ઈમામ સાદિક઼ (અ.સ.) એ ફરમાવ્યુઃ અગર હું એમના જમાનામાં હોઉં તો મારી જીન્દગીનીના તમામ દિવષો એમની સેવા કરીશ.
(1) حديث معراج

(1)

حديث معراج

محمّد بن يعقوب، ابن اُذينه سے نقل کرتے ہیں کہ امام صادق عليه السلام نے فرمایا:

یہ ناصبى‏ (جو لوگ آل محمد علیہم السلام سے عداوت اور برائت کا اظہار کرتے ہیں) کیا کہتے ہیں؟

میں نے عرض کیا:میں آپ پر قربان جاؤں! کس موضوع کے بارے میں؟

فرمایا : اپنی اذان ،رکوع اور سجدہ کے بارے میں.

میں نے عرض کیا:وہ کہتے ہیں کہ اُبىّ بن كعب نے انہیں خواب میں دیکھا تھا.

فرمایا: جھوٹ کہتے ہیں؛ خدا کا دین اس سے بلند تر ہے کہ خواب میں دیکھا جائے.

حضرت کے اصحاب میں سے سدير نامی ایک شخص نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں! اس بارے میں ٹھوری وضاحت فرما دیں.

امام صادق عليه السلام نے فرمایا:جب خدائے تبارك و تعالى اپنے پیغمبر کو سات آسمان پر لے گیا تو پہلے مرحلہ میں آپ کے بابرکت وجود کو خیر و رحمت کا سرچشمہ قرار دیا۔ دوسرے مرحلہ میں آُ کو نماز کی تعلیم دی اور پھر نور کا ایک کجاوہ آپ کی طرف بھیجا کہ جس میں چالیس قسم کے نور تھے اور جو عرش الٰہی کے اطراف کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ اور جس سے دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ تھیں، اور ان میں ایک زرد رنگ کا نور تھا اور اب اب زرد رنگ کی تمام چیزیں اسی نور کی وجہ سے ہیں اور این نور سرخ رنگ کا تھا اور اب سرخ رنگ کی سب چیزیں اسی نور کی سرخی سے حاصل ہوتی ہیں۔ ان میں این نور سفید رنگ کا تھا اور اب سفید رنگ کی سب چیزیں اسی نور کی بدولت ہیں اور باقی انوار دوسری مخلوقات کے رنگ کی طرح تھے۔ اس کجاوہ کا دستہ اور زنجیر چاندی کے تھے.

پيغمبر اكرم صلى الله عليه وآله وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے اور وہ انہیں آسمان کی طرف لے گیا، جب فرشتوں نے دیکھا تو سجدہ  میں گر گئے اور سجدہ میں کہنے لگے: «سبّوح ‏قدّوس» پاك و منزّه ہے پروردگار ، یہ نور کس قدر ہمارے خالق  کے نور سے مشابہ ہے.

جبرئيل نے دو مرتبه کہا: اللَّه اكبر، سب فرشتہ خاموش رہے اور پھر آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ، ملائکہ گروہ در گروہ آنے لگے اور آنحضرت پر سلام کرتے اور کہتے: اے محمّد! آپ کے بھائی کیسے ہیں؟

فرمایا: وہ اچھے ہیں۔ فرشتوں نے عرض كیا: جب آپ واپس جائیں تو ان کی خدمت میں ہمارا سلام پیش کریں.

پيغمبر اكرم صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: کيا تم انہیں جانتے ہو؟  انہوں نے عرض كیا:

وكيف لانعرفه وقد أخذ [اللَّه عزّوجلّ] ميثاقك وميثاقه منّا [وشيعته إلى‏يوم القيامة علينا، وإنّا لنتصفّح وجوه شيعته في كلّ يوم وليلة خمساً -يعنون في وقت كلّ صلاة -]  وإنّا لنصلّي عليك وعليه .

ہم کیسے انہیں نہ جانتے ہوں؟ جب کہ خدا نے آپ اور ان کے بارے میں ہم سے عہد و پیمان لیا ہے اور ہم علی علیہ السلام کے شیعوں کے چہرے کو پانچ مرتبہ (پنجگانہ نماز کے وقت) غور سے دیکھتے ہیں اور ہم آپ اور آپ کے بھائی پر درود بھیجتے ہیں.

