(۲)
عثمان اور جناب ابوذر
عثمان کو خبر ملی کہ ابوذر؛ پيغمبر خدا صلى الله عليه وآله وسلم کے منبر پر بیٹھتے ہیں اور لوگ ان کو سنتے ہیں اور وہ لوگوں سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو عثمان کے لئے رسوائی کا باعث بنتی ہیں۔ نیز وہ مسجد میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں: اے لوگو! جو مجھے جانتے ہیں تو وہ جانتے ہیں اور جو نیں جانتے تو وہ جان لیں کہ میں ابوذر غفارى ہوں، میں جندب بن جناده ربذى ہوں(1393)، «إنّ اللَّه اصطفى آدم ونوحاً وآل ابراهيم (و آل عمران) على العالمين × ذريّة بعضها من بعض واللَّه سميع عليم» (1394)؛«بیشک خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہيم (اور خاندان آل عمران) کو عالمین پر منتخب کر لیا × اور ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور خدا سب سننے والا اور جاننے والا ہے ».
محمّد؛ نوح سے برگذیدہ ہیں اور آل ابراہيم اور سلاله اسماعيل اور ہدایت کرنے والا خاندان محمّد سے ہے۔ ان کے بزرگ بزرگوار ہیں اور برتری کے لئے شائستہ ہیں۔ انہی کے وسیلہ سے سورج کی روشنی اور چاند کی چمک اور ستاروں کی دمک ہے۔اور محمّد؛علم آدم کے وارث ہیں اور سب سے برتر پیغمبر ہیں اور علىّ بن ابى طالب عليه السلام وصىّ محمّد صلى الله عليه وآله وسلم اور آپ کے علم کے وارث ہیں.
اے پیغمبر کے بعد سرگرداں امت!اگر تم لوگ اسے مقدم رکھتے جسے خدا نے مقدم کیا اور اسے پیچھے ہٹا دیتے جسے خدا نے پیچھے ہٹایا اور ولایت و وراثت خاندان پیغمبر کو سونپ دیتے تو اپنے سر کے اوپر اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے (یعنی برکتوں اور نعمتوں کی فراوانی ہوتی)اور خدا کے دوست نادار نہ ہوتے اور بعض فرائض خدا کا خاتمہ نہ ہوتا اور دو لوگ بھی آپس میں اختلاف نہ کرتے مگر یہ کہ ان کا علم کتاب خدا اور اس کے پیغمبر کی سنت کے مطابق ہوتا لیکن چونکہ اب تم لوگوں نے ایسے کیا ہے تو پھر اپنے برے اعمال کا مزہ بھی چکھو: «وسيعلم الّذين ظلموا أيّ منقلب ينقلبون» (1395)؛ «اور عنقریب طالمین کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائیں گے».
عثمان کو یہ بھی خبر ملی کہ ابوذر اسے برا بھلا کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر کی روش کو بدل دیا ہے۔ پس عثمان نے انہیں شام کی طرف ملک بدر کر دیا اور معاویہ کے پاس بھیج دیا لیکن ابوذر کسی بھی مجلس میں بیٹھتے تو اسی طرح کہتے اور لوگ آپ کے پاس جمع ہو جاتے یہاں تک کہ سامعین کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی اور جب آپ صبح کی نماز ادا کرتے تو آپ دروازۂ دمشق پر کھڑے ہو کر کہتے: آگ سے لدے ہوئے اونٹ پہنچ چکے ہیں؛ خدا ان لوگوں پر لعنت کرے جو امر بالمعروف کرتے ہیں اور ان پر عمل نہیں کرتے اور خدا ان لوگوں پر لعنت کرے جو نہی از منکر کرتے ہیں لیکن منکرات کو انجام دیتے ہیں.(1396)
1393) نسخه اصل: بدرى.
1394) سوره آل عمران، آيه 34 - 33.
1395) سوره الشعراء، آيه 237.
1396) تاريخ يعقوبى: 65/2.
منبع: معاویه ج ... ص ...








