(۱)
امام حسن عليه السلام کی معاويه سے صلح
بہت سے موّرخین جیسے طبرى(222) اور ابن اثير(223) سے روايت کیا گیا ہے کہ معاویہ نے کچھ لکھے بغیر مہر لگا کر سفید خط امام حسن علیہ السلام کے لئے بھیجا اور آپ کو الگ سے ایک دوسرا خط لکھا کہ آپ جو چاہئیں اس خط پر تحریر کر لیں کہ جس پر میں نے مہر لگا دی ہے۔ آپ جو بھی شرط رکھیں میں اسے قبول کروں گا.
پھر اس نے یہ خط اور مہر لگا ہوا خالی خط عبداللَّه عامر کے ہاتھ حسن عليه السلام کے پاس بھیجے لیکن امام حسن عليه السلام یہ نہیں چاہتے تھے کہ صلح کی شرائط آپ خودتحریرکریں لہذا آپ نے عبداللَّه عامر کو شرائط لکھوائیں اور عبداللَّه نے ویسے ہی لکھا کہ جیسے امام حسن عليه السلام نے اسے شرائط لکھوائیں.
معاويه نے سب شرائط خود لکھیں اور اس کے آخر میں مہر لگائی اور اس نے مؤکد عہد و پیمان اور محکم وعدہ کیا کہ وہ ان سب پر عمل کرے گا اور پھر شام کے تمام سربراہوں کو اس کا گواہ قرار دیا اور انہوں نے بھی اس عہد نامہ کے آخر میں مہر لگائی اور پھر وہ عہد نامہ عبداللَّه عامر کے ذریعہ امام حسن عليه السلام کی خدمت میں بھیج دیا.(224)
معاويه نے اس جملہ پر صلحنامه کا اختتام کیا: معاوية بن ابى سفيان پر لازم ہے کہ وہ خدا کے عہد و پیمان اور جن چیزوں کا خدا نے بندوں سے عہد و پیمان لیا ہے اور اپنے عہد و پیمان پر عمل کرے گا.
لیکن معاویہ اس عہد و پیمان پر عمل کرنے کی بجائے پیمان الٰہی کو حقیر شمار کرنا چاہتا تھا! اسی لئے اس نے اپنے ہر عہد و پیمان اور وعدوں کو پاؤں تلے روند ڈالا اور اس نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی موجودگی میں اس وقت حضرت علی علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کو دشنام دیئے اور آپ پر سبّ و شتم کیا کہ جب اس نے مسجد کوفہ میں صلح کا جشن منایا اور جب مسجد کوفہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔
معاویہ اس قبیح اور زشت عمل سے کوفہ کے لوگوں کو ذلیل کرنا چاہتا تھا بلکہ وہ دین، پیغمبر اور رب العالمین کو حقیر شمار کرنا چاہتا تھا لیکن امام حسن علیہ السلام اپنے تمام صبر کے باوجود اسے برداشت نہیں کر سکے اور آپ معاویہ کی تقریر کے بعد منبر پر گئے اور اسے منہ توڑ جواب دیا اور اس کے لئے کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی ۔آپ نے ہر وہ چیز بیان کی جو حق اور اہل حق کے لئے شائستہ تھی اور جو باطل اور اہل باطل کے لئے ذلت و خواری کا باعث تھی.(225)
اس کے علاوہ معاویہ نے اپنی سیاست کو ہر اس عمل سے برقرار رکھا کہ جو قرآن و سنت کے منافی تھا جیسے پاک سرشت افراد کو قتل کرنا، مسلمانوں کے ناموس کی بے احترامی، لوگوں کے مال و دولت کو غارت اور تباہ و برباد کرنا، آزاد افراد کو بے جرم و خطا زندان میں ڈال دینا۔
معاویہ نے اصلاح طلب لوگوں کو نکال دیا اور مفسدین کو کام پر رکھ لیا اور انہیں اپنی حکومت کے وزراء منصب سونپ دیا جیسے عمرو عاص، و مغيرة بن شعبه، ابن سعيد، بسر بن ارطاة، سمرة بن جندب، ابن سمط، مروان حكم (مارمولك بن مارمولك)، ابن مرجانه (عبيداللَّه زياد)، وليد بن عقبه اور زياد بن سميّه کہ معاویہ نے اس کے باپ سے اس کی نسبت کی نفی کرتے ہوئے اسے اپنے باپ سے منسوب کیا تا کہ یوں وہ اس کا بھائی ہو جائے اور اسے عراق کے شیعوں پر مسلط کر سکے اور انہیں عذاب اور مصیبت سے قتل کرے، ان کے بچوں کو قتل کرے اور ان کی عورتوں کو اسیر بنا لے اور سب کے بارے میں جستجو کرے اور انہیں دربدر کر دے،ان کے گھروں کو جلا دے اور ان کے اموال پر قبضہ کر لے اور ان پر کسی ظلم سے بھی دریغ نہ کرے تا کہ وہ امام حسن علیہ السلام سے صلح کی شرائط کو پامال کرنے میں معاویہ کی مدد کرے!!!
معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کو زہر دے کر اپنے مذموم مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا تا کہ اس طرح پلید، شرابی اور بدکار بیٹے یزید کے لئے راہ ہموار کر سکے۔ وہ یزید جس نے مکہ و مدینہ اور کربلا میں ظلم و ستم روا رکھے اور وہ اپنی حکومت کے ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ کسی نہ کسی ظلم و ستم کا مرتکب ہوتا ، نیز وہ خدا و پیغمبر کے ساتھ جنگ کے لئے کھڑا ہوا ۔ اس نے ایسے ایسے زشت اور ناپسندیدہ اعمال انجام دیئے کہ جن کے ارتکاب سے آسمان لرز اٹھے، زمین کانپنے لگے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔(226).(227)
222) تاريخ طبرى: 93/6.
223) تاريخ ابن اثير: 162/3.
224) الإمامة والسياسة: 200.
225) كتاب «صلح الحسن عليه السلام» میں آنحضرت کا خطبہ۔ تأليف: شيخ راضى آل ياسين اور پھر اس اس کے اعلی مضامين اور اہم مقاصد کا جائزہ لیں۔
226) معاويه کے ظلم و ستم کے بارے میں مزید جاننے کے لئے اہم كتاب «الغدير: جلد 11» اور اہلسنت میں سے ایک دانشور کی كتاب «نصايح الكفاية لمن يتولّى معاوية» کی طرف رجوع فرمائیں کہ جو ان تمام مظالم اور تباہ کاریوں کے باوجود معاویہ کو خال المؤمنین کہتے ہیں!! (مترجم).
227) اجتهاد در مقابل نص: 575.
منبع: معاويه ج ... ص ...








