(2)
قتل عثمان کی كيفيّت
محمّد بن ابوبكر تیرہ افراد کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور خود عثمان تک پہنچے اور اس کی داڑھی پکڑ کر اس طرح سے کھینچی کہ عثمان کے دانت گرنے کی آواز سنی گئی۔ محمّد بن ابوبكر نے کہا: تم نے دیکھا کہ معاويه ، ابن عامر اور تمہارے سپاہی تمہاری کوئی مدد نہیں کر پائے اور انہوں نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔ عثمان نے کہا: اے میرے بھتیجے؛ میری داڑھی چھوڑو.
کہتے ہیں: اسی دوران میں نے دیکھا کہ کچھ اور لوگ بھی محمّد بن ابوبكر کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں میں موجود تیز دھار تیر و تبر سے عثمان کے سر پر مارا.
کہتے ہیں: میں نے وثاب سے کہا: اس کے بعد کیا ہوا؟
انہوں نے کہا:سب نے مل کر اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔خدا اس کی مغفرت کرے.
واقدى ؛ عبدالرحمن بن عبدالعزيز اور عبدالرحمن بن محمّد بن عبد سے نقل کرتے ہیں: محمّد بن ابى بكر ؛ عمرو بن حزم کے گھر کی دیوار سے كنانة بن بِشْر بن عتاب ، سودان بن حُمران ، عمرو بن حمق کے ساتھ عثمان تک پہنچے اور انہوں نے عثمان کو اس کی بیوی نائله کے ساتھ دیکھا کہ جو سورهٔ بقره کی قرائت میں مشغول تھی۔ محمّد بن ابوبكر سامنے آئے اور انہوں نے عثمان کی داڑھی کو پکڑ کر کہا: اے بوڑھے؛ تم نے دیکھا کہ خداوند نے تمہیں خوار و ذلیل کیا۔
عثمان نے کہا: میں بوڑھا نہیں ہوں بلكه بندهٔ خدا اور مؤمنوں کا امیر ہوں۔
محمّد بن ابوبكر نے کہا: معاويه اور فلان اور تیرے سپاہیوں نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
عثمان نے کہا: اے بھتیجے ؛ میری داڑھی چھوڑو کہ تمہارے باپ نے کبھی میری داڑھی نہیں پکڑی۔
محمّد نے کہا:میں نے ابھی صرف تمہاری داڑھی پکڑی ہے لیکن میں اس سے بھی زیادہ سختی سے تمہارے ساتھ پیش آنا چاہتا ہوں۔
عثمان نے کہا: میں تمہارے خلاف خدا سے نصرت اور مدد طلب کرتا ہوں۔
اسی دوران محمّد بن ابوبكر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تیز اور چوڑے تبر سے عثمان کی پیشانی پر مارا اور كنانة بن بشر بن عتاب نے بھی اپنے ہاتھ میں موجود تیر سے عثمان کے کان کے پیچھے مارا کہ جو اس کے حلق سے نکل آیا اور پھر اسی نے تلوار سے عثمان کو قتل کر دیا.
عبدالرحمن بن عبدالعزيز کہتاہے: میں نے ابن ابى عون سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے: كنانة بن بشر نے اپنے ہاتھ میں موجود لوہے سے عثمان كے سر اور پیشانی پر مارا اور عثمان پہلو کے بل گر گیا اور اس دوران سودان بن حمران مرادى نے تلوار سے اسے قتل کر دیا، عمرو بن حمق عثمان کے سینہ پر سوار ہوئے اور ابھی اس کی سانسیں چل رہی تھی کہ انہوں نے نیزہ یا خنجر سے نو وار کئے اور کہا: تین وار خدا کی رضائیت کے لئے اور چھ وار اپنے دل میں تمہارے خلاف کینہ کی وجہ سے کئے۔ (1)
1) طبقات: 63/3.
منبع: کتاب معاويه ج ... ص ...
۔








