امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت پر ائمہ اطہار علیہم السلام کی دلیل

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت پر ائمہ اطہار علیہم السلام کی دلیل

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے جن ذمہ داریوں کو بیان فرمایا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ سب کو قرآن اور ان کی عترت کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

انّی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی۔

جب ہم اہلبیت علیهم السلام کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اہلبیت علیهم السلام نے اپنی امامت کے اثبات کے لئے بارہا خطبۂ غدیر سے استدلال کیا ہے۔ اس استدلال سے واضح ہوتا ہے کہ «من کنت مولاه فهذا علی مولاه» سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مقصود امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی امامت ہے؛ اور چونکہ ائمہ اطہار علیہم السلام  کو ہر زمانے میں قرآن، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث اور دیگر امور کے فہم میں سب پر برتری حاصل ہے، اس لئے واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ جملہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مراد  امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی امامت و قیادت ہے، نہ کہ صرف دوستی اور محبت۔[1]

ائمۂ اطہار علیهم السلام اپنی امامت کے اثبات کے لئے نہ صرف خطبۂ غدیر سے استدلال کرتے تھے، بلکہ حضرت فاطمۂ زہرا علیهاالسلام نے بھی چند مواقع پر حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی امامت کے اثبات کے لئے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے خطبے سے استدلال فرمایا ہے۔ ہم حضرت زہرا علیها السلام کے استدلال کو کسی اور مقام پر ذکر کریں گے ۔

 


[1] ۔ رک: مقدّمۀ رسالة فی معنی المولی: ۵.

بازدید : 9