امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۱) حضرت ابراهیم علیہ السلام ؛ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں میں

(۱)

حضرت ابراهیم علیہ السلام ؛

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں میں

کتاب « فضائل اهلبیت علیهم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ » میں وارد ہوا ہے کہ :

.... سيّد شرف الدين نجفى قدس سره نے اس آيۀ شريفہ «وَإنَّ مِنْ شيعَتِهِ لَإبْراهيم»(1) يعنى‏ بیشک  اس کے شیعوں میں سے ابراہیم ہیں، کی تفسیر کے ضمن میں کہتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام؛ حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں میں سے ہیں۔ (2)

   اور کہتے ہیں کہ : جابر بن يزيد جعفى کی وہ روایت اس مطلب کی تائید کرتی ہے کہ جس میں انہوں نے امام‏ صادق عليه السلام سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا :

جب خداوند تبارك و تعالى نے ابراہیم علیہ السلام کو خلق کیا تو ان کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ اٹھا دیا تو ابراہیم علیہ السلام نے عرش پر ایک نور کا مشاہدہ کیا :

اور عرض كیا : اے پروردگار! یہ یسا نور ہے جس کو مین دیکھ رہا ہوں ؟

کہا گیا : یہ میری مخلوق میں سب اے افضل اور برگزیدہ شخص محمّد صلى الله عليه و آله و سلم کا نور ہے۔

ابراہیم علیہ السلام نے اس نور کے ساتھ اور اور نور دیکھا تو عرض کیا : خدایا! یہ کیسا نور ہے کہ جس کا میں مشاہدہ کیا ہے؟

کہا گیا : یہ میرے دین کی مدد کرنے والے على عليه السلام کا نور ہے ۔

اور ان دونوں نور کے ساتھ تین اور انوار کا مشاہدہ کیا تو ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا :یہ تین نور کیسے ہیں ؟

کہا گیا : ان مین سے ایک فاطمہ علیہا السلام کا نور ہے کہ جن کے محبوں کو میں جہنم کی آگ سے نجات دے چکا ہوں اور دوسرے دو نور فاطمہ علیہا السلام کے دو بیڑت حسن اور حسین علیہما السلام ہیں ۔

ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا : میرے خدا ! میں نو اور نور بھی دیکھ رہا ہوں کہ جنہوں نے ان پانچ انوار کا احاطہ کیا ہوا ہے ؟

جواب ملا : وہ نو اماموں کے نور ہیں کہ جو سب کے سب فاطمہ علیہا السلام اور علی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔

پھر حضرت ابراہيم عليه السلام نے عرض كیا : خدایا ! ان پانچ مقدس انوار کے حق کا واسطہ ! مجھے ان نو انوار کی پہچان کروا ۔

جواب میں کہا گیا :

يا إبراهيم ؛ أوّلهم عليّ بن الحسين، وابنه محمّد، وابنه جعفر،وابنه موسى، وابنه عليّ وابنه محمّد، وابنه عليّ، وابنه الحسن، والحجّة القائم عليه السلام ابنه .

اے ابراہيم ! ان میں سے پہلے کا نام علىّ بن الحسين ہے اور ان کے بعد بالترتیب ان کے بیٹے محمّد ، اور ان کے بیٹے جعفر ، اور ان کے بیٹے موسى ، اور ان کے بیٹے على ، اور ان کے بیٹے محمّد ، اور ان کے بیٹے على ، اور ان کے بیٹے حسن ، اور ان میں سے آخری حسن کے بیٹے ہیں کہ جو میری قیام کرنے والی حجت ہیں۔

ابراہيم عليه السلام نے عرض کیا : مین ان کے اطراف میں اور بھی بہت سے نور دیکھ رہا ہوں کہ جن کی تعداد کا علم تیرے سوا کسی اور کو نہیں ہے ؟

کہا گیا : ااے ابراہیم ! یہ ان کے شیعوں کا نور ہے کہ جو امير المؤمنين على بن ‏ابى طالب علیہما السلام کے شیعہ ہیں ۔

ابراہيم عليه السلام نے پوچھا : ان کی علامت اور نشانی کیا ہے کہ جس کی وجہ سے یہ پہچانے جائیں ؟ ان کے جواب میں کہا گیا :

بصلاة إحدى وخمسين، والجهر ببسم اللَّه الرحمن الرحيم، والقنوت ‏قبل الركوع، والتختّم باليمين .

وہ دن رات میں 51 ركعت نماز پڑھتے ہیں ، «بسم اللَّه الرحمن الرحيم» کو بند آواز سے کہتے ہیں، ، رکوع سے پہلے قنوت انجام دیتے ہیں ، اور دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے ہیں ۔

اسی وقت حضرت ابراہيم عليه السلام نے عرض كیا : «اللهمّ اجعلني من شيعة أميرالمؤمنين» ، اے پروردگارا ! مجھے میں امير المؤمنين علی عليه السلام کے شیعوں مین قرار دے اور خداوند نے اپنی کتاب میں اس کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے : «وَإنَّ مِنْ شيعَتِهِ لَإبْراهيم» يعنى ابراہيم ؛ على عليه السلام کے شیعوں میں سے ہیں .(3)


1) سوره صافّات ، آيه 83 .

2) تأويل الآيات : 495/2 ح 8 .

3) تأويل الآيات: 496/2 ح9 ، بحار الأنوار : 151/36 ح 131 و 80/85 ح 20 ، تفسير برہان : 20/4 ح2.

 

منبع : فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں  سے ایک ناچیز قطرہ: 1 / 54

 

بازدید : 1061