امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
اهل بیت علیهم السلام کے مخالفین کی حکومت میں مغیرہ کا کردار

اهل بیت علیهم السلام کے مخالفین کی حکومت میں مغیرہ کا کردار

مغیرہ کا شمار  اُن افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے بنی امیہ کی حکومت کے قیام اور اہل بیت علیہم السلام کی مخالفت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے وصال کے ابتدائی دنوں ہی میں اپنے پوشیدہ نظریات کو خاندانِ وحی علیہم السلام کے خلاف واضح کر دیا، اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے گھر پر حملہ کرنے اور اسے آگ لگانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا، جس سے اس کا کردار سب پر آشکار ہو گیا کہ وہ اہل بیت علیہم السلام کے مخالفین کی حکومت کے قیام میں کس قدر اہم شریک تھا۔

وہ صرف ابوبکر، عمر اور عثمان کا یاور و مددگار اور پشت پناہ ہی نہیں تھا، بلکہ معاویہ کی حکومت میں بھی اس نے بنی امیہ کی سلطنت کو قائم اور مضبوط کرنے کے لئے اہم منصوبے پیش کئے تھے۔ معاویہ نے ان منصوبوں کو قبول کر کے اپنی حکومت کو مستحکم کیا اور یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

مغیرہ نہ صرف ابوبکر اور عمر کی حکومت کے لئے ایک مضبوط پشت پناہ تھا بلکہ وہ اہل بیت علیہم السلام کی گوشہ نشینی کے دور سے لے کر معاویہ کی حکومت تک مسلسل اپنا کردار ادا کرتا رہا۔

اس نے زیاد کو معاویہ سے ملانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور معاویہ کی حکومت کے استحکام اور تسلسل کا سبب بنا۔ درحقیقت مغیرہ صرف اُن اہم عناصر میں ہی شامل نہیں تھا کہ جنہوں نے اہل بیت عصمت و طہارت  علیہم السلام کے گھر پر حملہ کیا،مخالفین کے حق میں حکومت کی تبدیلی میں حصہ لیا، اور حضرت محسن علیہ السلام کی شہادت کے واقعات میں کردار ادا کیا، بلکہ اس  نے یزید کو معاویہ کا جانشین بنانے کی تجویز دے کر کربلا کے واقعے اور اہل بیت علیہم السلام کی شہادت و اسارت کے سلسلے کی  بنیاد رکھی اور وہ ان کے بانیوں میں بھی شمار ہوتا ہے ۔

توجہ کریں کہ جب ایک شخص کا کردار اس قدر سیاہ ہو اور وہ معاویہ جیسے ظالموں کی حمایت اور وفاداری میں سختی سے کھڑا ہو، تو معاویہ کے بارے میں اس کی سوچ اور عقیدہ کی نوعیت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔[1]

 


[1] ۔ مروج الذهب ومعادن الجوهر، ابوالحسين على بن حسين مسعودى ، ترجمه پاينده :۲ / ۴۵۳- ۴۵۴.      

بازدید : 12