امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
مروان کا عائشہ کی چاپلوسی کرنا

مروان کا عائشہ کی چاپلوسی کرنا

یعقوبی نے لکھا ہے : مروان ، عائشہ کے پاس گیا اور کہا: اے امّ المؤمنین! کاش آپ اٹھتیں اور اس شخص اور لوگوں کے درمیان صلح کروا دیتیں۔

عائشہ نے جواب دیا: میں نے اپنے سفرِ حج کی تیاری کر لی ہے اور میں حج پر جانا چاہتی ہوں۔

مروان نے کہا: آپ نے جتنا خرچ کیا ہے، ہر درہم کے بدلے آپ کو دو درہم دے دیئے جائیں گے۔

عائشہ نے کہا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں عثمان کو نہیں جانتی؟ خدا کی قسم! میری خواہش تھی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر  میرے تھیلوں میں سے کسی تھیلی میں ہوتا، اور میں اسے اٹھا کر سمندر میں پھینک دیتی۔[1]

یعقوبی کا  شمار  اہلسنت کے بڑے مؤرخین میں ہوتا ہے اور وہ  اپنی تاریخ میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں۔

ان کی تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ’’کرتۂ عثمان ‘‘ کو بہانہ بنا کر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے خلاف جنگ کی، وہ خود عثمان سے کس قدر شدید نفرت کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کی یہ تمنا تھی کہ عثمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ان کے تھیلوں میں ڈال دیا جائے اور اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔

یہی لوگ بعد میں “عثمان کے کرتہ” کو بطورِ بہانہ استعمال کرتے ہوئے ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا سبب بنے۔

 


[1] ۔   تاريخ يعقوبى : ۲/ ۷۲.

بازدید : 12