امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عثمان و ابوذر، عائشه و حفصه

عثمان و  ابوذر، عائشه و حفصه

ابوکعب کا بیان ہے: پھر میں مدینہ آیا اور اُس وقت کے خلیفہ عثمان بن عفان کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے اپنے دینی مسائل میں سے ایک مسئلے کے بارے میں اس سے پوچھا اور عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! میں یمن کا رہنے والا ہوں اور بنی حارث بن کعب کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں، اور کچھ مسائل پوچھنا چاہتا ہوں، لہٰذا اپنے دربان کو حکم دیں کہ مجھے روکے نہیں۔

عثمان نے اپنے دربان وثاب سے کہا: جب یہ شخص تمہارے پاس آئے تو اسے اندر آنے دو۔

ابوکعب کہتا ہے: میں جب بھی  آ کر دروازہ کھٹکھٹاتا تو وہ پوچھتا: کون ہے؟ میں کہتا: میں حارثی ہوں، تو وہ کہتا: اندر آ جاؤ۔

ایک دن میں داخل ہوا تو دیکھا کہ عثمان بیٹھا ہوا ہے اور اس کے اردگرد کچھ لوگ خاموش بیٹھے ہیں، گویا ان کے سروں پر پرندہ بیٹھا ہو۔[1] میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا، اور جب میں نے عثمان اور ان لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو میں نے کچھ پوچھنے سے پرہیز کیا۔

اسی دوران کچھ اور لوگ آئے اور کہنے لگے: وہ آنے سے انکار کر رہا ہے ۔

عثمان غصے میں آ گیا اور کہا: وہ آنے سے انکار کر رہا ہے! جاؤ اور اسے لے کر آؤ، اور اگر وہ انکار کرے تو اسے گھسیٹ کر لے آؤ۔

راوی کہتا ہے: میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا، پھر وہ لوگ واپس آئے اور ان کے ساتھ ایک سیاہ رنگ کا دراز قد شخص تھا، جس کا سر گنجا تھا اور اس کے سر پر صرف آگے اور پیچھے چند بال باقی تھے۔

میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟

انہوں نے کہا: یہ عمار بن یاسر ہیں۔

عثمان نے ان سے کہا: کیا تم وہی ہو جس کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے لوگ آتے ہیں اور تم آنے سے انکار کرتے ہو؟

راوی کہتا ہے: پھر عثمان نے اس سے ایسی بات کی جو میں سمجھ نہ سکا، اس کے بعد وہ باہر چلا گیا۔ وہ لوگ بھی عثمان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے یہاں تک کہ میرے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ عثمان اپنی جگہ سے اٹھا۔

میں نے اپنے دل میں کہا: خدا کی قسم! میں اس معاملے میں کسی سے کچھ نہیں پوچھوں گا کہ فلاں شخص نے مجھے یہ کہا تھا، یہاں تک کہ میں خود سمجھ لوں کہ کیا ہو رہا ہے۔

میں عثمان کے پیچھے چلا یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے۔ وہاں دیکھا کہ عثمان ایک ستون کے پاس بیٹھا ہے  اور اس کے اردگرد رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے چند صحابہ بیٹھے رو رہے ہیں۔

عثمان نے اپنے دربان وثاب سے کہا: پولیس والوں کو میرے پاس بلاؤ۔

جب پولیس والے آئے تو انہوں نے کہا: اس گروہ کو یہاں سے ہٹا دو، اور انہوں نے ان سب کو منتشر کر دیا۔

پھر نماز قائم کی گئی۔ عثمان آگے بڑھا اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ جیسے ہی عثمان نے تکبیرة الإحرام کہی، ا س کے حجرے سے ایک عورت کی آواز بلند ہوئی۔

پہلے اس نے کہا: اے لوگو! پھر  اس نے رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کا ذکر کیا اور اس بات کو یاد دلایا کہ خدا نے آپ کو کس چیز کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ پھر اس نے کہا: تم نے خدا کے حکم کو ترک کر دیا اور خدا کے عہد کی مخالفت  کی اور اس سے دشمنی اختیار کی۔اس نے  اس طرح کی مزید باتیں کہیں، پھر خاموش ہو گئی۔

اس کے بعد ایک دوسری عورت نے بھی اسی طرح گفتگو کی۔ معلوم ہوا کہ وہ عائشہ اور حفصہ تھیں۔

راوی کہتا ہے: جب عثمان نے سلام کے ساتھ نماز مکمل کی تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: یہ دونوں عورتیں فتنہ انگیز ہیں، اور ان کو برا کہنا میرے لئے جائز ہے، اور میں ان کی اصل اور جڑ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔

سعد بن ابی وقاص نے کہا: کیا تم یہ بات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کی دو محبوب ازواج کے بارے میں کہہ رہے ہو؟

عثمان نے کہا: تمہیں اس معاملے سے کیا سروکار اور تم اس بارے میں جانتے ہو ؟ پھر وہ سعد کو مارنے کے لئے تیزی سےاس  کی طرف بڑھا ۔ سعد وہاں سے بھاگ کر مسجد سے باہر نکل گیا۔

عثمان بھی اس کا پیچھا کرتے ہوئے باہر کی طرف بھاگا۔ مسجد کے دروازے کے پاس اس کی ملاقات امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے ہوئی۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟

عثمان نے کہا: میں اس شخص یعنی سعد بن ابی وقاص کے پیچھے جا رہا ہوں، جبکہ وہ سعد کو گالیاں دے رہاتھا۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: اے شخص! اس کام کو چھوڑ دو۔

اس کے بعد ان دونوں کے درمیان گفتگو جاری رہی یہاں تک کہ دونوں غصے میں آ گئے۔

عثمان نے کہا: کیا تم وہی نہیں ہو جسے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  جنگِ تبوک میں اپنے ساتھ نہیں لے گئے تھے اور پیچھے چھوڑ دیا تھا؟

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم وہ نہیں ہو جو جنگِ احد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کی مدد  کرنے کی بجائے بھاگ گئے تھے؟

راوی کہتا ہے: پھر لوگ ان دونوں کے درمیان آ گئے۔

ابوکعب کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ سے نکل آیا۔ جب میں کوفہ پہنچا تو دیکھا کہ وہاں بھی لوگوں میں شرّ و فتنہ پھیل چکا ہے۔ انہوں نے سعید بن عاص کو نکال دیا تھا اور اسے شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ جب میں نے حالات اس طرح دیکھے تو میں اپنے قبیلے کی طرف واپس لوٹ گیا۔[2]

 


[1] ۔یہ ان کی بے اختیار اور عمیق خاموشی کو بیان کرتا ہے.

[2] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: ۴/ ۲۲۸.                

بازدید : 1