امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
اميرالمؤمنين حضرت امام علی عليه السلام سے دشمنی

اميرالمؤمنين حضرت امام علی عليه السلام سے دشمنی

میں نے اس مقام کی مناسبت سے  مناسب ایک حکایت دیکھی جو میرے والد نے اپنی کتاب ’’نور الاقاحی النجدیہ‘‘ میں نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ روایت ہشام کلبی سے اور انہوں نے اپنے والد سے بیان کی کہ میں نے قبیلہ بنی اود کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں اور عورتوں کو علی بن ابی طالب علیہما السلام کو سبّ و شتم کرنا اور برا بھلا کہنا سکھاتے تھے۔ ان میں ایک شخص قبیلہ عبدالله بن ادریس بن ہانی سے تعلق رکھتا تھا۔

ایک دن وہ شخص حجاج بن یوسف  ملعون کے پاس حاضر ہوا اور اس سے گفتگو کی۔ حجاج نے جواب میں اس سے سخت لہجے میں بات کی۔ اس پر اس شخص نے کہا:اے امیر! مجھ سے اس طرح بات نہ کرو، کیونکہ قریش اور ثقیف میں کوئی ایسی فضیلت نہیں جس پر وہ فخر کریں مگر یہ کہ ہمارے پاس بھی ویسی ہی فضیلت موجود ہے۔

حجاج نے کہا: بتاؤ تمہاری کیا  فضیلت ہیں؟

اس بدبخت نے کہا: ہماری مجالس میں کبھی عثمان بن عفان کو برا نہیں کہا جاتا۔

حجاج نے کہا: یہ تو بڑی فضیلت ہے۔

پھر اس نے کہا: ہم میں سے کسی نے بھی تمہارے خلاف بغاوت نہیں کی۔

حجاج نے کہا: یہ بھی بڑی فضیلت ہے۔

پھر اس نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی ابوتراب (علی علیہ السلام) کے ہمراہ  کسی جنگ میں شریک نہیں ہوا، سوائے ایک شخص کے، وہ شریک ہوا تو ہم نے اسے اپنی نظروں سے گرا دیا، اس کا نام ہمارے درمیان حقیر ہو گیا اور اس کی کوئی قدر و قیمت نہ رہی۔

حجاج نے کہا: یہ بھی بڑی فضیلت ہے۔

پھر اس نے کہا:ہم میں سے کوئی جب کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے پوچھتا کہ کیا تم علی علیہ السلام سے محبت رکھتی ہو اور انہیں اچھے اچھے الفاظ میں یاد  کرتی ہو؟ اگر وہ ’’ہاں‘‘ کہتی تو ہم اس سے نکاح نہ کرتے اور اس سے دور ہو جاتے۔

حجاج بن یوسف ملعون نے کہا: یہ بہت بڑی عزت اور فضیلت ہے۔

پھر اس بدبخت نے کہا: ہم میں کبھی کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا جس کا نام ہم علی ، حسن یا حسین رکھیں، اور نہ ہی کوئی لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ہم فاطمہ رکھیں۔

حجاج نے کہا: یہ بھی بڑی عزت ہے۔

پھر اس زندیق نے کہا:جب امام حسین (علیہ السلام ) عراق کی طرف روانہ ہوئے تو ہمارے قبیلے کی ایک عورت نے منت مانگی  کہ اگر وہ قتل کر دیئے جائیں تو وہ دس اونٹ قربان کرے گی۔ جب وہ شہید ہو گئے تو اس نے اپنی منت پوری کی۔

حجاج (اس پر لعنت) نے کہا: “یہ بھی ایک بہت بڑی فضیلت ہے۔

پھر اس ملعون نے کہا: ہمارے قبیلے کے ایک شخص کو بلایا گیا کہ وہ علی (علیہ السلام) سے بیزاری کا اظہار  کرے اور ان پر لعنت کرے۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس میں حسن اور حسین (علیہما السلام)  کو بھی شامل کر دیتا ہوں۔

حجاج بن یوسف ملعون  نے کہا:خدا کی قسم !یہ بھی ایک بڑی اور معزز فضیلت ہے۔

پھر اس ملعون نے کہا:عبدالملک بن مروان نے ہم سے کہا کہ تم ہمارے جسم کا لباس ہو اور ہمارے مددگار و معاون ہو۔

حجاج نے کہا:یہ بڑی بزرگی ہے۔

پھر اس ملعون نے کہا:خوبصورتی اور حسن و ملاحت صرف قبیلہ بنی اود میں ہے، جو ہمارا قبیلہ ہے۔

یہ سن کر حجاج ملعون ہنس پڑا۔

ہشام بن کلبی کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا: جس دن اس ملعون نے یہ بات کہی، اسی دن سےخدا نے ان لوگوں سے حسن و ملاحت چھین لی۔[1]

 


[1] ۔ ترجمه فرحة الغرى :۶۲.

بازدید : 12