امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) ہشام بن عبدالملك اور سخن داں جوان

(۲)

ہشام بن عبدالملك اور سخن داں جوان

ہشام بن عبد الملک کی خلافت کے ایّام میں کچھ بایہ نشینوں کو قحط کا سامنا کرنا پڑا۔ان میں سے کچھ لوگ دربار میں آئے تا کہ خلیفہ سے مدد طلب کریں لیکن دربار کی شان و شوکت، عظمت اور تشکیلات کو دیکھ کر سب حیران ہو گئے اور کسی نے بات کرنے کی جرأت نہ کی۔ اس گروہ میں ایک سولہ سال کا لڑکا بھی تھا، جب ہشام کی نظر اس پر پڑی تو اپنے محافظ اور دربان سے کہا:جو بھی چاہے وہ ہمارے دربار میں چلا آئے ، حتی بچے بھی۔

اسی وقت وہ جوان کھڑا ہوا اور خلیفہ کے سامنے لب کشائی کی اور کہا: اے امیر! إنّ للكلام نشراً وطيّاوانه لايعرف ما في طيّه إلاّ بنشره فإن أذن لي أميرالمؤمنين ‏أن أنشره نشرته. كلام کبھی واضح و روشن ہوتا ہے اور کبھی پيچيده اور مبهم. کلام کی پیچیدگی کی صورت میں متکلم کی مراد و مقصود واضح نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ بات واضح ہو جائے اور متکلم آشکار طور پر بیان کرے۔ اگر خلیفۂ مسلمین اجازت دیں تو میں واضح و روشن طریقہ سے بیان کروں.

ہشام کو نوجوان کی باتوں پر حیرات  ہوئی اور اس کہا: تم کھل کر بیان کرو۔

جوان نے کہا:اے خلیفۂ مسلمین! ہم تین سال سے قحط میں گرفتار ہیں۔ پہلے سال نے روغن کو پانی کر دیا، دوسرے سال نے گوشت کو کھا لیا اور تیسرے سال نے ہڈیوں کو کمزور کر دیا۔ آپ کے پاس بہت مال و دولت ہے۔ اگر یہ خدا کا مال ہے تو اس کے بندوں میں تقسیم کریں، اگر لوگوں کا مال ہے تو پھر آپ نے اپنے پاس کیوں رکھا ہے ، لوگوں کا مال انہیں کیوں نہیں دے رہے اور اگر یہ آپ کا اپنا مال ہے تو صدقہ دے دیں کیونکہ خدا صدقہ دینے والوں کو بہترین اجر و پاداش عطا کرے گا۔

فقال هشام: ما ترك الغلام لنا في واحدة من الثلاث عذراً فأمر للبوادى بمائة ألف ‏دينار وله بمائة ألف درهم، ثمّ قال له: ألك حاجة؟ قال: ما لي حاجة في خاصّه نفسي ‏دون عامّة المسلمين فخرج.(451)

ہشام نے کہا: اس جوان نے تینوں صورتوں میں سے کسی میں بھی ہمارے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا لہذا اس نے حکم دیا کہ بادیہ نشینوں کو ایک لاکھ دینار اور اس جوان کو ایک لاکھ درہم دے دیئے جائیں۔ پھر اس جوان سے کہا: کیا تمہاری کوئی حاجت ہے؟ اس نے جواب دیا: میری اپنے لئے کوئی خاص حاجت نہیں ہے اور عام مسلمانوں کی حاجت کے سوا میری کوئی حاجت نہیں ہے اور پھر وہ دربار سے باہر چلا گیا.(452)


451) المستطرف: 46/1.

452) سخن و سخنورى: 136.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 853