پھر خدا نے نور کی مختلف انواع میں سے چالیس نور کا اضافہ کیا کہ جو پہلے والے نور سے مختلف تھے اور ان کے دستے اور زنجیر چنادی سے بنائے ۔ اس کے بعد مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے گئے اور جب دوسرے آسمان کی فضا کے نزدیک گئے تو فرشتہ آسمان کے اطراف میں گئے اور سجدہ مین گر کر کہنے لگے:

«سبّوح قدّوس ربّ الملائكة والرّوح» «پاك و منزّه فرشتوں اور روح کا پروردگار » ، یہ نور کس قدر ہمارے خالق کے نور سے مشابہ ہے!

جبرئيل عليه السلام نے دو مرتبه کہا: «أشهد أن لا إله إلّا اللَّه» ،فرشتہ جمع ہو گئے اور جبرئیل سے سوال کیا کہ جنہیں ساتھ لائے ہو وہ کون ہیں؟

جبرئیل نے جواب میں کہا:یہ محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کا وجود مبارک ہے۔ انہوں نے کہا:کیا یہ رسالت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں؟کہا: ہاں.

رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: فرشتہ معانقہ کرنے والوں کی طرح مجھ سے آ کر ملنے لگے  اور سلام کرنے لگے اور انہوں نے مجھ سے کہا:اپنے بھائی کو ہمارا سلام عرض کریں.

میں نے کہا: کیا تم انہیں جانتے ہو؟

فرشتوں نے کہا:ہم کیسے انہیں نہ جانتے ہوں؟ جب کہ خدا نے ہم سے آپ اور آپ کے بھائی اور ان کے شیعوں کے بارے میں قیامت کے دن تک عہد و پیمان لیا ہے ۔ ہم آپ کے بھائی کے شیعوں کے چہروں کو دن میں پانچ مرتبہ( نماز پنجگانہ کے وقت) غور سے دیکھتے ہیں.

فرمایا:پھر ہیلے چالیس نور سے مختلف مزید چالیس نور کا اضافہ ہوا اور چاندی کا دستہ اور زنجیر مجھے دی گئی پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے اور اس آسمان کے فرشتہ اطراف میں جا کر سجدہ میں گر گئے اور کہنے لگے: «سبّوح قدّوس ‏ربّ الملائكة والرّوح» ،یہ نو کس قدر ہمارے خالق کے نور سے مشابہ ہے ؟

جبرئيل علیہ السلام نے دو مرتبه کہا : «أشهد أن محمّداً رسول اللَّه»، ملائكہ نے جمع ہو کر آنحضرت سے عرض کیا:اے خدا کی پہلی اور آخری مخلوق! خوش آمدید۔ اے تمام لوگوں کو جمع اور انہیں تقسیم کرنے والے! خوش آمدید۔ محمّد صلى الله عليه وآله وسلم تمام پيغمبروں کے درمیان بہترین پیغمبر ہیں اور على عليه السلام تمام اوصیائ کے درمیان بہترين وصى ہیں.

رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا  پھر انہوں نے مجھ پر سلام کیا اور میرے بھائی علی علیہ السلام کے بارے میں پوچھا: میں نے کہا:میں انہیں آسمان پر نہیں لایا اور وہ زمین پر ہیں، کیا تم انہیں جانتے ہو؟فرشتوں نے کہا:

وكيف لانعرفه وقد نحجّ البيت المعمور كلّ سنة، وعليه رقّ أبيض فيه ‏اسم محمّد صلى الله عليه وآله وسلم والأئمّة واسم عليّ والحسن والحسين عليهم السلام وشيعتهم إلى‏ يوم القيامة، وإنّا لنبارك عليهم كلّ يوم وليلة خمساً - يعنون في وقت كلّ‏صلاة - يمسحون رؤوسهم بأيديهم.

ہم کیسے اہیں نہ جانتے ہوں؟ حالانکہ ہم ہر سلام بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں اور وہاں ایک سفید رنگ کا ورقہ ہے جس پر محمّد ، على ، حسن ، حسين تمام ائمّه عليہم السلام اور قیمات تک ان کے تمام شیعوں کے نام لکھے ہوئے ہیں اور ہم ہر روز پانچ مرتبہ –پنجگانہ نمازوں کے وقت – ان کے شیعوں کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور ان کے لئے دعا کرتے ہیں تا کہ خدا ان کے وجود میں خیر و برکت عطا فرمائے.

