ઈમામ સાદિક઼ (અ.સ.) એ ફરમાવ્યુઃ અગર હું એમના જમાનામાં હોઉં તો મારી જીન્દગીનીના તમામ દિવષો એમની સેવા કરીશ.
(۲) صلح امام حسن‏ عليه السلام با معاويه

(۲)

صلح امام حسن‏ عليه السلام با معاويه

امام حسن ‏عليه السلام اس خطرے کو بھانپ گئے تھے لہذا آپ نے اپنا آخری فیصلہ لیا اور یہ طے کیا کہ آپ معاویہ کو خلافت کا صلحنامه‏ بنانے کا ذمہ سونپیں تا کہ معاويه فاتح کے عنوان سے کوفہ اور دوسرے مسلمان نشین شہروں میں وارد نہ ہو اور روئے زمین اور جزیرۃ العرب سے حقیقی مسلمانوں کو نہ نکال سکے۔لہذا وہ اگرچہ ظاہری طور ہی سہی لیکن وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیروکاروں اور قرآن کے ساتھ مدارا کرنے پر مجبور ہو جائے اور اس کے پاس قرآن کو مٹانے کی کوئی دستاویز نہ ہو۔ نیز یہ بات بھی قابل گفتن ہے کہ امام حسن علیہ السلام نے اپنی اس صلح سے تاریخ کی سب سے بڑی قربانی پیش کی اور آپ نے کئی صدیوں پر محیط اور آج تک جاری اس رنج و ملامت کو قبول کر کے اسلام کو فنا ہونے سے بچا لیا اور درحقیقت امام حسن علیہ السلام نے خود کو فدا کیا تا کہ اسلام قائم و دائم رہے اور پھر آہستہ آہستہ دوسرے محباب الٰہی  کو یہ موقع ملے کہ وہ مکتب معاویہ اور دوسرے مفسدین کو جڑ سے اکھاڑ دیں.(1502)

 


1502) تاريخ سياسى اسلام: 222.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

મુલાકાત લો : 817