پہلی صدی ہجری سے توسل
پہلی صدی ہجری سے اہل مغرب کا اہلبیت علیهم السلام کی طرف رجحان
مغرب میں پہلی صدی ہجری سے ہی اہلبیت علیهم السلام کو ایک بلند اور عظیم مقام حاصل تھا۔ بربر قبائل اہلبیت علیهم السلام کو اپنی پوری نہ ہونے والی خواہشات کا مظہر سمجھتے تھے، جیسے سماجی انصاف، مساوات، برابری اور موجودہ معاشرے کی اصلاح۔
موسی لقبال کے مطابق مغرب کے تمام سنی باشندوں میں اہلبیت علیهم السلام سے محبت اور عقیدت پائی جاتی تھی۔وہ اہلبیت علیهم السلام سے نسبت کو اپنے لئے عزت و فخر سمجھتے تھے۔
بہت سے مواقع پر وہ اپنے بچوں کا نام «علی علیه السلام » رکھتے تھے، جبکہ معاویہ کے نام کے بارے میں اس طرح کی مثال نہیں ملتی۔[1]
’’ابن ابی الضیاف‘‘بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام سے محبت اہلِ افریقہ کے دین کا حصہ ہے۔ اس معاملے میں عالم اور جاہل کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ افریقہ اور مغرب میں خواتین دورانِ زچگی درد کم کرنے کے لئے «محمّد» اور «علی» کے نام سے توسل کرتی تھیں۔[2]
اہلبیت اطہار علیهم السلام سے محبت تمام بربر قبائل میں پائی جاتی تھی، خواہ وہ بُرانس ہوں یا بُتر۔ [3] اس محبت کا اظہار ان علویوں کی مدد کرنے میں بھی نظر آتا ہے جو بنی عباس کے کارندوں کی تعاقب کے وقت مغرب کی طرف پناہ لینے پر مجبور ہوتے تھے۔ اگرچہ یہ افراد پہلے ہی ان قبائل میں معروف یا بااثر نہیں تھے، لیکن پھر بھی ان کی عزت و تکریم کی جاتی تھی۔ یہ اکرام ان قبائل پر صرف اہلبیت علیہم السلام کے اثر و نفوذ کی وجہ سے تھا۔[4]
مغرب میں بعض عوامی عقائد اہلبیت علیہم السلام کے بَربَر قبائل میں نفوذ کی علامت سمجھے جاتے ہیں؛ مثلاً وہاں بہت سے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ “پنجہ کا نشان” ان کے عقیدے کے مطابق اہلبیت علیہم السلام اور اصحابِ کساء کی علامت ہے، جو انہیں نظرِ بد اور حسد سے محفوظ رکھتا ہے۔[5]
سلسلۂ شاذلیہ کے بانی’’ابوالحسن شاذلی‘‘اپنے مریدوں کو یہ نصیحت کرتے تھے کہ جب تمہیں مشکلات پیش آئیں تو انہیں دور کرنے کے لئے «یا محمد» اور «یا علی» کہا کرو۔[6] اہلبیت علیہم السلام اور بالخصوص حضرت علی علیہ السلام اور ان کے خاندان سے اس محبت اور عقیدت کو اصطلاحی معنی میں تشیع نہیں سمجھا جاتا ؛ کیونکہ مغرب کے مسلمان دیگر صحابہ کی فضیلت کے منکر نہیں تھے۔
بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ اہلبیت علیہم السلام سے اس محبت کا اظہار دراصل مغرب میں فاطمیوں کی دعوت و تبلیغ کے اثرات کا نتیجہ ہے۔[7]
اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ محبت اور رجحان فاطمی دعوت سے پہلے ، بلکہ پہلی صدی ہجری سے ہی موجود تھا۔
