امیر المؤمنین حضرت امام علی علیه السلام کے غصب خلافت کے بارے میں عباس کے اشعار
عباس نے یہ اشعار کہے :
ما كنت أحسب هذا الامر منحرفا
عن هاشم ثمّ منهم عن أبی حسن
أليس اوّل من صلّی لقبلتكم
واعلم النّاس بالآثار والسّنن
واقرب النّاس عهدا بالنّبيّ ومن
جبريل عون له في الغسل والكفن
من فيه ما في جميع النّاس كلّهم
وليس في النّاس ما فيه من الحسن
من ذا الّذی ردّكم عنه فنعرفه
ها انّ بيعتكم من أوّل الفتن
میں یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ امر خلافت کو بنی ہاشم اور ان میں سے ابو الحسن (علی بن ابی طالب علیہما السلام) سے ہٹا دیا جائے گا۔ کیا وہ پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھی؟ کیا وہ لوگوں میں آثار اور سنن کوسب سے زیادہ نہیں جانتے ہیں؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے قریب عہد رکھنے والے نہیں ہیں؟ اور کیا یہ وہی نہیں ہیں جن کی جبرئیل نے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے غسل اور کفن میں مدد کی؟ یہ وہ شخصیت ہے کہ جو تمام لوگوں میں پائی جانے والی خوبیوں کی حامل ہے، لیکن جو خوبیاں ان میں ہیں وہ دوسروں میں نہیں پائی جاتیں۔
کس نے[1] تمہیں ان سے منصرف کر دیا تاکہ ہم بھی اسے پہچان لیں؟ جان لو! تمہاری یہ بیعت فتنوں کی پہلی کڑی ہے۔
كتاب سليم سے روایت:
۱. بحار الأنوار: ۲۸ / ۲۸۴.
دیگر کتب سے روایت:
۱. شرح نهج البلاغه ابن ابی الحديد: ۱ / ۳۲.
۲. شرح نهج البلاغه ابن ابی الحديد: ۱ / ۷۳.
۳. كتاب الجمل (شيخ مفيد): ۵۹.
۴. فرائد السمطين: ۲ / ۸۲.
۵. تاريخ يعقوبی: ۲ / ۱۰۳.
۶. درر بحر المناقب: ص۷۴.








