونے نہیں دیں گے ۔

نہیں، خدا کی قسم! لوگ خوشی اور رضامندی سے یہ حکومت ہرگز ہمیں نہیں دیں گے۔

میں نے کہا: اے رسول کے چچا زاد بھائی! میں آپ پر قربان جاؤں، آپ کی اس بات نے میرا دل توڑ دیا ہے۔ کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں شہر واپس جاؤں اور یہ بات لوگوں کو بتاؤں اور انہیں آپ کی حکومت کی طرف بلاؤں؟

آپ نے فرمایا: اے جندب! ابھی اس کام کا وقت نہیں ہے۔

راوی کہتا ہے: میں عراق واپس آیا اور ہمیشہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت اور برتری لوگوں کے سامنے بیان کرتا رہا، لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اس معاملے میں میری بات سے متفق ہو۔میں نے  اس بارے میں سب سے بہتر جو بات سنی ، وہ یہ تھی کہ ایک شخص کہا: اسے چھوڑ دو اور وہ کام کرو جس میں تمہارے لئے فائدہ ہو۔ اور جب میں کہتا کہ یہی بات میرے اور تمہارے لئے فائدہ مند ہے، تو وہ میرے پاس سے اٹھ  کر چلا جاتا اور مجھے  چھوڑ دیتا۔[1]

 


[1] ۔ شرح نهج البلاغه ، ابن ابی الحدید:۴/ ۲۷۶.

مراجعین : 10