امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۳) حضرت ابراهیم علیه السلام اور خداوند متعال کی جانب سے واقعۂ عاشورا کو نقل کرنا

(۳)

حضرت ابراهیم علیه السلام  اور خداوند متعال

کی جانب سے واقعۂ عاشورا کو نقل کرنا

کتاب « فضائل اہلبیت علہیم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ » میں وارد ہوا ہے :

... شيخ صدوق رحمه الله نے كتاب «عيون اخبار الرضا عليه السلام» میں حضرت امام رضا عليه السلام سے نقل كیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

 جب خداوند تبارك و تعالى نے ابراہيم خليل الرحمٰن کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعيل کی بجائے اس دنبہ کو ذبح کریں کہ جو ان کے لئے بھیجا تو ابراہیم علیہ السلام نے یہ خواہش کی کہ کاش وہ خود اپنے ہاتھوں سے اسماعیل کو قربان کرتے اور اس دنبہ کو ذبح کرنے کا حکم نہ ہوتا تا کہ باپ اپنے عزیز بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتا اور اپنے اس عمل سے انہیں مصیبتوں میں صبر کرنے والوں کا اجر اور بلند درجات حاصل ہوتے ۔

 خداوند تبارك و تعالى نے ان پر وحى فرمائی : اے ابراہيم ! تمہارے نزدیک میری سب سے محبوب مخلوق کون ہے ؟

 عرض كیا : خداوندا ! تو نے کوئی ایسی مخلوق خلق نہیں کی کہ جو میرے نزدیک تیرے حبیب يعنى محمّد صلى الله عليه و آله و سلم سے زیادہ محبوب ہو ۔

 فرمایا : اے ابراہيم ! کیا تم انہیں زیادہ دوست رکھتے ہو یا خود کو ؟

عرض كیا : میں انہیں خود سے زیادہ دوست رکھتا ہوں ۔

 فرمایا : کیا تم ان کے بیٹے کو زیادہ دوست رکھتے ہو یا اپنے بیٹے کو ؟

عرض كیا : میں ان کے بیٹے کو اپنے بیٹے سے زیادہ دوست رکھتا ہوں ۔

 فرمایا : ان کے بیٹے کا ان کے دشمنوں کے ہاتھوں ظلم و ستم اور بغج وکینہ کی وجہ سے قتل ہونا تمہارے دل پر زیادہ گراں گذرے گا یا میری اطاعت میں اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قربان کرنا گراں گذرے گا ؟

 عرض كیا : ان کے دشمنوں کے ہاتھوں ان کا قتل ہونا میرے لئے زیادہ دردناک ہے ۔

 فرمایا : يا إبراهيم؛ إنّ طائفة تزعم أنّها من اُمّة محمّد صلى الله عليه وآله وسلم ستقتل الحسين إبنه من بعده ظلماً وعدواناً كما يذبح الكبش، ويستوجبون بذلك سخطي .

 اے ابراہيم ! ایک گروہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ محمّد صلى الله عليه و آله و سلم کی امت میں سے ہے اور وہ جلد ہی ان ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد ان کے بیٹے حسين عليه السلام کو ظلم و ستم سے قتل کرے گا کہ جس طرح بھیڑ کا سر جد کرتے ہیں اور وہ اس عمل سے میرے خشم و غضب کے مستحق قرار پائیں گے ۔

ابراہیم علیہ السلام یہ سن کر غمگین ہو گئے اور اس مصیبت کی یاد سے ان کا دل محزون ہوا اور انہوں نے گریہ کیا۔

 خداوند تبارك و تعالى نے انہیں وحی کے ذریعہ فرمایا :اے ابراہیم !میں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے قتل ہونے کی مصیبت پر تمہارے گریہ اور آہ و نالہ کو تمہارے بیٹے اسماعیل کی مصیبت کو برداشت کرنے اور اس پر صبر کرنے کا فدیہ اور عوض قرار دیا ہے کہ جب تم اسے خود اپنے ہاتھوں سے قربان کرتے ، اور میں نے تمہیں مصیبت زدہ افرار کے بلند درجات عطا کئے ہیں ، اور یہ  خداوند تبارك و تعالى کے کلام کی تأویل ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے : «وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظيم»(39) «اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے» اور کوئی قوت و قدرت نہیں ہے مگر خداوند متعال کے سبب سے ۔ (40)


1) سورۀ صافّات ، آيۀ 107 .

2) عيون اخبار الرضا عليه السلام: 166/1 ح 1، جواہر السنيّة: 251، تأويل الآيات: 497/2 ح 12 ، تفسير برہان : 30/4 ح6، المنتخب: 32 ، بحار الأنوار : 225/44 ح6 .

 

منبع : فضائل اهلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں  سے ایک ناچیز قطرہ : 1 / 475 ح 328

 

بازدید : 1129