(۱)
پشام بن عبدالملك اور باخبر بوڑھا
تاريخ احمد اعثم كوفى میں ذکر ہوا ہے کہ جب ہشام بن عبدالملک برائی کے لحاظ سے مشہور ہو چکا تھا تو وہ شکار کے لئے گیا اور اسی دوران اسے گرد و غباردکھائی دیا ۔ اس نے اپنے ملازمین کو روکا اور رفیع نامی اپنے ایک غلام کے ساتھ اس جانب بڑھا اور وہ ایک قافلہ تھا جو شام سے کوفہ کی طرف جا رہا تھا۔
اس قافلہ میں ہشام کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی ،وہ اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم کہاں سے ہو اور تمہارا تعلق کس قبیلہ سے ہے؟
بوڑھے شخص نے کہا:میں کوفہ سے ہوں اور میرے حسب و نسب کو جان کر تمہیں کیا فائدہ ہو گا؟
ہشام نے کہا: کیا تمہیں خفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور تمہیں اپنے ناپسندیدہ حسب و نسب کے بارے میں بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے.
بوڑھے شخص نے کہا: میں قبیلۂ حکم کا ایک شخص ہو اور قبيلۂ عكك سے بھی میری قرابت ہے.
ہشام نے کہا: اللَّه اللَّه ،اس پر کس قدر شکر کرنا واجب ہے جو ایسے حسب و نسب کو بھی مخفی رکھے.
بوڑھے شخص نے کہا: میرا نسب چاہے اچھا ہے یا برا، تم نے جان لیا اور اب اپنے عالی نسب کے بارے میں کچھ بیان فرمائیں.
ہشام نے کہا:ہماری اصل قريش سے ہے.
بوڑھے شخص نے کہا:: قريش میں بہت طائفہ ہیں اور «وَجَعَلْناكُمْ شُعُوباً»(487) کی رو سے قبائل کے بے شمار شعبہ ہیں.ان میں عالى و سافل اور عالم و جاہل سبہی ہیں، اب تم ان میں سے کس شعبہ سے ہو؟
ہشام نے کہا:میں بنى اميّه میں سے ہوں.
وہ بوڑھا شخص مسکرایا اور ایک شعر پڑھا. شعر:
شراب عشق عجب شورشى بجان آورد
كه هر چه در دل من بود بر زبان آورد
مرحبا يا اخا بنى اميّه! تم نے اچھا کیا کہ مجھے اپنے حال سے آگاہ کیا اور اپنے نسب کی جلالت اور حسب کی طراوت سے باخبر کیا۔ اس نگاہ، طلعت لسان اور حلاوت بیان کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ تم لوگوں کو طعنہ نہ دو.
خواجه حسن:
دارى جمالى بى بدل حسنى به بى مثلى مثل
خال و خطى بس بلعجب چشم و لبى فرمود كى؟
اے اموى! جان لو کہ سب سے بدترين مخلوق تم ہو اور کلام خدا میں بیان ہونے والے شجر ملعونہ سے تم بنی امیہ مراد ہو ، اور آيهٔ كريمه «أَفَمَن كَانَ مُؤْمِناً كَمَن كَانَ فَاسِقاً»(488) تمہاری شان میں نازل ہوئی ہے ، تمہارے مردوں میں غیرت نہیں ہے اور اور تمہاری عورتیں شہوت، بدکاری اور خباثت سے مشہور ہیں منجملہ عفّان کہ جو تمہارا رئیس اور سربراہ ہے کہ جس کے کرتوت آشکار ہیں اور عتبہ؛ جو تمہارے بزرگوں میں سے ہے اور جس نے ہمیشہ حضرت خاتم الأنبياء عليه التحيّة والثناء کی مخالفت میں ا علم بلند رکھا. اور وہ صخرة بن حرب كہ جس پر تم افتخار کر رہے ہو، وہ زمانۂ جاہلیت میں جواری اور شرابی تھا، اس نے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا لیکن وہ منافق اور غدار تھا. تم لوگ عطبة بن ابى معيط کو قریش سے منسوب کرتے ہو لیکن صادق مخبر اور نسب شناس نے قریش سے اس کی نسبت کی نفی کی ہےاور اور اس کا پلید بیٹا ولید؛ جس نے مستی کے عالم میں صبح کی نماز چار رکعت ادا کی اور کہا: چونکہ آج میں خوش ہوں اور اگر تم لوگ چاہو تو میں تمہاری طرف سے بھی کچھ رکعات ادا کر دوں اور تم لوگوں نے اسے کوفہ میں مسلمانوں کی جان اور ناموس پر حاکم بنا دیا. اور حكم بن العاص اور اس کا بیٹا مروان کہ جنہیں حضرت رسول صلى الله عليه وآله وسلم نے نکال دیا ہے لیکن تم لوگوں نے انہیں قبول کیا اور انہیں عزت دی۔ سبحان اللہ! معاویہ اور اس کے بارے میں کیا کہوں۔
منظوم:
داستان پسر هند مگر نشنيدى
كه از او و سه كس او به پيمبر چه رسيد؟
او بناحق حق داماد پيمبر بستد
پسر او سر فرزند پيمبر ببريد
پدر او لب و دندان پيمبر بشكست
مادر او جگر عمّ پيمبر بدريد
بر چنين قوم، تو لعنت نكنى شرمت باد
لعن اللَّه يزيداً و على آل يزيد
تم لوگوں کے صاحب عزت لوگوں میں سے ایک حمالة الحطب ہے کہ اس کی آل کی شقاوت ابو لہب کے حالات میں درج ہے اور دوسری ہندہ ہے جس نے اپنے پاس وحشی کو بلایا اور اسے اپنے زیورات دیئے تا کہ وہ سيّدالشہداء حضرت حمزه کو شہید کرے۔
یہ مصرع ملاحظہ فرمائیں: اى تو مجموعه خوبى؛ زكدامت گويم؟!
وہ بوڑھا شخص اس دلپذیر بیان کے بعد روانہ ہو گیا اور ہشام «فبهت الّذي كفر» کا مصدق بن کر حیران و سرگراں کھڑا رہا۔ پھر اس نے اپنے غلام سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ اس بوڑھے شخص نے کیا کہا؟
غلام نے کہا: مجھے خوف کی وجہ سے اس کی کوئی بات بھی یاد نہیں ہے۔
ہشام نے کہا: اچھا ہے کہ تمہیں اس کی کوئی بات یاد نہیں ورنہ میں تمہیں قتل کرنے پر مجبور ہو جاتا۔ اور اگر ان کثیر الملال باتوں سے تمہیں کوئی بات یاد بھی ہو تو اسے کسی سے بیان نہ کرنا.
پھر وہ اپنے لشکر سے جا ملا لیکن پھر بھی اسے اس بوڑھے شخص کی بے تکلف باتوں پر حیرانی تھی.
منظوم:
اگرش چشم راست بين بودى
راستكردار و راست دين بودى
دست احسان و بذل بگشادى
جاى آزار خلعتش دادى(489)
487) سوره حجرات، آيه 13.
488) سوره سجده، آيه 18.
489) تاريخ نگارستان: 22.
منبع: معاویه ج ... ص ...








