امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) حلیمۂ سعدیہ کی بیٹی حرّہ کے واقعہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کی پدر انبیاء ، حضرت ابراهیم علیه السلام پر فضیلت کی علت

(۲)

 حلیمۂ سعدیہ کی بیٹی حرّہ کے واقعہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام

کی پدر انبیاء ، حضرت ابراهیم علیه السلام پر فضیلت کی علت

 کتاب « فضائل اهلبیت علیهم السلام  کے بحر بیکراں  سے ایک ناچیز قطرہ» میں وارد ہوا ہے کہ :

.... علّامه مجلسى رحمه الله نے کےاب «بحار الأنوار : 134/46 ح 25» میں حليمه سعديّه کی بیٹی حرّہ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ جب وہ حجّاج بن یوسف ثقفى کے پاس گئی اور اس واقعہ کا کچھ حصہ بیان ہے :

   حجّاج بن یوسف ثقفی نے ان سے سوال کیا  : تم نے کس طرح على عليه السلام کو ابو الاٗنبياء يعنى ابراہيم خليل اللّه پر برترى اور فضيلت دى ؟

   انہوں نے جواب دیا : خداوند تبارك و تعالى نے انہیں برتری دی ہے کہ جہاں قرآن میں فرمایا ہے : «وإذ قال إبراهيم رَبّ أرِني كَيف تُحيى‏ المَوْتى قال أوَلَم تُؤمن قال بَلى وَلكن لِيَطمئنّ قَلبي» ؛  «اور اس موقع کو یاد کرو جب ابراہیم علیہ السلام نے التجا کی کہ پروردگارا مجھے یہ دکھا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ؟ ارشاد ہو اکہ تمہارا ایمان نہیں ہے ۔ عرض کی کہ ایمان تو  ہے لیکن اطمینان قلب چاہتا ہوں » ، لیکن میرے مولا امير المؤمنين علی عليه السلام نے فرمایا ہے : «اگر پردہ اٹھا دیئے جائیں تو میرے یقین میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہو گا» ، اور کسی اختلاف کے بغیر تمام مسلمان یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ امير المؤمنين علی عليه السلام کا فرمان ہے۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص اپنے لئے اس مقام کا قائل نہیں تھا اور کسی نے اپنے بارے میں یہ نہیں کہا تھا۔

 

منبع : فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: 1 / 56 (پاورقی)

 

بازدید : 1134