(۲)
ادریس بن عبدالله؛ قیام فخّ
کے بازماندہ اور شمالی اقریقہ میں ادریسی حکومت کےتشکیل دهندۀ
ابوالفرج اصفہانى نے ایک روایت میں احمد بن عبد اللّه بن عمّار سے نقل کرتے ہوئے یوں لکھا ہے :
ادريس بن عبد اللَّه (جو واقعۀ فخ میں بچانے میں کامیاب ہو گیا تھا) اپنے غلام راشد کے ہمراہ مصر اور افريقيّه کے حاجیوں کے قافلہ کے ساتھ وہاں سے نکل گیا۔ اس سر میں ادریس غلامی کا لباس پہن کر اپنے غلام کی خدمت کرتا تھا۔ وہ لوگ مصر میں بنی عباس کے ایک حاکم و والی کے پاس پہنچ گئے اور اس سے اپنا تعارف کروایا اور اس کی تدابیر کی وجہ سے مغرب یعنی طنجه کی طرف روانہ ہو گئےاور بربر کے درمیان تبليغ میں مصروف ہو گئے۔
اس روایت کو بكرى نے المسالك والممالك میں بھی نقل کیا ہے۔ بکری کے ایک دوسری روایت میں ابن خلدون سے مشابہ روایت کی طرف اشارہ کیا ہے اور لکھا ہے: صالح بن منصور کا غلام واضح ؛ تشیع کا اظہار کرتا تھا «حمله على البريد فوقع بأرض طنجه».
اس بارے میں اندلسى نے لکھا ہے کہ: ادریس مصر پہنچا تو مصر کے حاکم کا عامل واضح شیعہ تھا کہ جس نے اسے برید کے ہمراہ مغرب کی طرف بھیج دیا۔ ادریس طنجہ کے علاقہ میں وليلى يا وليله نامی شہر میں گیا۔
ابن عذارى اس بات کا معتقد ہے کہ ادريس اپنے غلام راشد کے ساتھ سنہ 170 ہجری میں وليلى نامی شہر میں پہنچا۔ اس شہر زیادہ تر قبیلۂ اوربہ کے لوگ رہتے تھے۔ اس قبیلہ کا سربراہ اسحاق بن محمّد بن عبد الحميد اوربى تھا کہ جو مغرب کے معتزلیوں میں سے تھا۔ تاریخی کتابوں میں وارد ہونے والے مطالب میں سے ایک یہ ہے کہ ادريس معتزلی مذہب کا پیروکار تھا اور وہ اسحاق اوربى کی شاگردی پر افتخار کرتا تھا۔
البتّه یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن ہم یہ بات جانتے ہیں کہ مغرب میں اور بربر قبائل میں معتزلی مذہب کا وجود تھا۔ ابن حوقل لکھتا ہے: «زناته ومزاته قبيلتان عظيمتان الغالب عليهم الإعتزال من اصحاب واصل بن عطاء»؛ يعنى زناته اور مزاته دو بہت بڑے قبائل تھے کہ جن میں اکثر افراد معتزلی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور وہ واصل بن عطاء کے طرفدار تھے۔
ایک دوسرے مقام پر سجلماسه اور فاس کے بارے میں کہتے ہیں: «وفى بعضهم الإعتزال». قدامة بن جعفر نے بھی كتاب الخراج میں ذکر کیا ہے کہ: تاہرت کے پیچھے ۲۴ دن کے فاصلہ پر ایک معتزلی شہر ہے کہ جہاں فریاد سننے والا ایک حاکم حکومت کرتا ہے اور وہ بہت فریاد رسی کرنے والا ہے کہ جس کا رفتار و کردار پسندیدہ ہے اور ان کا دار الحکومت طنجه اور اس کے نواحی علاقے ہیں۔ اس زمانے میں اس کے نواحی علاقوں میں محمّد بن ادريس بن عبداللَّه کے بیٹے کی حکومت ہے۔
اس شہر کے نام سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مغرب کے ان علاقوں میں معتزلی مذہب موجود تھا۔ معتزلی شاعر صفوان انصارى نے بھی اپنے شعر میں مغرب اور بربر قبیلہ میں معتزلیوں کے وجود کی طرف اشارہ کیا ہے اور واصل بن عطاء کے بارے میں اپنے شعر میں کہا ہے : «له خلف شعب الصين فيكلّ ثغره إلى سوسها الأقصى وخلف البرابر».
یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بربریوں کے میں معتزلی مزہب موجود تھا اور جس زمانے میں ادریس شیعی زیدی ان لوگوں میں گئے تو انہوں نے ان لوگوں میں اپنا مشہور خطہ کچھ اس طرح سے بیان کیا:
الحمد للَّه الّذي جعل النصر لمن اطاعه وعاقبة السوء لمن عانده، و لا إله إلاّ اللَّه المتفرّد بالوحدانيّة.. ادعوكم إلى كتاب اللَّه وسنّة نبيّه وإلى العدل في الرعيّة والقسم بالسويّة... اعلموا عباد اللَّه أنّ من أوجب اللَّه على اهل طاعته المجاهدة لأهل عداوته ومعصيته باليد واللسان وفرض الأمر بالمعروف ونهى عن المنكر.
ان دونوں مذاہب میں ’’عدل‘‘ کے مقام اور امر بالمعروف و نہی از منکر کی اہمیت کی وجہ سے معتزلیوں میں سے ایک گروہ اور اسحاق اوربی نے ان کی دعوت پر لبیک کیا۔ یہ بات واضح ہے کہ جب ادریس نے انسان کے ارادہ کی آزادی ، اختیار اور اپنے اعمال پر انسان کی جوابدہی کی تاکید کی تو یہ تاکید مظلوم بربری افراد کی فطرت اور ضمیر و وجدان سے ہماہنگ تھی ، جس کی وجہ سے انہوں نے اوروی آ کر ان کی بیعت کی۔ ادریسی شیعوں اور مغرب کے معتزلیوں کے درمیان پیوند ایک فطری اور بدیہی امر تھا۔ تیسری صدی ہجری کے عالم ابو القاسم بلخی معتزلی نے بھی اس پیوند کی طرف اشارہ کیا ہے۔
البتہ یہ نکتہ قابل بیان ہے کہ ادریس کے باقی رہنے والے خطبوں اور کلمات پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں اصول زیدیہ کی تبلیغ کرنے سے پہلے مغرب کے قبائل میں اسلام کی نشر و اشاعت میں بھی مصروف رہے اور جن کے ہاتھ پر مغرب میں آباد بہت سے یہودی اور عیسائی قبائل مسلمان ہوئے۔
دوسرے لفظوں میں اگر ہمیں ادریسی حکومت کے بانیوں اور اس حکومت کے اہم حاکموں کی جانب سے شیعہ عقائد کا اظہار نطر نہیں آتا تو پھر قبیلۂ اوربہ کی ادریس سے سیاسی یگانگت ادریسیوں کے معتزلی ہونے کی بھھی دلیل نہیں ہے۔
ادریسیوں کی حکومت کے بعد ملنے والے سکوں پر امام علی علیہ السلام کی امامت اور فضیلت کے آثار نمایاں طور پر نظر آتے ہیں اور ان سکوں پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے: «على خير الناس بعد النبيّ، كره من كره و رضى من رضى». نیز اس حکومت میں بعد کے حاکموں جیسے آخری ادریسی حاکم حسن بن قاسم نے اپنے تشیع کو ظاہر کیا اور اس کا اعلان کیا۔ نیز اندلس میں ادریسیوں کے پسماندان یعنی بنو حموّد نے کھل کر شیعہ مذہب کی تبلیغ کی۔
1) مقدّمه ای بر تاریخ مغرب اسلامی : 31.
منبع : معاویه : ج .... ص ...