فرمایا:پھر پہلے والے چالیس انور سے مختلف مزید چالیس نور چاندی کے دستہ اور زنجیر کے ساتھ میرے لئے بڑھائے گئے اور مجھے چوتھے آسمان  پر لے گئے ۔ اس جگہ فرشتہ کچھ نہیں کہہ رہے تھے اور میں نے وہاں مختلف قسم کی آوازوں کو سنا ۔ فرشتہ جمع ہو گئے ، آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور سب کے سب فشتہ میری طرف اس طرح سے آئے جیسے کسی کے ساتھ معانقہ کرتے ہیں.

جبرئيل عليه السلام نے دو بار کہا: «حيّ على الصلاة» اور دو بار کہا : «حيّ على ‏الفلاح» ، فرشتوں نے کہا: یہ دو آوازیں ایک دوسرے سے نزدیک اور جانی پہچانی ہیں، اور محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کے ذریعہ نماز برپا ہو گی اور على عليه السلام کے ذریعہ نجات اور فلاح تک پہنچیں گے.

پھر جبرئيل علیہ السلام نے دو بار کہا: «قد قامت الصلاة» ، فرشتوں نے کہا:یہ قیامت تک شیعوں کے لئے مخصوص ہے۔ اور وہی نماز کو برپا اور قائم کریں گے۔ اس وقت فرشتوں نے مجھ سے سوال کیا: آپ کے بھائی کا کیا حال ہے؟ میں نے ان سے کہا: کیا تم انہیں جانتے ہو؟ انہوں نے کہا:

نعرفه وشيعته وهم نور حول عرش اللَّه، وأنّ في البيت المعمور قالباً من ‏نور، فيه كتاب من نور، فيه اسم محمّد وعليّ والحسن والحسين‏ والأئمّة وشيعتهم إلى يوم القيامة، لايزيد فيهم رجل، ولاينقص منهم‏ رجل وأنّه لميثاقنا [ الّذي اُخذ علينا] وإنّه ليقرأ علينا في كلّ يوم جمعة .

ہم انہیں اور ان کے شیعوں کو جانتے ہیں اور وہ عرش الٰہی کے ارد گرد نور ہیں۔ بيت‏المعمور میں نور کا ایک تختہ ہے جس میں محمّد ، على ، حسن ،حسين اور تمام ائمّه عليہم السلام اور ان کے شیعوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ شیعوں کی تعداد میں نہ کسی کا اضافہ ہوتا ہے اور نہ ان کی تعداد میں کمی ہوتی ہے اور یہ وہ عہد و پیمان ہے جو ہم سے لیا گیا ہےاور ہر جمعہ کے دن اسے ہمارے لئے پڑھا جاتا ہے.

پھر اس حدیث میں وضو، ركوع اور سجود کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ جو طولانی ہے اور ہم نے اپنے موضوع سے مربوط حصہ کو ذکر کیا ہے.(1)

   مؤلّف رحمہ الله کہتے ہیں: حديث معراج پر دو اعتراض کئے گئے ہیں: ایک یہ کہ آسمانوں سے گذرنے کی وجہ سے یہ لازم آتا ہے کہ آسمانوں میں شگاف پڑ جائیں اور پھر دوبارہ آپس میں مل جائیں۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ایک بھاری اور وزنی جسم کس طرح اوپر جا سکتا ہے اور کس طرح آسمانوں تک پہنچ سکتا ہے؟

پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے آسمان پانی یا پانی کی مانند ایک لطیف جسم ہو لہذا یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اور دوسرے اعتراض کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں: ان کے عالم لاہوت سے عالم خاکی پر آنے میں تعجب ہونا چاہئے نہ یہ کہ وہ اوپر کیسے چلے گئے کیونکہ وہ تو ہیں ہیں اوپر سے بلکہ ان کا وجود کائنات کی خلقت کا سبب اور علت ہے۔ جیسا کہ بہت سی روایات میں اس مفہوم کا ذکر ہو چکا ہے.

 


1) الكافى : 482/3 ح1 ، علل الشرايع : 312 ح 1 ، بحار الأنوار : 354/18 ح 66 اور 237/82 ح1 .

 

منبع: فضائل اہلبيت عليہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 1 ص 107

 

 

મુલાકાત લો : 887