ادریسیوں اور بعد میں فاطمیوں نے افریقہ اور مغرب کے قبائل کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے جو تحریکیں چلائیں، وہ دراصل اہلبیت علیہم السلام کے نفوذ سے فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش تھیں۔ ادریسیوں ، فاطمی داعیوں اور بالخصوص ابو عبد الله نے اس اثر و رسوخ کو اپنے سیاسی و دعوتی مقاصد کے لئے بھرپور طریقے استعمال کیا تاکہ قبائل کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔
کیونکہ ابو عبد اللہ اور اس سے پہلے’’ ادریس بن عبد الله ادریسی‘‘ کا غلام ’’راشد‘‘نے ابتدا میں کسی اپنی واضح فرقہ وارانہ وابستگی کو ظاہر کئے بغیر اہلبیت علیہم السلام کے نام اور نسبت سے اپنی دعوت کا آغاز کیا۔
فاطمیوں کا اہلبیت علیهم السلام سے انتساب لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا ایک بہت اہم ذریعہ تھا؛ خصوصاً اس وقت جب اہلبیت علیهم السلام اور علویوں کے خلاف ہونے والے مظالم، جیسے قتل، جلاوطنی اور قید و بند کی خبریں لوگوں تک پہنچتی تھیں۔ اہلبیت علیهم السلام کی محبوبیت کی وجہ سے عباسیوں کے بارے میں یہ تصور پیدا ہو گیا تھا کہ اسلامی سرزمین کے ہر حصے پر علویوں کی حکومت یا امارت ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں۔
فاطمیوں کا اہلبیت علیهم السلام سے انتساب اس بات کا ایک ذریعہ تھا کہ وہ خود کو واحد مشروع (قانونی و جائز) حکومت کے طور پر پیش کریں اور اپنے مخالف حکمرانوں کو مشروعیت سے خالی قرار دیں۔انہوں نے اس حقیقت سے اغلبیوں (حنفی تمیمی مکتب کے پیروکار) اور اندلس کی حکومت کے ساتھ اپنے سیاسی و فکری نزاع میں فائدہ اٹھایا، جو امویوں سے تعلق رکھتی تھی۔ امویوں اور بنی ہاشم کے درمیان پہلے سے ہی حکومت کے مسئلے پر قدیم اور طویل کشمکش موجود تھی۔فاطمیوں نے اندلس کے اموی حکمرانوں کو اسلام کے مخالف، فاسق[8]، اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے مردود قرار دیا۔[9]، [10]
[1] ۔ موسى لقبال : پيشين : ۲۰۶.
[2] ۔ احمد بن ابى الضياف: اتّحاف اهل الزّمان بأخبار تونس ، المجلّد الأوّل ، تونس ، ۱۹۶۳ ء، ص ۱۲۱.
[3] ۔ مغرب کی علویوں سے محبت کے آثار ان کی اکثر تصانیف میں ظاہر ہیں۔ وہ بہت سے مشرقی مؤرخین کے برخلاف فاطمیوں کے نسب کو صحیح علوی نسب قرار دیتے تھے۔الباجی المسعودی کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو فاطمیوں کے نسب کا انکار کرتے ہیں، اور وہ دستاویز جو القادر باللہ کے دور میں فاطمی نسب کے انکار کے بارے میں لکھی گئی ہے، محکم اور مستند نہیں ہے۔
ر. ك : الباجى المسعودى ، الخلاصة النقيّة ، نسخه خطّى ، ورقه ۱۳۰، به نقل از موسى لقبال : پيشين :۲۰۶.
[4] ۔ رك : ابواسماعيل ابراهيم بن ناصر بن طباطبا: پيشين : ص۷۴ ـ۷۷، ۱۲۰ ـ۱۲۱، ۱۹۴ ـ۱۹۵ ؛ ابن عنبه : الفصول الفخريّة :۱۲۴ ـ ۱۲۶؛ ابن قتيبة : المعارف :۲۱۳.
[5] ۔ موسى لقبال : پيشين : ۲۰۶.
[6] ۔ احمد بن ابى الضياف : اتحاف اهل الزمان بأخبار تونس : ۱ / ۱۲۱.
[7] ۔ موسى لقبال : پيشين : ۲۰۷.
[8] ۔ قاضى نعمان : المجالس والمسايرات : ۲۱۴.
[9] ۔ ایضاً: ۱۰۶.
[10] ۔ زمينههاى پيدايش خلافت فاطميان : ۱۶۳.








