نہج البلاغہ کا آثارِ قدیمہ کے حوالے سے ہزاروں سالہ قدیم تاریخ کی خبریں دینا
آثارِ قدیمہ (باستان شناسی) ایک نسبتاً نیا علم ہے جس کی عمر چند دہائیوں سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود دنیا نے اسے خاص اہمیت دی ہے اور اس شعبے میں بہت بڑا بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے۔ یہ ان علوم میں سے ایک ہے جس پر قرآن نے بارہا توجہ دلائی ہے اور مسلمانوں کو اس سے استفادہ کرنے کی تاکید کی ہے۔ قرآن واضح طور پر فرماتا ہے:زمین میں سیر کرو اور گزری ہوئی قوموں کے آثار و باقیات سے آگاہی حاصل کرو کہ جو قومیں عذابِ الٰہی کے باعث ہلاک ہو گئیں تاکہ تم ان کے حالات سے عبرت حاصل کر سکو۔قرآن کریم اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ. [1]
آپ ان سے کہہ دیجئے کہ زمین میں سیر کریں پھر اس کے بعد دیکھیں کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے دیگر شعبوں کی طرح اس علم میں بھی ترقی مسلمانوں کی بجائے دوسرے لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔گزشتہ برسوں کے دوران انہوں نے مسلسل مشقت اور بے پناہ محنت کے ذریعے زمین کے نیچے سے قیمتی خزانے نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اب تک ہزاروں عمارتیں اور صدیوں پرانے ہزاروں آثار قدیمہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ یہ سب ایسے شواہد ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ہم سے پہلے بھی زمین پر لوگ آباد تھے اور وہ ایک اعلیٰ اور ترقی یافتہ تہذیب کے حامل تھے۔
برنارڈ ویلاریٹ (Bernard Villaret) اس موضوع پر ایک مفصل مقالے میں لکھتے ہیں: وسطی امریکہ کے گھنے جنگلات کے درمیان ہزاروں حیرت انگیز معابد موجود ہیں جو حال ہی میں ہمارے لئے دریافت ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے سفر کے دوران ہم دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے ایسے نامعلوم جنگلات تک پہنچے اور وہاں ہمیں ایسے آثار ملے جو ایک حیران کن اور کھوئی ہوئی تہذیب کی کہانی سناتے تھے۔
شہر ٹیکال (Tikal) میں سے صرف دو کلومیٹر کا حصہ ہی قابلِ دید اور قابلِ کھدائی ہے، جبکہ باقی حصہ گھنے درختوں کے نیچے دفن ہے۔ اب تک چھ بڑی عمارتیں دریافت ہو چکی ہیں، اور جوں جوں جنگل کے درخت کاٹے جاتے ہیں، مزید آثار سامنے آتے جاتے ہیں۔
ان میں سے ایک عمارت کے سامنے ایک میدان ہے جس کا رقبہ چار ہیکٹر ہے۔ ان عمارتوں میں سے ایک کی اونچائی ۷۰ میٹر تک ہے، اور ایک عمارت میں ۲۵۰۰۰۰مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں۔ ان عمارتوں کے درمیان دو کلومیٹر لمبی اور 18 میٹر چوڑی سڑکیں موجود ہیں، اور ایک طرف ایک تالاب ہے جس کی گہرائی چالیس میٹر ہے۔
کھدائی کرنے والوں کے سربراہ کا خیال ہے کہ ان تحقیقات کے دوران قبل مسیح کے ہزاروں سال پرانے آثار بھی دریافت ہوں گے۔
مجموعی طور پر دنیا کے بڑے عجائب گھروں میں موجود آثار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہماری نسل سے پہلے بھی مہذب اور ترقی یافتہ انسان زندگی گزار چکے ہیں، لیکن مختلف عوامل کے باعث ان کی قومیں بکھر گئیں اور نابود ہو گئیں، اور ان کے شہر بھی ویران اور تباہ ہو گئے۔ اس نظریے کی صداقت ان شہروں سے بھی ثابت ہوتی ہے جو گزشتہ دس برسوں کے دوران زمین کے نیچے سے دریافت ہوئے ہیں۔
قارئین کرام ! یہاں یہ کہنا نہایت مناسب ہے کہ ان تمام واقعات کے بارے میں، جن کی باقیات تک آج ہم پہنچتے ہیں اور جن کے بارے میں ہم محض اندازے لگاتے ہیں، اسلام کے رہنما مکمل طور پر آگاہ تھے۔ چنانچہ نهج البلاغه میں حضرت علی علیہ السلام نے نہایت صراحت کے ساتھ ہم سے پہلے کے لوگوں، ان کی تہذیب، اور حتیٰ کہ ان کے زوال کے اسباب کے بارے میں جامع معلومات فراہم کی ہیں۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام ۲۱۷ویں خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں :
واعلمو عباد الله انكم و ما أنتم فه من هته الدنيا على سبيل من ندمضى ثقبلكم ممّن كان اطول منكم اعماراً واعمر دياراً صربت اصواتهم حامده ورياحهم راكده واجادهم باليد وديارهم فاليه وآثارهم عافيه.
اے خداکے بندو! جان لو کہ تم جو بھی ہو، ان لوگوں سے زیادہ برتر اور عظیم نہیں ہو جو تم سے پہلے اس دنیا میں زندگی بسر کر چکے ہیں۔ وہ قومیں جو تم سے پہلے اس دنیا میں آباد تھیں، ان کی عمارتیں تمہاری عمارتوں سے زیادہ بڑی اور بلند تھیں، ان کے شہر تمہارے شہروں سے زیادہ آباد تھے، اور ان کی تہذیب اور سرگرمیوں کے آثار تم سے کہیں زیادہ وسیع تھے۔انہوں نے خدا کی نافرمانی اور اپنے پروردگار کی مخالفت کے باعث عذابِ الٰہی کا مزہ چکھا۔ وہ ایک رات اس حال میں صبح تک پہنچے کہ خدا کے عذاب کے نازل ہونے سے ان کی آوازیں خاموش ہو چکی تھیں اور ان کے غرور و تکبر کا نشہ ختم ہو گیا تھا۔ہاں، ان کے جسم گل سڑ گئے، ان کے شہر خالی ہو گئے، اور ان کے آثار بھی اب نظر نہیں آتے۔
قارئین توجہ فرمائیں : یہ جملے کس قدر واضح اور روشن ہیں، اور پھر اس بات پر بھی غور کریں کہ ان واقعات کو گزرے کئی صدیاں بیت چکی ہیں، اس کے باوجود امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے انہوں نے انہیں خود دیکھا ہو اور ان کے حالات کو قریب سے مشاہدہ کیا ہو۔[2]








