امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عائشه کی عثمان سے دشمنی

عائشه کی عثمان سے دشمنی

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: عائشہ چونکہ عثمان کو اچھی طرح جانتی تھی، اس لئے اس نے مروان کی چاپلوسی سے دھوکا نہ کھایا ۔ اور یہ واضح ہے کہ سمجھدار لوگ چاپلوسی کرنے والوں کے فریب میں کم ہی  آتے ہیں۔

جس کسی نے بھی سیرت اور تاریخ پر کتاب لکھی ہے، اس نے لکھا ہے کہ عائشہ عثمان کے بارے میں سب سے زیادہ سخت مؤقف رکھنے والوں میں سے تھی۔ یہاں تک کہ اس نے رسول خدا صلی اللی علیہ و آلہ و سلم  کے کپڑوں میں سے ایک کپڑا نکالا، اسے اپنے گھر میں ایک لکڑی پر لٹکا دیا، اور جو بھی ان کے گھر آتا اس سے کہتی تھی: یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا کپڑا ہے جو ابھی تک پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوا، جبکہ عثمان نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی سنت کو بوسیدہ اور فرسودہ کر دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ (تحقیر کے طور پر) عثمان کو سب سے پہلے “نعثل” عائشہ  نے ہی کہا تھا اور وہ اکثر یہ کہا کرتی تھی: “نعثل کو قتل کرو، اللہ اسے قتل کرے۔

مدائنی اپنی کتاب “الجمل” میں نقل کرتے ہیں کہ جب عثمان کا قتل ہوا تو عائشہ مکہ میں تھی۔ جب وہ “شراف” کے مقام پر پہنچی تو اسے عثمان کے قتل کی خبر ملی۔ اسے اس بات میں کسی طرح کا کوئی  شک نہ تھا  کہ اس کے بعد  طلحہ خلیفہ ہو گا، اسی لئے اس نے کہا:

نعثل، اللہ کی رحمت سے دور ہو! دور ہو! اے وہ شخص جس کی انگلی شل ہے[1]، جلدی کرو! اے ابو شبل اور اے چچا کے بیٹے، جلدی کرو! گویا میں اس کی انگلی کو دیکھ رہی ہوں کہ لوگ اس کی اس طرح بیعت کر رہے ہیں جیسے اونٹوں کا ہجوم ہو۔

مزید کہا جاتا ہے کہ جب عثمان قتل ہوا تو طلحہ نے عثمان کے گھر میں موجود بیت المال کی چابیاں، منتخب اونٹ اور دیگر چیزیں قبضۃ میں لے لیں۔ لیکن جب اس کی خلافت قائم نہ ہو سکی تو اس نے وہ سب چیزیں حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کو واپس کر دیں۔

قتل عثمان کے بعد  عائشہ مکہ سے بصرہ جانا:

ابومخنف لوط بن یحیی ازدی اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں :جب  عائشہ کو مکہ میں عثمان کے قتل کی خبر ملی تو وہ تیزی سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئی اور وہ کہتی تھی:

اےشل انگلی والے! جلدی کر، خدا تیرے باپ کی مغفرت کرے۔ لوگ طلحہ کو خلافت کے لئے سب سے زیادہ موزوں سمجھتے ہیں۔

جب وہ “شراف” کے مقام پر پہنچی تو عبیدالله بن ابی سلمہ لیثی کی اس سے ملاقات ہوئی۔ عائشہ نے اس سے پوچھا: کیا خبر ہے؟

اس نے کہا: عثمان قتل ہو گیا ہے۔

اس نے پوچھا: پھر اس کے بعد کیا ہوا؟

عبیدالله نے کہا: معاملات ان کے لئے بہتر ہو گئے اور انہوں نے علی علیہ السلام کی بیعت کر لی۔

عائشہ نے کہا: اگر یہ بات سچ ہو تو کاش آسمان زمین پر گر پڑے، تجھ پر افسوس ہے، دیکھ تو سہی کیا کہہ رہا ہے؟

اس نے کہا: اے امّ المؤمنین! میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو حقیقت ہے۔

اس پر  عائشہ نے شور مچانا اور بددعا کرنا شروع کر دیا۔

عبید نے کہا: اے امّ المؤمنین! آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ خدا کی قسم! میں نے مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان علی علیہ السلام سے زیادہ خلافت کے لائق اور سزاوار کوئی شخص نہیں دیکھتا، اور نہ ہی میں نےکسی کو ان کے ہم مثل پایا ہے۔ آپ کو ان کی خلافت پسند کیوں نہیں؟عائشہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔

کہتے ہیں کہ مختلف طرق سے یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ جب مکہ میں عائشہ کو عثمان کے قتل کی خبر ملی تو اس نے کہا: “اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے، یہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

اور قیس بن ابی حازم روایت کرتے ہیں کہ جس سال عثمان قتل ہوا، تو انہوں نے حج کیا تھا، اور جب عثمان کے قتل کی خبر عائشہ تک پہنچی تو وہ ان کے ساتھ تھی اور پھر وہ مدینہ کی طرف روانہ ہو گئی۔

قیس کہتے ہیں: راستے میں میں نے سنا کہ عائشہ کہہ رہی تھی: “اے شل انگلی والے! جلدی کرو۔” اور جب بھی وہ عثمان کا ذکر کرتی تو کہتی:“اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔” یہاں تک کہ اسے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی بیعت کی خبر ملی۔

قیس کہتے ہیں: اس وقت عائشہ نے کہا: “کاش آسمان زمین پر گر پڑتا۔” پھر اس نے اپنے اونٹوں کو مکہ واپس لے جانے کا حکم دیا، اور میں بھی اس کے ساتھ مکہ واپس آ گیا۔ راستے میں کبھی کبھی وہ یوں باتیں کرتی تھی، جیسے کسی سے گفتگو کر رہی ہو، اور کہتی تھی: “ابن عفان کو ظلم کے ساتھ قتل کیا گیا ہے!”

میں نے اس سے کہا: اے امّ المؤمنین! ابھی میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ “اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے”، اور میں نے آپ کو اس سے پہلے عثمان کے بارے میں سب سے زیادہ سخت اور نازیبا باتیں کرتے بھی دیکھا ہے!

اس نے کہا: ہاں! ایسا ہی تھا، لیکن جب میں نے اس کے معاملے کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ لوگوں نے پہلے اس سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور جب وہ بالکل پاک و صاف ہو گیا، روزے کی حالت میں اور حالتِ احرام میں، اور حرمت والے مہینے میں، اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔

کہتے ہیں کہ دیگر طرق سے روایت ہے کہ جب عائشہ کو عثمان کے قتل کی خبر پہنچی تو اس نے کہا: اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے، اس کے گناہوں نے اسے قتل کیا، اور اللہ نے اس کے اعمال کا بدلہ اسے دے دیا۔ اے قریش کے لوگو! تمہیں عثمان کا قتل غمگین نہ کرے، جیسے ثمود کا سرخ رنگ والا شخص اپنی قوم کے لئے باعثِ غم و ہلاکت بنا تھا۔ حکومت کے سب سے زیادہ حق دار ذو الاصبع (طلحہ) ہیں۔

اور جب اسے امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی بیعت کی خبر ملی تو اس نے کہا:یہ لوگ تباہ و برباد ہوں! یہ کبھی بھی خلافت کو بنی تیم (قبیلہ) کی طرف واپس نہیں آنے دیں گے۔[2]

 


[1] ۔ طلحہ سے خطاب.

[2] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: ۳/ ۲۸۵.

بازدید : 11